منت کے تیس روزے ایک ساتھ رکھنے ہوں گے؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
تیس روزے رکھنے کی منت مانی، تو ایک ساتھ رکھنے ہوں گے یا وقفہ وقفہ سے بھی رکھ سکتے ہیں؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
میرے والد کی طبیعت بہت خراب تھی میں نے منت مانی کہ اگر میرے والد صاحب صحت یاب ہوگئے، تو میں تیس روزے رکھوں گی، اب والد صاحب صحت یاب ہوچکے ہیں۔ تو کیا یہ روزے مجھے مسلسل رکھنے ہوں گے یا وقفہ وقفہ سے بھی رکھ سکتی ہوں ؟
جواب
پوچھی گئی صورت میں اگر مسلسل روزہ رکھنے کی دل میں نیت کی تھی یا زبان سے لفظ بولا تھا، تو اب منت کے 30 روزے مسلسل رکھنا ہوں گے۔ لیکن اگر زبان سے بھی مسلسل رکھنے کا کوئی لفظ نہیں بولا اور نہ ہی دل میں لگاتار رکھنے نیت تھی، تو اب لگاتار رکھنا ضروری نہیں وقفے وقفے سے بھی 30 روزے رکھے جاسکتے ہیں۔
بہار شریعت میں ہے: ”پے درپے کی شرط لگائی یا دل میں نیّت کی تو یہ بھی ضرور ہے کہ ناغہ نہ ہونے پائے اگر ناغہ ہوا، اگرچہ ایّام منہیّہ میں تو اب سے ایک مہینے کے علی الاتصال روزے رکھے یعنی یہ ضرور ہے کہ ان تیس دنوں میں کوئی دن ایسا نہ ہو، جس میں روزہ کی ممانعت ہے اور پے در پے کی نہ شرط لگائی، نہ نیّت میں ہے تو متفرق طور پر تیس روزے رکھ لینے سے بھی منت پوری ہو جائے گی۔ اور اگر عورت نے ایک ماہ پے در پے روزے رکھنے کی منّت مانی تو اگر ایک مہینہ یا زیادہ طہارت کا زمانہ اُسے ملتا ہے تو ضرور ہے کہ ایسے وقت شروع کرے کہ حیض آنے سے پیشتر تیس دن پورے ہو جائیں، ورنہ حیض آنے کے بعد اب سے تیس پورے کرنے ہوں گے اور اگر مہینہ پورا ہونے سے پہلے اُسے حیض آجایا کرتا ہے تو حیض سے پہلے جتنے روزے رکھ چکی ہے، انہیں حساب کر لے جو باقی رہ گئے، انہیں حیض ختم ہونے کے بعد متصلاً بلاناغہ پورا کرلے۔“ (بہار شریعت، جلد 1، صفحہ 1017، مکتبۃ المدینہ)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا رضا محمد عطاری مدنی
فتوی نمبر: Web-2616
تاریخ اجراء:01 جمادی الاولٰی 1447ھ/24 اکتوبر 2025ء