روزے کی حالت میں مشت زنی کا حکم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
روزے کی حالت میں مشت زنی کرنے سے روزے کا حکم ؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
روزے کی حالت میں مشت زنی (Masturbation) ہو گئی ہو تو کیا حکم ہے اور اس کا کتنا کفارہ دینا ہوگا؟
جواب
مشت زنی کرنا ناجائز و حرام اور سخت قبیح فعل ہے، اور روزے کی حالت میں اس کی قباحت اور زیادہ ہے۔ بہر حال روزے میں مشت زنی کی اور انزال ہو گیا تو روزہ ٹوٹ جائے گا، ایسے شخص پر فرض ہے کہ مشت زنی اور روزہ توڑنے کے گناہ سے توبہ کرے اور آئندہ اس حرکت سے باز رہے، نیز بعد میں اس روزے کی قضا رکھے، البتہ اس صورت میں کفارہ لازم نہیں۔
امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ/1921ء) لکھتے ہیں: ”یہ (مشت زنی) فعلِ ناپاک حرام و ناجائز ہے، اللہ جل و عَلا نے اس حاجت کے پورا کرنے کو صرف زوجہ و کنیز شرعی بتائی ہیں، اور صاف ارشاد فرما دیا ہے کہ
﴿فَمَنِ ابْتَغٰى وَرَآءَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْعٰدُوْنَ (۳۱)﴾
جو اس کے سو ا اور کوئی طریقہ ڈھونڈھے تو و ہی لوگ ہیں حد سے بڑھنے والے۔ ( سورة المعارج 70، آیت 31) حدیث میں ہے: " ناکح الید ملعون" جلق لگانے والے پر اللہ تعالی کی لعنت ہے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 22، صفحہ 202، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
علامہ مجد الدین عبد اللہ بن محمود الموصلی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 683ھ/1284ء) لکھتے ہیں:
”ولو استمنى بكفه أفطر لوجود الجماع معنى ولا كفارة لعدم الصورة“
ترجمہ: اور اگر کسی شخص نے مشت زنی کی تو معنی کے اعتبار سے جماع پائے جانے کی وجہ سے روزہ ٹوٹ جائے گا، البتہ جماع کی صورت (یعنی حقیقی جماع) نہ ہونے کی وجہ سے کفارہ نہیں۔ (الاختيار لتعليل المختار، کتاب الصوم، فصل من أفطر عامدا في رمضان، جلد 1، صفحہ 132-133، مطبعة الحلبي، قاهرہ)
علامہ سید احمد بن محمد طحطاوی حنفی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1231 ھ/1815ء) لکھتے ہیں:
”ولو استمنى بكفه فعامة المشايخ أفتوا بفساد الصوم وهو المختار كما في القهستاني وفي الخلاصة لا كفارة عليه ولا يحل هذا الفعل خارج رمضان أيضا إن قصد قضاء الشهوة“
ترجمہ: اگر کوئی مشت زنی کر لے تو اکثر مشائخ نے روزے کے فاسد ہونے کا فتوی دیا ہے، اور یہی مختار قول ہے جیسا کہ قہستانی میں ہے، اور خلاصۃ میں ہے کہ اس پر کفارہ لازم نہیں۔ یہ فعل رمضان کے علاوہ بھی حلال نہیں جبکہ اس سے شہوت پوری کرنا مقصود ہو۔ (حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح، کتاب الصوم، باب في بيان ما لا يفسد الصوم، صفحہ 658، دار الکتب العلمیة، بیروت)
امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ/1921ء) لکھتے ہیں: ”جلق سے روزہ نہیں ٹوٹتا جب تک اس سے انزال نہ ہو۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 10، صفحہ 596، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1129
تاریخ اجراء: 5 شوال المكرم 1447ھ/25 مارچ 2026ء