logo logo
AI Search

روزے میں بیوی کی شرمگاہ میں انگلی رکھنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

روزے کی حالت میں شوہر بیوی کی شرمگاہ میں انگلی داخل کرے تو روزے کا حکم

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

اگر مرد عورت کی شرمگاہ میں آلہ تناسل کے علاوہ کوئی اور چیز رکھے مثلاً انگلی، اور دونوں کا روزہ ہو، تو اس سے پاکی اور روزے کا کیا حکم ہوگا۔

جواب

مرد نے عورت کی شرمگاہ میں آلہ تناسل کے علاوہ انگلی وغیرہ کوئی چیز رکھی، تو اگر کسی کو انزال نہیں ہوا، تو کسی پر غسل فرض نہیں ہوگا، کیونکہ غسل کے واجب ہونے کا کوئی سبب (حشفہ کا غائب ہونا یا انزال ہونا) نہیں پایا گیا، اور اگر کسی کو انزال ہوگیا، تو جس کو انزال ہوا، اس پر غسل فرض ہو گا۔ نیز یہی حکم روزے کا بھی ہے کہ اگر کسی کو بھی انزال نہیں ہوا، توکسی کا روزہ نہیں ٹوٹے گا، اور اگر کسی کو انزال ہوگیا، تو جس کو انزال ہوا، اور اسے روزہ دار ہونا یاد تھا، تو اس کا روزہ ٹوٹ جائے گا، اور اس کی قضا لازم ہوگی۔

نیز یہ یاد رہے کہ! میاں بیوی کو اگر انزال ہونے یا جماع میں مبتلا ہو جانے کا اندیشہ ہو، تو روزے کی حالت میں یہ عمل مکروہ و ممنوع ہے۔

فتاوی عالمگیری میں ہے

(السبب الثاني الإيلاج) الإيلاج في أحد السبيلين إذا توارت الحشفة يوجب الغسل على الفاعل و المفعول به أنزل أو لم ينزل و هذا هو المذهب لعلمائنا

ترجمہ: غسل لازم ہونے کا دوسرا سبب، اگلے پچھلے مقام میں سے کسی ایک میں، شرمگاہ کو داخل کرنا ہے، جبکہ حشفہ چھپ جائے، اس صورت میں فاعل اور مفعول دونوں پر غسل لازم ہوگا، چاہے انزال ہوا یا نہ ہوا ہو، یہی ہمارے علماء کا مذہب ہے۔ (فتاوی عالمگیری، جلد 1، صفحہ 15، مطبوعہ: کوئٹہ)

مذکورہ صورت میں انزال ہوگا، تو روزہ ٹوٹے گا، ورنہ نہیں۔ فتاوی عالمگیری میں ہے

و إذا قبل امرأته، و أنزل فسد صومه من غیر کفارۃ کذا فی المحیط ۔۔۔ و المس و المباشرة و المصافحة و المعانقة كالقبلة، كذا في البحر الرائق

ترجمہ: اور جب آدمی اپنی بیوی کا بوسہ لے اور اسے انزال ہو جائے، تو اس کا روزہ ٹوٹ جائے گا لیکن کفارہ لازم نہیں ہوگا، اسی طرح محیط میں ہے، اور چھونے، مباشرت، مصافحے اور معانقے کا وہی حکم ہے جو بوسہ لینے کا ہے۔ (فتاوی عالمگیری، کتاب الصوم، جلد 1، صفحہ 204، مطبوعہ: کوئٹہ)

فتاوی عالمگیری میں ہے

الصوم إنما يفسد في جميع الفصول إذا كان ذاكرا للصوم، و إلا فلا، هكذا في الزاهدي.

ترجمہ: تمام صورتوں میں روزہ اسی وقت فاسد ہوگا، جبکہ اس روزہ یاد ہو، وگرنہ فاسد نہیں ہوگا، اسی طرح زاھدی میں ہے۔ (فتاوی عالمگیری، کتاب الصوم، جلد 1، صفحہ 204، مطبوعہ: کوئٹہ)

درِ مختار میں ہے

(و) كره (قبلة) و مس و معانقة ۔۔۔ (إن لم يأمن) المفسد

ترجمہ: روزے دار کے لئے بوسہ لینا، بدن چھونا اور معانقہ کرنا مکروہ ہے جبکہ رزوہ توڑنے والی چیز سے امن نہ ہو۔

اس کے تحت رد المحتار میں ہے

(قوله: إن لم يأمن المفسد) أي الإنزال أو الجماع

ترجمہ: (مصنف کا قول: روزہ توڑنے والی چیز سے امن نہ ہو) یعنی انزال و جماع سے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، جلد 3، صفحہ 454 - 455، مطبوعہ: کوئٹہ)

امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: انگلی فرج میں داخل کرنے سے عورت کا روزہ صرف چار صورت میں فاسد ہوگا: ایک یہ کہ انگلی داخل کرنے سے اُسی حالت میں کہ انگلی فرج کو مَس کررہی ہے عورت کو انزال ہوجائےلو جود معنی الفطر و ھو الامناء عن مباشرۃ۔۔۔ان میں برابر ہے خواہ انگلی مرد کی ہو یا عورت خود اپنی انگلی داخل کرے اگر چہ بدن صاف کرنے کو۔ (فتاوی رضویہ، ج 10، ص 482، 483، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

فتاوی رضویہ میں ہے (روزہ کی حالت میں بیوی کو) لپٹانا یا بوسہ لینا یا بدن چُھونا ان میں اگر بہ سبب غلبۂ شہوت فسادِ صوم کا اندیشہ ہو یعنی خوف ہے کہ صبر نہ کرسکے گا اور معاذاﷲ جماع میں مبتلا ہوجائے گا یا بلا جماع ہی ان افعال کی حالت میں انزال ہوجائے گا، تو یہ سب فعل مکروہ و ممنوع ہیں اور اگر یہ اندیشہ نہ ہو، تو کچھ حرج نہیں۔ مگر مباشرتِ فاحشہ یعنی ننگے بدن لپٹانا کہ ذَکر فرج کو مس کرے روزے میں مطلقاً مکروہ ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 10، صفحہ 552، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4852
تاریخ اجراء: 01 رمضان المبارک 1447ھ / 19 فروری 2026ء