logo logo
AI Search

روزے میں غرغرہ کرنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

روزے میں غرغرہ کرنے کا حکم

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا روزے میں غرغرہ کرنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟

جواب

اگر روزے کی حالت میں غرغرہ کیا، اور روزہ یاد ہوتے ہوئے پانی حلق سے نیچے اتر گیا، تو روزہ ٹوٹ جائے گا، اور اس کی قضا لازم ہوگی۔ اس لئے روزے کی حالت میں غرغرہ نہیں کرنا چاہیے، کہ روزہ فاسد ہونے کا خوف ہے۔ البتہ! اگر حلق سے پانی نیچے نہیں اترا، تو روزہ نہیں ٹوٹے گا، اسی طرح اگرغرغرہ کے دوران جب حلق سے پانی نیچے اترا، اس وقت اپنا روزہ دار ہونا یاد نہیں تھا، تو اس سے بھی روزہ نہیں ٹوٹے گا۔مراقی الفلاح شرح نور الایضاح میں ہے

(و) یسن (المبالغۃ فی المضمضۃ) و ھی ایصال الماء لراس الحلق (و) المبالغۃ فی (الاستنشاق) و ھی ایصالہ الی فوق المارن (لغیر الصائم) و الصائم لا یبالغ فیھما خشیۃ افساد الصوم۔ لقولہ علیہ الصلاۃ و السلام : بالغ فی المضمضۃ و الاستنشاق الا ان تکون صائما

ترجمہ: اورکلی کرنے میں مبالغہ یعنی حلق کی جڑ تک پانی پہنچانا اور ناک میں پانی چڑھانے میں مبالغہ یعنی ناک کے نرم گوشے سے اوپر تک پانی پہنچانا اس شخص کے لئے سنت ہے جو روزے سے نہ ہو جبکہ روزہ دار ان دونوں چیزوں میں روزہ ٹوٹنے کے خطرے کے پیشِ نظر مبالغہ نہیں کرے گا۔ اس لئے کہ نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا کہ کلی کرنے اور ناک میں پانی چڑھانے میں مبالغہ کرو مگر یہ کہ روزے سے ہو (تو مبالغہ نہ کرو)۔ (مراقی الفلاح شرح نور الایضاح،جلد1، صفحہ53، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

فتاوی عالمگیری میں ہے

و ان تمضمض او استنشق فدخل الماء جوفہ ان کان ذاکرا لصومہ فسد صومہ و علیہ القضاء و ان لم یکن ذاکرا لا یفسد صومہ کذا فی الخلاصۃ و علیہ الاعتماد

ترجمہ: اور اگر کسی شخص نے کلی کی یا ناک میں پانی چڑھایا اور پانی پیٹ میں داخل ہو گیا تو اگر روزہ دار ہونا یاد ہے تو روزہ جاتا رہا اور اس پر قضاء ہے اور اگر روزہ ہونا بھول گیا ہو تو نہ ٹوٹے گا، ایسے ہی خلاصہ میں ہے اوراسی پر اعتماد ہے۔ (فتاوی عالمگیری، جلد 1، صفحہ 202، مطبوعہ: کوئٹہ)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: کلی کر رہا تھا بلا قصد پانی حلق سے اتر گیا یا ناک میں پانی چڑھایا اور دماغ کو چڑھ گیا روزہ جاتا رہا مگر جب کہ روزہ ہونا بھول گیا ہو تو نہ ٹوٹے گا اگرچہ قصداً ہو۔ (بہارِ شریعت، جلد 1، حصہ 5، صفحہ 987، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد ابوبکر عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4850
تاریخ اجراء: 28 رمضان المبارک1447ھ / 18مارچ2026ء