logo logo
AI Search

روزے کی حالت میں خون ٹیسٹ کروانے کا حکم

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

روزے کی حالت میں خون ٹیسٹ کروانا کیسا ؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

ہماری بلڈ ٹیسٹ کی اپائنٹمنٹ رمضان میں ہے، تو کیا اسے ہم اٹینڈ کر سکتے ہیں؟ اس سے روزہ تو نہیں ٹوٹے گا؟

جواب

روزے کی حالت میں خون نکلوانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا، البتہ اتنی مقدار میں خون نکلوانا کہ جس سے کمزوری لاحق ہو اور روزہ پورا کرنا دشوار ہو جائے، یہ مکروہ ہے۔ ظاہر ہے کہ بلڈ ٹیسٹ میں عموماً اتنا خون نہیں نکالا جاتا جس سے کمزوری کا اندیشہ ہونے لگے، لہذا روزے کی حالت میں بلڈ ٹیسٹ کروانے میں کوئی مضائقہ نہیں۔

علامہ مخدوم محمد ہاشم ٹھٹھوی حنفی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1174ھ/1761ء) لکھتے ہیں:

 ”وأما الاحتجام فلا بأس به إذا أمن على نفسه الضعف، أما إذا خاف أنه يضعفه عن الصوم فهو مكروه كذا في البحر الرائق والفصد يكون نظير الحجامة وذكر شيخ الإسلام أن شرط الكراهة ضعف يحتاج فيه إلى الفطر كذا في التاتارخانية“

ترجمہ: رہا پچھنے لگوانا تو اس میں کوئی حرج نہیں جب آدمی کو اپنے آپ پر کمزوری کا اندیشہ نہ ہو۔ بہر حال اگر اسے خوف ہو کہ پچھنے لگوانا روزے کے حوالے سے اسے کمزور کر دے گا تو یہ مکروہ ہے، جیسا کہ البحر الرائق میں ہے، اور فصد پچھنے لگوانے ہی کی مثل ہے۔ شیخ الاسلام نے ذکر کیا کہ کراہت کی شرط ایسی کمزوری ہے جس میں روزہ توڑنے کی حاجت پیش آ جائے، جیسا کہ التاتارخانیہ میں ہے۔ (مظهر الأنوار، فصل فيما يكره في الصوم ومالا يكره، صفحہ 351، دار النعيمي، کراچی)

امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ/1921ء) لکھتے ہیں: ” فصد سے روزہ نہ جائے گا، ہاں ضعف کے خیال سے بچے تو مناسب۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 10، صفحہ 487، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

مفتی عبد الواجد نیّر قادری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1439ھ/2018ء) سے انجکشن کے ذریعے خون نکلوانے کے متعلق سوال ہوا کہ عموماً ڈاکٹر لوگ مریض کے مرض کی تحقیق کرنے سے تقریباً ایک ہفتہ پہلے اس کا خون بذریعہ سرنج اور سوئی کے نکالتے یا نکلواتے ہیں، جس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ کلائی یا کہنی کی کسی ممتاز رَگ میں سرنج کی سوئی ڈال کر تین چار چھوٹی شیشیاں خون نکال لیتے ہیں، تو آپ نے جواباً فرمایا: ”صورت مسئولہ میں روزہ تو نہیں جائے گا، لیکن اگر روزہ دار خون نکلوانے کے بعد نڈھال ہو جائے یا کمزوری کے سبب اسے روزہ رکھنا دشوار ہو جائے تو روزہ کی حالت میں اس قدر خون نکلوانا مکروہ ہے۔ روزہ دار اپنے اس شرعی عذر کو ڈاکٹروں کے سامنے پیش کر کے خون نکلوانے کے اوقات و تاریخ میں تبدیلی کر سکتا ہے۔“ (فتاوی یورپ، صفحہ 138-139، شبیر برادرز، لاھور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1130
تاریخ اجراء: 5 شوال المكرم 1447ھ/25 مارچ 2026ء