روزے کا فدیہ کون دے سکتا ہے؟ مکمل رہنمائی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
روزوں کا فدیہ کون دے سکتا ہے ؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
میرے والد بیماری کی وجہ سے کئی سالوں سے روزہ نہیں رکھتے، کیا میں ان کے روزوں کا فدیہ ادا کر سکتا ہوں؟ نیز یہ بھی بتا دیں کہ اس سال کی فدیے کی کل رقم کتنی بنے گی؟
جواب
قوانین شرعیہ کی رو سے روزہ رکھنے کی بجائے فدیہ دینے کی اجازت صرف ”شیخ فانی“ کو ہے۔ شیخ فانی اس بوڑھے شخص کو کہتے ہیں جو بڑھاپے کی وجہ سے اس قدر کمزور ہو چکا ہو کہ واقعی اس میں روزہ رکھنے کی بالکل طاقت نہ رہی ہو، نہ سردی میں نہ گرمی میں، نہ لگاتار نہ وقفے وقفے سے، اور نہ ہی آئندہ زمانے میں طاقت لوٹ آنے کی امید ہو۔ جب تک ایسی کیفیت نہ ہو روزوں کا فدیہ دے کر خود کو سبکدوش سمجھنا درست نہیں۔ پس اگر آپ کے والد صاحب ایسے شیخ فانی نہیں تو فدیہ دینا کافی نہیں ہوگا، بہر کیف جیسے ممکن ہو روزے ہی رکھنے ہوں گے، مثلاً گرمیوں میں نہیں رکھ سکتے تو سردیوں میں رکھ لیں یا اکٹھے نہیں رکھ سکتے تو وقفے وقفے سے رکھ لیں اور بعد میں بقیہ کی قضا کر لیں۔ تاہم اگر وہ واقعی شیخ فانی کی حد کو پہنچ چکے ہیں اور ان کے لیے روزہ رکھنا ممکن نہیں ہے تو انہیں شرعاً رخصت ہوگی اور ان پر روزے رکھنے کی بجائے فدیہ ادا کرنا واجب ہوگا، اور اس صورت میں اپنے والد صاحب کی اجازت کے ساتھ آپ بھی ان کی طرف سے یہ فدیہ ادا کر سکتے ہیں۔ بس یہ یاد رکھیں کہ والد کی اجازت کا ہونا ضروری ہے۔
روزوں کا فدیہ یہ ہے کہ ہر روزے کے بدلے ایک مسکین کو دونوں وقت بھر پیٹ کھانا کھلایا جائے یا ہر روزے کے بدلے ایک صدقہ فطر کی مقدار مسکین کو دے دی جائے۔ ایک صدقہ فطر کی کم سے کم مقدار 1920 گرام گندم یا اس کا آٹا یا اس کی قیمت ہے۔ رقم سے فدیہ ادا کرتے وقت مقامی قیمت کا اعتبار ہوگا جو کہ ہر جگہ مختلف ہو سکتی ہے۔
امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ/1921ء) لکھتے ہیں: ”بعض جاہلوں نے یہ خیال کر لیا ہے کہ روزہ کا فدیہ ہر شخص کے لیے جائز ہے، جبکہ روزے میں اسے کچھ تکلیف ہو، ایسا ہر گز نہیں، فدیہ صرف شیخ فانی کے لیے رکھا ہے جو بہ سبب پیرانہ سالی حقیقۃً روزہ کی قدرت نہ رکھتا ہو، نہ آئندہ طاقت کی امید کہ عمر جتنی بڑھے گی ضُعف بڑھے گا، اس کے لیے فدیہ کا حکم ہے۔ “ (فتاوی رضویہ، جلد 10، صفحہ 521، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں: ”غرض یہ ہے کہ کفارہ اس وقت ہے کہ روزہ نہ گرمی میں رکھ سکیں نہ جاڑے میں، نہ لگاتار نہ متفرق، اور جس عذر کے سبب طاقت نہ ہو اس عذر کے جانے کی امید نہ ہو، جیسے وہ بوڑھا کہ بڑھاپے نے اسے ایسا ضعیف کر دیا کہ گنڈے دار روزے متفرق کر کے جاڑے میں بھی نہیں رکھ سکتا تو بڑھا پا تو جانے کی چیز نہیں ایسے شخص کو کفارہ کا حکم ہے، ہر روزے کے بدلے پونے دو سیر گیہوں اٹھنی بھر اوپر بریلی کی تول سے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 10، صفحہ 547، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
سیدی امام اہل سنت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں: ”شیخ فانی پر روزہ کا فدیہ حیات میں دینا واجب ہے اگر قادر ہو ... زندگی میں فدیہ صوم شیخ فانی پر اس کے کل مال میں ہے۔ “ (فتاوی رضویہ، جلد 10، صفحہ 545، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں: ”خورد و نوش یکجا ہو یا (نہ ہو) ان میں (ایک کو) دوسرے کی طرف سے کوئی فرض و واجب مالی ادا کرنے کے لیے اس کی اجازت کی حاجت ہے، اگر بالغ اولاد کی طرف سے صدقہ فطر یا اس کی زکوٰۃ ماں باپ نے اپنے مال سے ادا کر دی یا ماں باپ کی طرف سے اولاد نے اور اصل جس پر حکم ہے اس کی اجازت نہ ہوئی تو ادا نہ ہوگی۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 10، صفحہ 139، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1367ھ/1948ء) لکھتے ہیں: ”شیخ فانی یعنی وہ بوڑھا جس کی عمر ایسی ہو گئی کہ اب روز بروز کمزور ہی ہوتا جائے گا، جب وہ روزہ رکھنے سے عاجز ہو یعنی نہ اب رکھ سکتا ہے نہ آئندہ اُس میں اتنی طاقت آنے کی امید ہے کہ روزہ رکھ سکے گا، اُسے روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے اور ہر روزہ کے بدلے میں فدیہ یعنی دونوں وقت ایک مسکین کو بھر پیٹ کھانا کھلانا اس پر واجب ہے یا ہر روزہ کے بدلے میں صدقہ فطر کی مقدار مسکین کو دیدے۔“ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 5، صفحہ 1006، مکتبة المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1116
تاریخ اجراء: 9 رمضان المبارک 1447ھ/27 فروری 2026ء