دو میں سے ایک بچہ نکلنے کے بعد آنے والا خون نفاس ہوگا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
دو بچوں میں سے ایک بچہ نکال لیا، اب جو خون آئے وہ نفاس ہوگا یا نہیں؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جوڑواں بچوں سے حاملہ خاتون کا ایک بچہ سات ماہ کا پیٹ میں فوت ہوگیا اور دوسرا بچہ زندہ تھا، ڈاکٹرز نے مردہ بچے کو نکال دیا جبکہ زندہ بچہ ابھی پیٹ میں ہے، عورت کوخون آنا شروع ہوگیا، تو یہ خون نفاس کا ہوگا یا نہیں؟
جواب
پوچھی گئی صورت میں پہلے بچے کے نکلنے بعد اگر خون آنا شروع ہوگیا، تو اس پر نفاس کے احکام جاری ہوجائیں گے اور نفاس کی انتہائی مدت یعنی 40 دن کا شمار بھی اسی وقت سے کیا جائے گا، نیز بچہ کے پیٹ میں فوت ہوجانے سے نفاس کے احکام پر کوئی اثر نہیں پڑتا، کیونکہ بہرحال چاہے بچہ زندہ پیدا ہو یا مردہ جب اس کا کوئی عضو (جیسے ہاتھ، پاؤں، انگلیاں) بن چکا ہو(جوکہ فقہائے کرام کی تصریحات کے مطابق 120 دن کے بعد بن جاتا ہے) تو بچے کے نکلتے ہی نفاس کے احکام جاری ہوجاتے ہیں۔
تنویر الابصار مع الدر المختا ر میں ہے:
(و سقط ظهر بعض خلقه كيد أو رجل) أو أصبع أو ظفر أو شعر، و لا يستبين خلقه إلا بعد مائة و عشرين يوما (ولد) حكما (فتصير) المرأة (به نفساء) ۔۔۔۔ فإن لم يظهر له شيء فليس بشيء، و المرئي حيض إن دام ثلاثا و تقدمه طهر تام و إلا استحاض
یعنی حمل ساقط ہوا اور اس کا کوئی عضو بن چکا تھا جیسے ہاتھ یا پاؤں یا انگلیاں یا ناخن یا بال، تو اس صورت میں وہ حکماً بچہ کہلائے گا اور عورت آنے والے خون کے ذریعے نفاس والی شمار ہوگی۔ یاد رہے کہ ایک سو بیس دن کے بعد ہی عضو کا بننا ظاہر ہوتا ہے۔۔۔ اور اگر اس حمل کا کوئی عضو ظاہر نہیں ہوا تھا تو اس صورت میں نفاس کا حکم نہیں ہوگا۔ البتہ اس صورت میں اگر یہ آنے والا خون تین دن تک جاری رہے اور اس سے پہلے پاکی کے پندرہ دن گزر چکے ہوں تو یہ خون حیض کا شمار ہوگا، ورنہ پھر استحاضہ کا شمار ہوگا۔ (تنویر الابصار مع الدر المختار، جلد 01، صفحہ 551 - 549، مطبوعہ کوئٹہ، ملتقطاً)
بہارِ شریعت میں ہے: جس عورت کے دو بچے جوڑواں پیدا ہوئے یعنی دونوں کے درمیان چھ مہینے سے کم زمانہ ہے، تو پہلا ہی بچہ پیدا ہونے کے بعد سے نفاس سمجھا جائے گا پھر اگر دوسرا چالیس دن کے اندر پیدا ہوا اور خون آیا، تو پہلے سے چالیس دن تک نفاس ہے پھر استحاضہ اور اگر چالیس دن کے بعد پیدا ہوا، تو اس پچھلے کے بعد جو خون آیا، استحاضہ ہے، نفاس نہیں مگر دوسرے کے پیدا ہونے کے بعد بھی نہانے کا حکم دیا جائے گا۔ (بھارِ شریعت، جلد 1، صفحہ 378، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
و اللہ اعلم عزوجل و رسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم
مجیب: مولانا محمد کفیل رضا عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-1977
تاریخ اجراء: 08ربیع الآخر1446ھ / 12اکتوبر2024ء