logo logo
AI Search

بلاشہوت منی نکلے تو غسل لازم ہوگا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

زور لگانے سے بلاشہوت منی نکلی تو کیا حکم ہے؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

اگر قبض کی وجہ سے زور لگایا اور پاخانہ کرتے وقت، بلاشہوت منی بھی نکل آئی تو کیا غسل لازم ہوگا؟

جواب

زور لگانے کی وجہ سے، بلاشہوت جو منی نکلی اس سے غسل لازم نہیں ہوا، کہ غسل لازم ہونے کے لیے ضروری ہے، کہ منی اپنی جگہ سے شہوت سے جدا ہوکر عضو سے نکلے، جبکہ قبض وغیرہ کی وجہ سے زور لگانے سے، جو بلاشہوت منی نکلتی ہے،وہ عموما اپنی جگہ سے شہوت کے ساتھ جدا نہیں ہوتی، اس لیے اس سے غسل لازم نہیں ہوتا۔

تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے

(و فرض) الغسل (عند) خروج (منی) من العضو۔۔۔ (منفصل عن مقرہ)۔۔۔ (بشھوۃ)

ترجمہ: اور غسل فرض ہو جاتا ہے جب منی اپنی جگہ سے شہوت کے ساتھ جدا ہو کر عضو سے خارج ہو۔

بشھوۃ کے تحت رد المحتار میں ہے

لو انفصل بضرب او حمل ثقیل علی ظھرہ، فلا غسل عندنا

ترجمہ: اگر مارنے سے یا کسی بھاری چیز کو پیٹھ پر اٹھانے سے جدا ہو گئی تو ہمارے نزدیک اس پر غسل واجب نہیں۔ (الدر المختار مع رد المحتار، جلد 1، صفحہ 325 - 326، مطبوعہ: کوئٹہ)

فتاویٰ عالمگیری میں ہے

و المني إذا خرج من غير شهوة بأن حمل شيئا فسبقه المني أو سقط من مكان مرتفع يوجب الوضوء

ترجمہ: اور منی جب شہوت کے بغیر خارج ہو اس طرح کہ کوئی چیز اٹھائی یا کسی بلند جگہ سے گرا اور منی نکل گئی تو اس سے (صرف) وضو واجب ہو گا۔ (فتاویٰ عالمگیری، جلد 1، صفحہ 10، مطبوعہ: کوئٹہ)

بہارِ شریعت میں ہے مَنی کا اپنی جگہ سے شَہوت کے ساتھ جدا ہو کر عُضْوْ سے نکلنا سببِ فرضیتِ غُسل ہے۔ اگر شَہوت کے ساتھ اپنی جگہ سے جدا نہ ہوئی بلکہ بوجھ اٹھانے یا بلندی سے گرنے کے سبب نکلی تو غُسل واجب نہیں ہاں وُضو جاتا رہے گا۔ (بہارِ شریعت، جلد 1، حصہ 2، صفحہ 321، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد حسان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4644
تاریخ اجراء: 25 رجب المرجب 1447ھ /15 جنوری 2026ء