دار الافتاء اھلسنت (دعوت اسلامی)
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بیان میں کہ جسم کے غیر ضروری بال صاف کرنے سے غسل فرض ہوتا ہے یا نہیں؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
جسم کے غیر ضروری بال، صاف کرنے سے غسل فرض نہیں ہوتا کیونکہ غسل فرض ہونے کے چند مخصوص اسباب ہیں جو عام طور پر معروف و مشہور ہیں جن میں سوال میں ذکر کردہ بات شامل نہیں ہے۔ کسی نے جہالت کی وجہ سے ایسی غلط بات کی ہے اس کی شَرْعاً کوئی حقیقت نہیں۔
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی فضیل رضا عطاری
تاریخ اجراء: ماہنامہ فیضان مدینہ اپریل 2018ء