گول حوض دہ در دہ کب کہلائے گا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
گول حوض دہ در دہ کب کہلائے گا؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
گول حوض ہو، تو اس کی پیمائش کس طرح کی جائے اور کتنی لمبائی چوڑائی ہوگی، تو وہ دَہ دَر دَہ کے حکم میں آئے گا؟
جواب
گول حوض کی پیمائش کرتے ہوئے لمبائی چوڑائی شمارنہیں کی جائے گی بلکہ حوض کی گولائی یا قطرسے اس کی پیمائش ہوگی۔ امام اہل سنت امام احمدرضاخان رحمۃ اللہ علیہ کی تحقیق کے مطابق اس کا دَور یعنی گولائی 35.449 گز یعنی 53.1735 فٹ ہوگی۔
امام اہلسنت شاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ سے سوال ہواکہ فقہاء حوض کی چار اقسام لکھتے ہیں: (۱) مدوّر (۲) مربع (۳) مثلث (۴) طول بلاعرض۔ آیا یہ چاروں قسمیں بلا اختلاف درست اور جائز ہیں یا ان میں سے کسی قسم میں اختلاف ہے اور جو قسم ان اقسام میں سے افضلیت رکھتی ہو استثناء کی جائے جواب سے بہت جلد تشفی فرمائیں۔
اس سوال کے جواب میں امام اہلسنت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: مدوّر مثلث مربع تو صرف اختلاف ہیات ہے اقسام جداگانہ نہیں جن کے احکام مختلف ہوں طول بلاعرض میں البتہ اختلاف ہے بعض کے نزدیک وہ مطلقاً آبِ کثیر نہیں اگرچہ سمرقند سے بخارا تک ہو اور صحیح ورجیح تریہ ہے کہ سو ۱۰۰ ہاتھ مساحت درکار ہے جس طرح بھی حاصل ہو
کما حققناہ فی فتاوٰنا بما لامزید علیہ
(اس کی تحقیق ہم نے اپنے فتاوٰی میں کی ہے جس پر زیادہ کی ضرورت نہیں۔ ت) اسی اختلاف کی بنا پر مدوّر ومثلّث کی مساحتوں میں بھی اختلاف پڑے گا جن کے نزدیک دس ۱۰ ہاتھ طول دس ۱۰ ہاتھ عرض دونوں کا ہونا ضرور ہے مدوّر کا رقبہ ۱۸۳ ہاتھ سے بھی زیادہ ہونا چاہے اور مثلث کی ہر ضلع ساڑھے اکیس ہاتھ ۸/۳ گرہ اور قول مختار پر مدوّر کا قطر پانچ گز دس ۱۰ گرہ ایک اُنگل یا گیارہ ہاتھ دو گرہ ایک انگل کہیے اور مثلث کی ہر ضلع پندرہ ہاتھ اور ۵/۱ ہاتھ
کمابینا فی رسالتنا الھنیئ المنیر فی الماء المستدیر و ھو من رسائل فتاوٰنا
(جیسا کہ ہم نے اپنے رسالے الھنیہ المنیر فی الماء المستدیر میں جو کہ ہمارے فتاوٰی کے رسائل میں سے ہے، میں ذکر کیا ہے۔ ت) افضل بے شک یہی ہے کہ مربع مثلث مدوّر کیسا بھی ہو اُس کے اندر ایک مربع واقع ہوسکے جس کی ہر ضلع پانچ ہاتھ یا پندرہ فٹ ہو
لان الخروج عن الخلاف احوط و احسن بالاتفاق واللہ تعالٰی اعلم (فتاوی رضویہ، جلد 3، صفحہ 250، رضا فاؤنڈیشن لاہور)
گول حوض کا دور بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں: اقول تحقیق یہ ہے کہ اس کا دور تقریبا ساڑھے پینتیس ہاتھ چاہیے یعنی 35٫449 تو قطر تقریبا ساڑھے پانچ گز10 گرہ ایک انگل یعنی 11٫284 ہاتھ۔ (فتاوی رضویہ، جلد 2، صفحہ 287، رضا فاؤنڈیشن لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا فرحان احمد عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-1942
تاریخ اجراء: 16جمادی الاولیٰ1446ھ/19نومبر2024ء