logo logo
AI Search

حیض کی عادت کے بعد اسپاٹنگ ہو تو نماز دہرانی ہوگی؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

حیض کی عادت کے مطابق پاک ہونے کے ایک دن بعد داغ لگے تو کیا حکم ہے؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ عام طور پر چار دن پیریڈز آتے ہوں مگر اس بار جب چوتھے دن پر غسل کر لیا تو پانچویں دن میں پھر سپاٹنگ ہو گئی اور پانچویں دن پھر غسل کرنا پڑا تو ان نمازوں کا کیا حکم ہوگا جو پہلے غسل کے بعد پڑھیں؟

جواب

پوچھی گئی صورت میں چوتھے دن کے غسل سے پانچویں دن کی سپاٹنگ تک کی نمازیں نہ ہوئیں؛ کیونکہ حیض کی اکثر مدت یعنی دس دن کے اندر اندر آنے والا خون حیض ہی شمار ہوتا ہے بشرطیکہ اس کے بعد پندرہ دن پاکی کے گزریں، پس پانچویں دن کی سپاٹنگ تک کا دورانیہ حیض ہے اور حائضہ کے لیے نماز معاف رکھی گئی ہے، لہذا ان نمازوں کی قضا بھی لازم نہیں۔

علامہ محمد عابد بن احمد سندی مدنی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1257ھ / 1841ء) درر شرح غرر کے حوالے سے لکھتے ہیں:

إذا عاودها الدم في العشرة بطل الحكم بطهارتها ويجب عليها الاغتسال

ترجمہ: جب خون دس دنوں کے اندر پھر سے لوٹ آئے تو عورت کی طہارت کا حکم باطل ہو جائے گا اور اس پر غسل کرنا واجب ہو گا۔ (طوالع الأنوار شرح الدر المختار، کتاب الطهارة، باب الحيض، جلد 1، صفحہ 246، مخطوطه)

علامہ ابن عابدین سید محمد امین بن عمر شامی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1252ھ / 1836ء) لکھتے ہیں:

لو عاد الدم بطل الحكم بطهارتها فكأنها لم تطهر.قال في التاتارخانية:و هذا إذا عاد في العشرة و لم يتجاوزها و طهرت بعد ذلك خمسة عشر يوما، فلو تجاوزها أو نقص الطهر عن ذلك فالعشرة حيض لو مبتدأة و إلا فأيام عادتها

ترجمہ: اگر خون دوبارہ آ جائے تو اس کی طہارت کا حکم باطل ہو جاتا ہے، گویا وہ پاک ہی نہیں ہوئی تھی۔ فتاوی تاتارخانیہ میں فرمایا: یہ اس صورت میں ہے جب خون دس دن کے اندر دوبارہ آ جائے اور اس سے تجاوز نہ کرے اور اس کے بعد وہ پندرہ دن پاک رہے۔ پس اگر خون دس دن سے تجاوز کر جائے یا طہر پندرہ دن سے کم ہو تو مبتدئہ کے لیے پورے دس دن حیض ہے اور اگر وہ مبتدئہ نہیں تو اس کی عادت کے دن (ہی حیض قرار پائیں گے)۔ (منهل الواردين على ذخر المتأهلين في مسائل الحيض، الفصل الثالث بيان أحكام انقطاع الدماء، صفحه 207، دار الفکر، بیروت)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

منها أن يسقط عن الحائض والنفساء الصلاة فلا تقضي

ترجمہ: حیض و نفاس کے احکام میں سے ہے کہ حائضہ اور نفاس والی عورت سے نماز ساقط ہو جاتی ہے، پس وہ اس کی قضا نہیں کرے گی۔ (الفتاوى الهندية، كتاب الطهارة، الباب السادس في الدماء المختصة بالنساء، جلد 1، صفحہ 38، دار الفکر، بیروت)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1367ھ / 1948ء) لکھتے ہیں: ان (حیض و نفاس کے) دنوں میں نمازیں معاف ہیں، ان کی قضا بھی نہیں، اور روزوں کی قضا اور دنوں میں رکھنا فرض ہے۔ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 2، صفحہ 380، مکتبة المدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1028
تاریخ اجراء: 02 رجب المرجب 1447ھ / 23 دسمبر 2025ء