دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
کیا عورت حیض کی حالت میں میلاد کا بیان کر سکتی ہے اور دعا و سلام وغیرہ بھی پڑھ سکتی ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
مخصوص ایام میں عورت کے لیےتلاوت کی نیت سے قرآن کریم کی کسی آیت یا اس کے کسی حصے کا پڑھنا جائز نہیں، اس کے علاوہ دیگر اذکار، کلمہ شریف، درود پاک وغیرہ پڑھ سکتی ہے، بیان کرسکتی ہے، یونہی قرآنِ کریم کی بھی وہ آیات جو دعا و ثناء وغیرہ پر مشتمل ہیں اور ان کا قرآن ہونا متعین نہیں تو انہیں دعا اور ثناء کی نیت سے پڑھ سکتی ہے، البتہ ثناء پر مشتمل وہ آیات جن کا قرآن ہونا متعین ہے، حائضہ کا انہیں پڑھنا جائز نہیں، جیسے وہ آیات جن میں رب تبارک و تعالی نے اپنے لئے متکلم کی ضمیریں ذکر فرمائیں، اسی طرح وہ آیات جن کے شروع میں لفظ "قل" موجود ہے انہیں لفظ ”قل“ کےساتھ پڑھنا بھی جائز نہیں ہے، ہاں اگروہ دعا یا ثنا پر مشتمل ہو اور لفظ ”قل“ کے بغیر، بنیت دعا یا ثناء پڑھیں تو جائز ہے۔
اس تفصیل کے مطابق عورت کیلئے مخصوص ایام میں دعا کرنا، درود و سلام پڑھنا، سلام کرنا اور یونہی بیان کرنا بالکل جائز ہے، البتہ بیان کرتے ہوئے تلاوت کی نیت سے قرآن کریم کی کسی آیت یا اس کے کسی حصے کا پڑھنا جائز نہیں ہوگا یونہی ثناء پر مشتمل وہ آیات جن کا قرآن ہونا متعین ہے انہیں پڑھنا بھی جائز نہیں ہوگا جیسا کہ اوپر بیان ہوا۔
تنویر الابصار و در مختار میں ہے:
(و لا باس) لحائض و جنب (بقراءۃ ادعیۃ و مسھا و حملھا، و ذکر اللہ تعالی و تسبیح)۔
جنبی اور حائضہ کے لیے دعائیں پڑھنے، انہیں چھونے، اٹھانے، ذکر اللہ اور اور تسبیح کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔“ (تنویر الابصار و در مختار مع رد المحتار، ج 1، ص 293، الناشر: دار الفكر - بيروت)
امام اہلسنت، الشاہ امام احمد رضا خان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”ثانیا آیت طویلہ کا پارہ کہ ایک آیت کے برابر ہو جس سے نماز میں فرض قراء ت مذہب سیدنا امام اعظم کی روایت مصححہ امام قدوری و امام زیلعی پر ادا ہوجائے جس کے پڑھنے والے کو عرفاً تالی قرآن کہیں جنب کو بہ نیت قرآن اُس سے ممانعت محل منازعت نہ ہونی چاہئے۔ ہاں جو پارہ آیت ایسا قلیل ہو کہ عرفاً اُس کے پڑھنے کو قرأت قرآن نہ سمجھیں اُس سے فرض قراء ت یک آیت ادا نہ ہو اتنے کو بہ نیت قرآن پڑھنے میں اختلاف ہے امام کرخی منع فرماتے ہیں امام ملک العلماء نے بدائع اور امام قاضی خان نے شرح جامع صغیر اور امام برہان الدین صاحبِ ہدایہ نے کتاب التجنیس والمزید اور امام عبدالرشید ولو لوالجی نے اپنے فتاوٰی میں اس کی تصحیح فرمائی ہدایہ و کافی و غیرہما میں اسی کو قوت دی در مختار میں اسی کو مختار کہا حلیہ و بحر میں اسی کو ترجیح دی تحفہ و بدائع میں اسی کو قول عامہ مشایخ بتایا ملخصا۔“ (فتاوی رضویہ، ج 01، ح 02، ص 1080، 1082، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
جن آیات کا قران ہونا متعین ہے، انھیں جنبی اور حائضہ وغیرہ کا بنیت ثناء پڑھنا حرام ہے، جیساکہ امام اہلسنت، الشاہ امام احمد رضا خان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”تمام کتب میں آیات ثنا کو مطلق چھوڑا اور اس میں ایک قید ضروری ہے کہ ضروری یعنی بدیہی ہونے کے سبب علماء نے ذکر نہ فرمائی وہ آیاتِ ثنا جن میں رب عزّوجل نے بصیغہ متکلم اپنی حمد فرمائی جیسے
و انی لغفار لمن تاب
اُن کو بہ نیت ثنا بھی پڑھنا حرام ہے کہ وہ قرآنیت کیلئے متعین ہیں بندہ اُنہیں میں انشائے ثنا کی نیت کرسکتا ہے جن میں ثنا بصیغہ غیبت یا خطاب ہے۔ یہاں ایک اور نکتہ ہے بعض آیتیں یا سورتیں ایسی ہی دعا و ثنا ہیں کہ بندہ ان کی انشا کرسکتا ہے بلکہ بندہ کو اسی لئے تعلیم فرمائی گئی ہیں مگر اُن کے آغاز میں لفظ قل ہے جیسے تینوں قل اور کریمہ ”قل اللھم مٰلک الملک“ان میں سے یہ لفظ چھوڑ کر پڑھے کہ اگر اس سے امر الٰہی مراد لیتا ہے تو وہ عین قرأت ہے اور اگر یہ تاویل کرے کہ خود اپنے نفس کی طرف خطاب کر کے کہتا ہے قل اس طرح کہہ یوں ثنا ودعا کر۔ تو یہ امر بدعا وثنا ہوا نہ دعا وثنا اور شرع سے اجازت اس کی ثابت ہوئی ہے نہ اُس کی۔“ (فتاوی رضویہ، ج 01، ح 02، ص 1113، 1114 مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد بلال عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-3551
تاریخ اجراء: 08شعبان المعظم 1446ھ / 07 فروری 2025ء