Halat e Haiz Mein Menstrual Cup Istemal Karna
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
حالتِ حیض میں مینسٹرل کپ استعمال کرنا
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ:
(1)کیا عورت کے لئے حیض کا خون روکنے کے لئے مینسٹرل کپ (Menstrual Cup) اور ٹیمپون (Tampon) استعمال کرنا جائز ہے؟
مینسٹرل کپ (Menstrual Cup) سلیکون(Silicon) ، ربڑ یا لیٹیکس جیسے میڈیکل گریڈ مواد سے تیار کیا جانے والا ایک لچکدار کپ ہوتا ہے، جسے فولڈ کرکے فرج ِداخل (vagina) کے اندر رکھا جاتا ہے۔ اس کے رکھنے کا انداز یہ ہے کہ مکمل کپ فرجِ داخل کے اندر رکھا جاتا ہے، جو اندر جا کر خود بخود کھل جاتاہے اور فرج ِداخل کی دیواروں کے ساتھ چِپک کر ایک ویکیوم سا بنا کر مہر بند (seal) ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد خون اس کے اندر جمع ہوتا رہتا ہے۔ مینسٹرل کپ کو ایک وقت میں 12 گھنٹے تک استعمال کیا جا سکتا ہے اور پھر نکالنے کے بعد دھو کر دوبارہ استعمال کرسکتے ہیں۔
اور ٹیمپون (Tampon) استعمال ماہواری کے دوران خون کو جذب کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ یہ بھی سینیٹری پیڈز کی طرح روئی سے بنااور چھوٹی سی سٹک کی طرح کا ہوتا ہے۔ اسے بھی فرجِ داخل میں رکھا جاتا ہےاور یہ خون کو جذب کرتا رہتا ہے۔ اور اس کے ساتھ متصل ایک دھاگہ سا باہر رہتا ہے جس کے ذریعے اس کو کھینچ کر باہر نکال لیا جاتا ہے۔ یہ دوبارہ قابلِ استعمال نہیں ہوتا۔
(2) اگر عورت مینسٹرل کپ یا ٹیمپون استعمال کرتی ہے، تو اس کے حیض کی ابتداء کب سے ہوگی ؟
جواب
مینسٹرل کپ (Menstrual Cup)اور ٹیمپون (Tampon) استعمال کرنے کا جو طریقہ سوال میں بیان کیا گیا ہے اس کی رو سے عورت کا یہ مینسٹرل کپ اور ٹیمپون استعمال کرنا مکروہ و ناپسندیدہ ہے، کیونکہ علماء نے یہ لکھا ہے کہ کوئی ایسی چیز استعمال کرنا جو مکمل طور پر عورت کی فرجِ داخلی (اندرونی شرمگاہ) کے اندر چلی جائے یہ نکاح بالید یعنی ہاتھ سے لذت لینے والی صورت کے مشابہ ہے، لہذا یہ مکروہ ہے اور اسی علت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس کراہت سے مراد کراہتِ تنزیہی ہے، کیونکہ یہ حقیقتاً نکاح بالید یعنی ہاتھ سے لذت حاصل کرنا نہیں اور نہ یہاں مقصود لذت حاصل کرنا ہوتا ہے بلکہ مقصود فقط خون کو فرجِ داخل کے اندر روکے رکھنا اور کپڑوں کو بچانا ہوتا ہے، لہٰذا یہ خود لذتی کے معنی میں نہیں کہ اسے مکروہ تحریمی قرار دیا جائے ، لیکن چونکہ اس میں ممنوعہ عمل سے ایک قسم کی مشابہت پائی جاتی ہے اس لئے علماء نے اسے ناپسند قرار دیا ہے۔
کرسف (ماہواری کا خون جذب کرنے کے لئے استعمال کی جانے والی روئی وغیرہ) کو مکمل طور پر فرج داخل کے اندر رکھنا مکروہ ہے۔ جیسا کہ منھل الواردین میں ہے: ”(ويكره وضعه) أي وضع جميعه (في الفرج الداخل)“ ترجمہ: اور کرسف کو مکمل طور پر فرج داخل میں رکھنا مکروہ ہے۔ (منهل الواردين من بحار الفيض على ذخر المتأهلين في مسائل الحيض، ص 84، مطبوعہ، دار سعادت، إسطنبول)
اسی حوالے سے محیط برہانی میں ہے:
”وعن محمد بن سلمة البلخي رحمۃ اللہ علیہ أنه يكره للمرأة أن تضع الكرسف في الفرج الداخل، قال: لأن ذلك يشبه النكاح بيدها“
ترجمہ: حضرت امام محمد بن سلمہ بلخی رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ عورت کا فرج داخل میں کرسف رکھنا مکروہ ہے؛ فرمایا: کیونکہ یہ نکاح بالید کے مشابہ ہے۔ (المحيط البرهاني، کتاب الطھارۃ، ج 1، ص، 215، دارالکتب العلمیۃ، بیروت)
کرسف کہاں رکھنا چاہیے، اس حوالے سے علامہ شامی شرح وقایہ کے حوالے سے لکھتے ہیں: ”وموضعه موضع البكارة، ويكره في الفرج الداخل. اهـ. “ یعنی کرسف رکھنے کا مقام وہی ہے بکارت کا مقام ہے، اور فرجِ داخلی (اندرونی شرمگاہ) میں رکھنا مکروہ ہے۔ (رد المحتار، جلد1، صفحہ 289، دار الفکر، بیروت)
امام اہل سنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ اس کی مزید وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
”(قوله: موضعُ البكارة): وهو فم الفرج الداخل لا فم الرحم۔۔۔۔ (قوله: ويكره في الفرج الداخل): أي: يكره تغييبه في الفرج الداخل، وإنّما يوضع على فمه، كما سيأتي۔۔۔۔ليس معنى قوله المارّ: (يكره في الفرج الداخل) أنّه يكره أن يكون شيء منه في الفرج الداخل، وذلك لأنّ هذا الوضع لا يغني شيئاً عمّا استحبّ لأجله الكُرسف، وإنّما المعنى أن يوضع الكرسف في فم الفرج الداخل، ولا يغيب فيه بل يبقى بارزاً في الفرج الخارج “
ملتقطا یعنی موضعُ البكارة (بکارت کا مقام) سے مراد فرج داخل کادَہانَہ ہے نہ کہ رحم کا۔ (فرج داخل میں رکھنا مکروہ ہے) یعنی: اس طرح رکھنا مکروہ ہے کہ روئی فرج داخل میں مکمل غائب ہو جائے، لہٰذا کرسف فرج داخل کے دہانے پر اسطرح رکھا جائے جس طرح آگے بیان ہوگا اور فرج داخل کے اندر جو رکھنا مکروہ ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کرسف کا تھوڑا سا حصہ بھی فرج داخل کے اندر چلا گیا تو یہ مکروہ ہو جائے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یوں رکھنے میں (کہ کرسف مکمل باہر ہو اور اندر بالکل کچھ حصہ بھی نہ ہو، اس سے) وہ فائدہ حاصل نہیں ہو گا، جس مقصد کے لیے کرسف کا رکھنا مستحب قرار دیا گیا ہے۔ بلکہ اس کا درست معنی یہ ہے کہ کرسف کو فرج داخل کے دَہَانے پر رکھا جائے یوں کہ مکمل طور پر اندر غائب نہ ہوجائے، بلکہ یہ فرج خارج میں باقی رہے اور نظر آتا رہے۔ (جدالممتار، کتاب الحیض، ج 2، ص324 ، مکتبۃالمدینہ، کراچی)
کرسف فرج داخل کے اندر رکھنا نکاح بالید کے معنی میں نہیں کیونکہ نکاح بالید جو ممنوع ہے اس میں شہوت پوری کرنا مقصود ہوتا ہے چنانچہ رد المحتار میں ہے:
”وأما إذا فعله لاستجلاب الشهوة فهو آثم اهـ.“
یعنی اگر اس نے یہ (عمل) شہوت کے حصول کے لیے کیا تو وہ گناہگار ہے۔ (رد المحتار، جلد 2، صفحہ 399، دار الفکر، بیروت)
اسی طرح طحطاوی علی الدر میں ہے: ”فالكراهة اذا كان لقضاء الشهوة“ یعنی کراہت اس صورت میں ہے جب یہ (عمل) شہوت پوری کرنے کے لیے کیا جائے۔ ( الطحطاوی علی الدر، جلد1 ، صفحہ 452، مطبوعہ کوئٹہ)
واضح رہے کہ مکروہ ہونے کی مذکورہ بالا علت ثیّبہ (یعنی جس عورت کی بکارت زائل ہو چکی ہو Non Virgin) اور باکرہ (Virgin) دونوں طرح کی عورتوں کے حق میں پائی جاتی ہے۔البتہ باکرہ عورت کو ایک اور اعتبار سے بھی اس سے بچنا چاہیے۔اور وہ یہ کہ اس طرح کی چیزوں کے استعمال سے باکرہ عورت کا پردہ بکارت زائل ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔اور باکرہ عورت کو ایسے کام سے بچنے کا حکم ہے کہ جس سے پردہ بکارت زائل ہونے کا اندیشہ ہو۔ حتی کہ اسی اندیشے کی وجہ سے علماء نے باکرہ عورت کو استنجاء کے وقت احتیاط کرنے کا حکم دیا ہے۔
علامہ ابنِ امیرِ حاج حلبی رحمۃ اللہ علیہ المقدمۃ الغزنویۃ کے حوالے سے لکھتے ہیں:
”ثم تبتدئ بغسل فرجها فتغسل بيدها اليسرى ظاهر الاسكتين وباطنهما ولا تدخل أصبعها في الحلقوم، “
یعنی پھر عورت اپنے فرج کو دھونا شروع کرے، پس وہ اپنی بائیں ہاتھ سے دونوں شرم گاہ کے لبوں کے ظاہر اور باطن کو دھوئے، اور انگلی کو حلقوم(یعنی فرج داخلی) میں داخل نہ کرے۔(حلبۃ، جلد 1، صفحہ 83، دار الکتب العلمیہ، بیروت)
اما م برہان الدین المرغینانی ر حمۃ اللہ علیہلکھتے ہیں: ” و لا تدخل إصبعها ؛ لأنها إذا أدخلت لعل تذهب عذرتها “ (جب عورت استنجاء کرے تو)وہ انگلی اندر داخل نہ کرے؛ کیونکہ اگر انگلی داخل کرے تو ممکن ہے اس کی بکارت زائل ہو جائے۔ (کتاب التجنیس والمزید، کتاب الطھارت، ج 1، ص293 ، مطبوعہ کراچی)
(2) اگر عورت نے حیض شروع ہونے سے پہلے ہی مینسٹرل کپ یا ٹیمپون کو یو ں رکھ لیا کہ اس کے جس حصے تک خون جمع ہوتا ہے وہ تمام کا تمام فرجِ داخل میں ہی رہا تو اب حیض کی ابتداء اس وقت سےشمار ہوگی کہ جب عورت اس کپ یا ٹیمپون کو باہر نکالے گی، کیونکہ شرعی طور پر حیض کا حکم اس وقت شروع ہوتا ہے جب خون فرج ِخارج میں ظاہرہو جائے۔ہاں اگر مینسٹرل کپ اور ٹیمپون اس طرح رکھا کہ اس میں خون جمع ہونے کا کچھ حصہ فرجِ خارج کی محاذات(برابر) میں رہا تو اب وہاں تک خون پہنچنے سے ہی حیض کی ابتداء ہو جائے گی۔
محیط برہانی میں ہے:
” وإذا وضعت المرأة الكرسف في الفرج الخارج وابتل الجانب الداخل منه دون الجانب الخارج فإن ذلك يكون حيضاً لأنه صار ظاهراً بہ فإن وضعته في الفرج الداخل وابتل الجانب الداخل منه دون الجانب الخارج لا يكون حيضاً، وإن نفذت البلة إلى الجانب الخارج فإن كان الكرسف عالیا عن جوف الفرج الداخل او كان محاذياً له فذلك حيض. وإن كان الكرسف متسفلاً متجافیاً عنه فذلك ليس بحيض.“
یعنی اور اگر عورت نے کرسف کو فرج کے بیرونی حصے میں رکھا اور اس کا اندرونی کنارہ تر ہو گیا، جبکہ بیرونی کنارہ تر نہ ہوا، تو یہ حیض شمار ہوگا، کیونکہ اتنے سےخون کا ظاہر ہونا شمار ہوگا۔ لیکن اگر اس نے اسے فرج داخل میں رکھا اور صرف اندرونی کنارہ تر ہوا، جبکہ بیرونی حصہ تر نہ ہوا، تو یہ حیض نہیں ہوگا۔اور اگر تری بیرونی کنارے تک پہنچ جائے تو: اگر وہ کرسف فرج داخل کے اندرونی حصے کے گہرائی والے حصے سے بلند ہو یا اس کے برابر ہو، تو یہ حیض ہے۔ اور اگر کرسف نیچے اور فرج داخل کے اندر ہے تو یہ حیض نہیں ہوگا۔ (المحیط البرھانی، جلد 1، صفحہ 400، ادارۃ التراث اسلامی، لبنان)
ردالمحتار میں ہے:
”أي ظهوره منه إلى خارج الفرج الداخل، فلو نزل إلى الفرج الداخل، فليس بحيض في ظاهر الرواية، وبه يفتى۔۔۔فبالبروز تترك الصلاة وتثبت بقية الأحكام “
ترجمہ: یعنی حیض کا رکن خون کا رحم سے نکل کر فرج داخل سےباہر ظاہر ہونا ہے۔لہذااگر خون فرج داخل کی طرف اترا(لیکن فرج خارج میں ظاہر نہ ہوا )تو وہ ظاہر الروایہ کے مطابق حیض نہیں ہےاور اسی پر فتوی ہے۔ پس خون کے فرج خارج میں ظاہر ہونے پر نماز چھوڑی جائے گی اور حیض کے بقیہ احکام بھی ثابت ہونگے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الطھارۃ، باب الحیض، جلد 1، صفحہ522- 23، مطبوعہ کوئٹہ)
صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃاللہ علیہ بہار شریعت میں فرماتے ہیں: ”حیض اس وقت سے شمار کیا جائے گا کہ خون فرجِ خارج میں آگیا، تو اگر کوئی کپڑا رکھ لیا ہے، جس کی وجہ سے فرجِ خارِج میں نہیں آیا، داخل ہی میں رُکا ہوا ہے، تو جب تک کپڑا نہ نکالے گی حیض والی نہ ہو گی۔ نمازیں پڑھے گی، روزہ رکھے گی۔“ (بھار شریعت، کتاب الطھارت، جلد 1، حصہ2، صفحہ 373، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: محمد ساجد عطاری
مصدق: مفتی ابوالحسن محمد ہاشم خان عطاری
فتویٰ نمبر: NRL-235
تاریخ اجراء: 10 صفر المظفر 1447 ھ/05 اگست 2025 ء