کانوں کا مسح سنت مؤکدہ ہے یا غیر مؤکدہ؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
وضو میں کانوں کا مسح سنتِ مؤکدہ ہے؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیاوضومیں کانوں کا مسح کرنا سنت مؤکدہ ہے؟
جواب
جی ہاں! وضو میں کانوں کا مسح کرنا سنتِ مؤکدہ ہے۔
چنانچہ الجوہر ۃ النیرہ میں ہے:
”(ومسح الاذنین) ھو سنۃ مؤکدۃ“
یعنی دونوں کانوں کا مسح کرنا سنتِ مؤکدہ ہے۔ (الجوہرۃ النیرۃ، جلد1، صفحہ 30، بیروت)
بہارِ شریعت میں ہے: ”پورے سر کا ایک بار مسح کرنا اور کانوں کامسح کرنا اور ترتیب کہ پہلے مونھ، پھر ہاتھ دھوئیں،پھر سر کا مسح کریں، پھر پاؤں دھوئیں(سننِ وضو میں سے ہے لہٰذا)اگر خلافِ ترتیب وُضو کیا یا کوئی اور سنت چھوڑ گیا تو وُضو ہو جائے گا مگر ایک آدھ دفعہ ایسا کرنا بُرا ہے اور ترکِ سنّتِ مؤکّدہ کی عادت ڈالی تو گنہگار ہے۔“ ( بہارشریعت، جلد1، صفحہ 296، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
واللہ اعلم و رسولہ اعلم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم
مجیب : مولانا جمیل احمد غوری عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-2353
تاریخ اجرا: 26ذوالحجۃالحرام1446ھ/23جون2025ء