logo logo
AI Search

کون سے موزوں پر مسح ہو سکتا ہے؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

کونسی جرابوں پر مسح ہو سکتا ہے ؟ ایک حدیث پاک کی شرح

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ ترمذی شریف کی حدیث پاک میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عمل موجود ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جرابوں پر مسح فرمایا ہے۔ چنانچہ امام ترمذی رحمہ اللہ حدیث پاک ذکر فرماتے ہیں:

”عن المغيرة بن شعبة، قال: توضأ النبی صلى اللہ عليه وسلم ومسح على الجوربين والنعلين۔ هذا حديث حسن صحيح“

جب حدیث پاک میں جرابوں پر مسح کا جواز موجود ہے اور حدیث بھی حسن صحیح ہے، تو پھر ہم جرابوں (یعنی کپڑے کی جرابیں جن پر اوپر نیچے کہیں بھی چمڑا موجود نہ ہو) پر مسح کرنے کو ناجائز کیوں سمجھتے ہیں؟

جواب

جرابیں دو طرح کی ہیں۔ ایک وہ جو موزوں کے قائم مقام ہوں۔ دوسری وہ جو موزوں کے قائم مقام نہ ہوں۔ موزوں کے قائم مقام جرابیں وہ ہیں جو یا تو مُجلَّد (اوپر اور نیچے چمڑے والی) ہوں یا منعَّل (صرف نیچے چمڑا ہو) یا پھر ثخین یعنی اتنی موٹی ہوں جس سے پانی فوراً جرابوں میں نفوذ نہ کرے، خود ہی پنڈلی پر رکی رہیں اور جوتے کے بغیر ان کے ساتھ مسلسل چلنا پھرنا، ممکن ہو۔ ایسی جرابوں پر مسح کرنا، احناف کے نزدیک بھی جائز ہےکہ موزوں کے قائم مقام ہونے کی وجہ سے موزوں پر مسح والی دلیل ہی ان پر مسح کی دلیل بنے گی، ان جرابوں پر مسح کے جواز کا تفصیلی فتوی دعوت اسلامی کے درالافتاء اہلسنت سے جاری ہوچکا ہے، جس کا لنک اس فتوے کے آخر میں موجود ہے۔ دوسری قسم کی جرابیں جو موزوں کے قائم مقام نہ ہوں، جیسے ہمارے ہاں مارکیٹ میں ملنے والی عام جرابیں، ان پر مسح کرنا، جائز نہیں ہے کہ مذکورہ حدیث سے ایسی جرابوں پر مسح کا جواز ثابت نہیں ہوتا، لہذا قرآن پاک کا جو پاؤں دھونے کا حکم ہے وہ برقرار رہے گا۔

سوال میں مذکور حدیث سے مارکیٹ میں ملنے والی عام جرابوں پر مسح کا جواز ثابت نہ ہونے کی وجوہات یہ ہیں:

اولا: اس حدیث کی تصحیح وتضعیف میں اختلاف ہے، اس حدیث کو صحیح قراردینے والےائمہ بھی موجود ہیں اور اس حدیث کو ضعیف قرار دینے والے بھی بڑے بڑے محدثین ائمہ ہیں، جنہوں نے اس حدیث کو قابلِ حجت و قابلِ عمل نہیں ٹھہرایا، اوراس حدیث کی وجہ سے قرآن کے حکم کو چھوڑنے پر متفق نہیں ہوئے۔

ثانیا: اگر اس حدیث کو قابلِ حجت مان بھی لیں، تو اس حدیث میں جرابوں سے مراد وہ جرابیں ہوں گی جو موزوں کے قائم مقام ہیں کہ خود امام ترمذی رحمہ اللہ کے الفاظ سےبھی یہی ظاہر ہوتا ہے، اور دیگر جلیل القدر ائمہ و محدثین نے بھی جہاں صحابہ و تابعین رضی اللہ عنھم اجمعین سے جرابوں پر مسح کا ذکر فرمایا، وہاں اسی پر ہی محمول کیا کہ یہ جرابیں ثخین ہوں یعنی جو موزوں کے قائم مقام ہیں جیساکہ اوپرذکرکیا گیا۔

سوال میں مذکور حدیث کی تصحیح و تضعیف میں اختلاف :

اس حدیث کے تحت ابوعبداللہ، علاء الدین مغلطائی مصری حنفی رحمہ اللہ سنن ابن ماجہ کی شرح میں فرماتے ہیں:

هذا حديث اختلف في تصحيحه وتضعيفه، فمن المصححين له أبو حاتم البستی، فذكره له فی كتابه: الصحيح، وأبو عيسى الترمذی بقوله: هو حسن صحيح، وذكره ابن حزم مصححا له ومحتجا به، وكذلك أبو الفرج فی كتاب التحقيق، وقال الطوسی فی أحكامه: يقال هذاحديث حسن صحيح. ومن المضعفين أبو داود فانه قال: أبو روايته، وكان عبد الرحمن بن مهدى لا يحدث بهذا الحديث لا المعروف عن المغيرة أن النبي صلى اللہ عليه وسلم مسح على الخفين وليس بالمتصل ولا بالقوى۔۔۔۔وقال عبد اللہ بن أحمد بن حنبل: حدث أبی بهذا الحديث فقال: ليس يروى الا من حديث أبی قيس وأبی عبد الرحمن بن مهدى أن يحدث به يقول هذا حديث منكر. وقال مهنأ: سألت أحمد عن حديث سفيان عن أبی قيس عبد الرحمن بن مروان عن هزيل، فقال: أحاديث أبی قيس ليست صحيحة المعروف عن المغيرة أن النبی صلى اللّه عليه وسلم مسح على الخفين

ترجمہ: اس حدیث کی تصحیح و تضعیف میں اختلاف کیا گیا ہے، تصحیح کرنے والوں میں امام ابوحاتم بستی (امام ابن حبان رحمہ اللہ) ہیں، انہوں نے اپنی کتاب ”الصحیح“ میں اسے ذکر کیا، امام ابو عیسی ترمذی ہیں جنہوں نے اسے حسن صحیح فرمایا۔ ابن حزم نے بھی اس کی تصحیح کی اور اس سے استدلال کیا، اسی طرح امام ابوالفرج (علامہ ابن جوزی رحمہ اللہ)نے اپنی کتاب ”التحقیق“ میں اس کی تصحیح کی اور استدلال کیا۔طوسی نے احکام میں کہا: کہاجاتا ہے کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اس حدیث کی تضعیف کرنے والوں میں امام ابوداؤد ہیں، انہوں نے فرمایا: عبدالرحمن بن مہدی نہ تو اس حدیث کو روایت کرتے تھے، اورنہ ہی حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے معروف روایت کو جو یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں پر مسح فرمایا۔نیز جرابوں پرمسح کی روایت متصل بھی نہیں ہے اور قوی بھی نہیں ہے۔ عبداللہ بن احمد بن حنبل رحمھما اللہ نے فرمایا کہ میرے والد صاحب (امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ) کو یہ حدیث بیان کی گئی، تو آپ نے فرمایا کہ یہ صرف ابوقیس سے ہی روایت کی جاتی ہے، اور عبدالرحمن بن مہدی نے اس حدیث کو روایت کرنے سے انکار فرمایا، فرماتے تھے کہ یہ حدیث منکر ہے۔ حضرت مھنا رحمہ اللہ نے فرمایا: میں نے امام احمد رحمہ اللہ سے

سفیان عن ابی قیس عبدالرحمن بن مروان عن ھزیل

کی سند سے روایت حدیث کے بارے میں پوچھا تو فرمایا: ابو قیس کی احادیث صحیح نہیں ہیں، حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے معروف روایت یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں پر مسح فرمایا ہے۔ (الاعلام بسنتہ علیہ الصلاۃ والسلام، جلد2، صفحہ659، مطبوعہ ریاض)

نصب الرایہ اور فتح القدیر میں ہے:

(النظم لنصب الرایہ)وقال النسائی فی سننه الكبرى: لا نعلم أحدا تابع أبا قيس على هذه الرواية، والصحيح عن المغيرة أنه عليه السلام مسح على الخفين، انتهى۔۔۔۔۔۔ وذكر البيهقی حديث المغيرة هذا، وقال: انه حديث منكر، ضعفه سفيان الثوری وعبدالرحمن بن مهدی وأحمد بن حنبل، ويحيى بن معين وعلی بن المدينی، ومسلم بن الحجاج، والمعروف عن المغيرة حديث المسح على الخفين، ويروى عن جماعة أنهم فعلوه، انتهى۔ قال النووی: كل واحد من هؤلاء لو انفرد قدم على الترمذی، مع أن الجرح مقدم على التعديل، قال: واتفق الحفاظ على تضعيفه، ولا يقبل قول الترمذی: انه حسن صحيح، انتهى

ترجمہ: امام نسائی رحمہ اللہ نے السنن الکبری میں فرمایا: ہم کسی کو نہیں جانتے جس نے ابو قیس کی اس روایت میں متابعت کی ہو، حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے صحیح روایت یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں پر مسح کیا۔۔۔۔ امام بیہقی رحمہ اللہ نے حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث ذکر کی اور فرمایا کہ یہ حدیث منکر ہے، اس حدیث کو حضرت سفیان ثوری، عبدالرحمن بن مھدی، امام احمد بن حنبل، امام یحیی بن معین، امام علی بن مدینی، امام مسلم بن حجاج رحمھم اللہ، ان سب نے ضعیف قراردیا ہے۔ حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے جو معروف روایت ہے وہ موزوں پرمسح کرنے والی ہے۔ ایک جماعت سے ایسی روایت ضرور ہے کہ انہوں نے جرابوں پر مسح کیا ہے۔ امام نووی رحمہ اللہ نے فرمایا: ان ائمہ میں سے کسی ایک کو بھی اگر لیا جائے تو اسے امام ترمذی رحمہ اللہ پرمقدم ہی کیا جائے گا، اس کے ساتھ ساتھ یہ قاعدہ بھی ہے کہ جرح، تعدیل پر مقدم ہوتی ہے۔ پھر فرمایا کہ حفاظ اس حدیث کے ضعیف ہونے پر متفق ہیں۔ لہذا امام ترمذی رحمہ اللہ کا حسن صحیح والا قول قبول نہیں کیا جائے گا۔ (نصب الرایہ، جلد1، صفحہ 184، مطبوعہ بیروت)

اس حدیث کی وجہ سے قرآن پاک کے حکم کو نہیں چھوڑا جائے گا۔امام بیہقی رحمہ اللہ، امام مسلم رحمہ اللہ کے حوالے سے نقل فرماتے ہیں:

قال: أبو قيس الأودی وهزيل بن شرحبيل لا يحتملان هذا مع مخالفتهما الأجلة الذين رووا هذا الخبر عن المغيرة فقالوا: مسح على الخفين وقال: لا نترك ظاهر القرآن بمثل أبی قيس وهزيل

ترجمہ: امام مسلم رحمہ اللہ نے فرمایا: ابو قیس اودی اور ہزیل بن شرحبیل، اجلہ رواۃ کی مخالفت کی وجہ سے اس حکم کو ثابت کرنے کی ذمہ داری نہیں اٹھا سکتے۔ اجلہ راویوں نے حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے یہ روایت کیا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں پر مسح کیا ہے۔ پھر فرمایا: ہم ابو قیس اور ہزیل کی مثل راویوں کی وجہ سے قرآن کے ظاہر کو نہیں چھوڑیں گے۔ (السنن الکبری، جلد1، صفحہ 425، مطبوعہ بیروت )

حدیث پاک کو اگر قابلِ حجت مانیں تو مراد وہ جرابیں ہیں جو موزوں کے قائم مقام ہیں:

امام بدرالدین ابو محمد محمود بن احمد العینی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

فان قيل: فمن أين يشترط أن يكون مجلدا أو منعلا، والحديث مطلق؟ قلت: الحديث محمول على ذلك ومراد منه ذلك، ليكون معنى الخف

ترجمہ: اگر کہا جائے کہ حدیث تو مطلق ہے، پھر جرابوں کے مجلد، منعل ہونے کی قید کہاں سے شرط کی گئی؟ تو میں اس کے جواب میں کہوں گا کہ حدیث کو ایسی ہی جرابوں پرمحمول کیا جائے گا اور حدیث سے ایسی ہی جرابیں مراد لی جائیں گی، تاکہ یہ جرابیں، موزوں کے معنی میں ہوجائیں۔ (شرح سنن ابی داؤد، جلد1، صفحہ213، مطبوعہ بیروت)

امام ابو زکریا محی الدین یحییٰ بن شرف النووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

”لو صح لحمل على الذي يمكن متابعة المشی عليه جمعا بين الأدلة“

ترجمہ: اگر جرابوں پر مسح والی روایت درست ہو، تو اسے اسی جراب پر محمول کریں گے جس کے ساتھ مسلسل چلنا ممکن ہوتا ہے تاکہ دلائل میں تطبیق ہوجائے۔ (المجموع شرح المھذب، جلد1، صفحہ 527، مطبوعہ سعودیہ)

فتح القدیرمیں ہے:

لا شك أن المسح على الخف على خلاف القياس فلا يصلح إلحاق غيره به الا إذا كان بطريق الدلالة وهو أن يكون فی معناه، ومعناه الساتر لمحل الفرض الذي هو بصدد متابعة المشی فيه فی السفر وغيره۔۔۔۔۔فوقع عنده أن هذا المعنى لا يتحقق إلا فی المنعل من الجورب فليكن محمل الحديث لأنها واقعة حال لا عموم لها، هذا ان صح كما قال الترمذی فی حديث المغيرة أنه عليه الصلاة والسلام توضأ ومسح على الجوربين والنعلين۔۔۔۔ ووقع عندهما أنه يمكن تحقيق ذلك المعنى فيه بلا نعل

ترجمہ: اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ موزے پرمسح کرنا، خلاف قیاس ہے، لہذا کسی بھی دوسری چیز کو موزے کے قائم مقام تب ہی کیا جاسکتا ہے جب کہ دلالت پائی جائے ، وہ اس طرح کہ دوسری چیز، موزے کے معنی میں ہو۔ موزے کا معنی یہ ہے کہ سفر اور غیرسفر میں مسلسل چلنے کے باوجود وہ چیز فرض والے محل کو چھپائے رہے۔۔۔۔امام اعظم رحمہ اللہ کے نزدیک یہ معنی صرف منعل جراب میں متحقق ہوگا، لہذا حدیث کو اسی جراب پر محمول کیا جائے گا، کیونکہ حدیث میں ایک مرتبہ کی حالت کا بیان ہے، اس میں عموم نہیں ہے۔ یہ بھی اس وقت ہوگا جبکہ ہم امام ترمذی رحمہ اللہ کی حدیث کو صحیح مان لیں جو حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو فرمایا اور جرابوں اور نعلین پر مسح فرمایا۔۔۔ صاحبین کے نزدیک یہ معنی منعل جرابوں کے بغیربھی متحقق ہوسکتا ہے۔ (فتح القدیر، جلد1، صفحہ158، مطبوعہ بیروت)

امام ترمذی رحمہ اللہ کا فرمان:

امام ترمذی رحمہ اللہ کے الفاظ سے بھی یہی ظاہر ہے کہ حدیث سے مراد موزوں کے قائم مقام جرابیں ہیں، آپ رحمہ اللہ اس حدیث کو ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں:

وهو قول غير واحد من أهل العلم، وبه يقول سفيان الثوري، وابن المبارك، والشافعي، وأحمد، وإسحاق، قالوا: يمسح على الجوربين وان لم تكن نعلين اذا كانا ثخينين

ترجمہ: جرابوں پر مسح کرنے کے جواز کا قول متعدد اہل علم نے کیا ہے، اور امام سفیان ثوری، امام ابن مبارک، امام شافعی، امام احمد اور امام اسحاق بھی یہی فرماتے ہیں کہ جرابوں میں اگرچہ چمڑا نہ ہو تب بھی جرابوں پر مسح جائز ہے، جبکہ وہ جرابیں ثخین یعنی موٹی ہوں۔ (ترمذی شریف، جلد1، صفحہ 122، مطبوعہ لاھور)

دیگر جلیل القدر محدثین و فقہاء کی رائے:

مرقاۃ المفاتیح میں امام ابو داؤد رحمہ اللہ کا قول اور اس کا محمل بیان کرتے ہوئے فرمایا:

”قال أبوداود: ومسح على الجوربين علی، وابن مسعود، وأمامة، وسهل بن سعد، وعمرو بن حريث وروی ذلك عن عمر بن الخطاب، وابن عباس۔وهو أعم من أن يكونا مجلدين بأن كان الجلد أعلاهما وأسفلهما، أو منعلين بأن كان الجلد أسفلهما فقط، أو ثخينين مستمسكين على الساق فی قول أبی يوسف، ومحمد، وأبی حنيفة آخرا، وعليه الفتوى

ترجمہ: امام ابو داؤد رحمہ اللہ نے فرمایا: حضرت علی، حضرت ابن مسعود، حضرت امامہ، حضرت سہل بن سعد اورحضرت عمرو بن حریث رضی اللہ عنھم اجمعین نے جرابوں پر مسح فرمایا ہے۔ یہ جرابیں عام ہیں چاہے وہ مُجلَّد ہوں یا منعَّل یا پھر ثخین یعنی موٹی ہوں، صاحبین کے نزدیک اور پنڈلی پر جمی ہوئی ہوں اور یہی امام اعظم رحمہ اللہ کا آخری قول ہے، اور اسی پر فتوی ہے۔ (مرقاۃ المفاتیح، جلد2، صفحہ208، مطبوعہ کوئٹہ)

محدث و فقیہ امام ابن منذر رحمہ اللہ اپنی سند سے ذکر فرماتے ہیں:

”عن أبی حازم، قال: رأيت سهلا يمسح على الجوربين وقال بهذا القول عطاء بن أبی رباح، والحسن، وسعيد بن المسيب، كذلك قالا: اذا كانا صفيقين وبه قال النخعی، وسعيد بن جبير، والأعمش، وسفيان الثوری، والحسن بن صالح، وابن المبارك، وزفر، وأحمد، واسحاق“

ترجمہ: حضرت ابو حازم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت سہل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جرابوں پر مسح کرتے ہوئے دیکھا، یہی قول حضرت عطاء بن ابی رباح اور حضرت حسن اور حضرت سعید بن مسیب رحمھم اللہ کا بھی ہے، یہ قول اس وقت ہے جبکہ جرابیں موٹی ہوں۔ اور یہی امام نخعی، حضرت سعید بن جبیر، امام اعمش، امام سفیان ثوری، امام حسن بن صالح، حضرت عبداللہ بن مبارک، امام زفر، امام احمد اور امام اسحاق رحمھم اللہ نے بھی فرمایا ہے۔ (الاوسط فی السنن والاجماع والقیاس، جلد1، صفحہ 463، مطبوعہ ریاض)

امام ابن قدامہ مقدسی حنبلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

”انما يجوز المسح على الجورب بالشرطين اللذين ذكرناهما فی الخف، أحدهما أن يكون صفيقا، لا يبدو منه شیء من القدم۔الثانی أن يمكن متابعة المشی فيه، هذا ظاهر كلام الخرقی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ولنا: ما روى المغيرة بن شعبة، أن النبی صلى اللہ عليه وسلم مسح على الجوربين والنعلين۔قال الترمذی: هذا حديث حسن صحيح۔۔۔۔۔۔۔ ولأنه ساتر لمحل الفرض، يثبت فی القدم، فجاز المسح عليه، كالنعل. وقولهم: لا يمكن متابعة المشی فيه. قلنا: لا يجوز المسح عليه الا أن يكون مما يثبت بنفسه، ويمكن متابعة المشی فيه. فأما الرقيق فليس بساتر“

ترجمہ: جرابوں پر مسح ان دو شرائط کے ساتھ جائز ہے جو ہم نے موزے میں ذکر کی ہیں، ایک شرط یہ ہے کہ وہ جراب صفیق یعنی موٹی ہو، پاؤں میں سے کوئی چیز اس میں سے ظاہر نہ ہوتی ہو۔ دوسری شرط یہ ہے کہ اس میں مسلسل چلنا ممکن ہو، یہ امام خرقی رحمہ اللہ کے کلام کا ظاہر ہے۔۔۔۔ہماری دلیل حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جرابوں پر اور نعلین پر مسح فرمایا ہے۔ امام ترمذی رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔۔۔۔۔نیز یہ جرابیں قدموں کے اس محل کو چھپانے والی ہیں جس کا دھونا فرض ہوتا ہے اور یہ قدموں پر جمی رہتی ہیں، لہذا ان پر مسح بھی نعل کی طرح جائز ہے، مانعین کا یہ فرمانا کہ ان میں مسلسل چلنا پھرنا ممکن نہیں ہے تو اس کے جواب میں ہم یہ کہتے ہیں کہ ہم مسح اسی جراب پر جائز مانتے ہیں جو خود بخود ایڑی پر جمی رہے اور اس میں مسلسل چلنا ممکن ہو۔ رقیق جرابیں تو قدموں کے فرض حصے کو چھپاتی ہی نہیں ہیں (تو ان پر مسح بھی جائز نہیں ہے۔) (المغنی لابن قدامہ، جلد1، صفحہ 373، مطبوعہ ریاض)

امام ابو زکریا محی الدین یحییٰ بن شرف النووی الشافعی رحمہ اللہ اپنی کتاب ’’المجموع شرح المھذب‘‘ میں فرماتے ہیں:

”قد ذكرنا أن الصحيح من مذهبنا أن الجورب ان كان صفيقا يمكن متابعة المشی عليه جاز المسح عليه والا فلا“

ترجمہ: ہم نے ذکر کردیا ہے کہ ہمارا صحیح مذہب یہ ہے کہ جراب اگر دبیز یعنی موٹی ہو، اسے پہن کر مسلسل چلنا ممکن ہو تو اس پر مسح جائز ہے، ورنہ جائز نہیں ہے۔ (المجموع شرح المھذب، جلد1، صفحہ 527، مطبوعہ سعودیہ)

خلاصہ کلام یہ کہ جن محدثین و فقہاء رحمھم اللہ نے سوال میں مذکور حدیث سے جرابوں پر مسح کو جائز قرار دیا ہے، انہوں نے اس سے وہی جرابیں مراد لی ہیں جو موزوں کے قائم مقام ہیں، بعض نے ان جرابوں کی تعبیر ”مجلد ومنعل“ فرما کر کی، بعض نے ”ثخین وصفیق“ سے کی، بعض نے ”مسلسل چلنا ممکن ہو“ فرما کر تعبیر بیان کی اور بعض نے پنڈلی پر جمنے کی قید بھی ذکر کی۔احناف کا مفتیٰ بہ قول بھی انہی قیودات کے ساتھ جرابوں پرمسح کے جواز کا ہے، جس کی تفصیل نیچے دئے گئے لنک پر موجود فتوی میں ملاحظہ کی جاسکتی ہے۔لہذا سوال میں مذکور حدیث کو اگر صحیح مان لیا جائے تو یہ حدیث احناف کے مفتیٰ بہ مؤقف کے منافی نہیں ہے۔

https: //www.daruliftaahlesunnat.net/ur/waterproof-jurabon-par-masah-karne-ka-hukum

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابومحمد محمد فراز عطاری مدنی

مصدق: مفتی محمد قاسم عطاری

فتوی نمبر: OKR-0192

تاریخ اجراء: 11 رجب المرجب 1447ھ/01 جنوری 2026 ء