
مجیب: ابو الحسن جمیل احمد غوری العطاری
فتوی نمبر:Web-542
تاریخ اجراء: 24صفرالمظفر1444 ھ /21ستمبر2022 ء
دارالافتاء اہلسنت
(دعوت اسلامی)
سوال
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ
الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
اگر مذی جسم یا
کپڑے پر ایک درہم کی مقدار سے زائد لگی ہو تو اس صورت میں
نماز نہ ہوگی، اگر درہم کے برابر ہو تو نماز مکروہ تحریمی
واجب الاعادہ ہوگی، ان دونوں صورتوں میں اسے دھوئے بغیر جان
بوجھ کر اسی حالت میں نماز پڑھنے والا گناہگار ہوگا۔ ہاں اگر
درہم کی مقدار سے کم لگی ہو تو نماز ہوجائے گی لیکن
ایسی نماز کو دوبارہ پڑھنا بہتر ہے۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ
اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی
عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم