بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے میں کہ مجھے پیشاب کے بعد گاڑھے قطرے آتے ہیں، جو کبھی کبھار کپڑوں پر بھی لگ جاتے ہیں۔ میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ آیا یہ قطرے نجس ہیں اور کیا ان کے لگنے سے کپڑے ناپاک ہو جاتے ہیں؟ اور اگر یہ نجس ہوں تو نماز درست ہونے یا نہ ہونے کے حوالے سے کیا درہم کا اعتبار ہوگا؟ اور اگر درہم کا اعتبار ہوگا تو کس بنیاد پر ہوگا؟ وزن کے اعتبار سے یا کپڑے پر پھیلاؤ کے لحاظ سے؟
پیشاب کے بعد جو گاڑھے قطرے خارج ہوتے ہیں، وہ وَدِی کہلاتے ہیں، اور ودی نجاستِ غلیظہ ہے۔ اس کے لگنے سے کپڑا ناپاک ہو جاتا ہے۔ لہٰذا اگر یہ کپڑے پر لگ جائے تو نماز سے پہلے اسےدھونے کے متعلق تفصیل یہ ہے کہ اگر یہ درہم سے کم ہو تو اس کا دھونا سنت ہے اور اس کے ساتھ ادا کی گئی نماز مکروہِ تنزیہی ہوگی۔ اور اگر درہم کے برابر ہو تو اس کا دھونا واجب ہے، اس کے ساتھ نماز مکروہِ تحریمی ہوگی، جسے دوبارہ پڑھنا واجب ہے۔ اور اگر درہم سے زائد ہو تو اس کا دھونا فرض ہے، ایسی حالت میں نماز سرے سے ادا ہی نہ ہوگی۔
چونکہ وَدی مائع اشیاء کی جنس سے تعلق رکھتی ہے، اس لیے یہاں درہم کا اعتبار وزن کے اعتبار سے نہیں، بلکہ عرض میں اس کے پھیلاؤ، یعنی رقبے کے لحاظ سے کیا جائے گا۔ اس مقدار کو پہچاننے کا ایک آسان طریقہ یہ ہے کہ ہتھیلی کو خوب پھیلا کر ہموار رکھیں اور اس پر آہستہ سے اتنا پانی ڈالیں کہ مزید پانی اس میں نہ ٹھہر سکے۔ اب ہتھیلی میں جتنا پانی پھیل جائے، اسی مقدار کے پھیلاؤ کا اعتبار کیا جائے گا۔
پیشاب کے بعد جو رطوبت خارج ہوتی ہے، اسے ودی کہتے ہیں، علامہ زین الدین ابن نجیم مصری لکھتے ہیں:
ودى، و هو ماء أبيض كدر ثخين يشبه المني في الثخانة و يخالفه في الكدورة و لا رائحة له و يخرج عقيب البول إذا كانت الطبيعة مستمسكة و عند حمل شيء ثقيل و يخرج قطرة أو قطرتين و نحوهما
ترجمہ:وَدی وہ گاڑھا، سفید اور کچھ مائل بہ کدورت مائع ہوتا ہے جو گاڑھے پن میں منی کے مشابہ ہوتا ہے، مگر کدورت میں اس سے مختلف ہوتا ہے، اس کی کوئی بو نہیں ہوتی، اور یہ عموماً پیشاب کے فوراً بعد اس وقت نکلتا ہے جب طبیعت رکی ہوئی ہو یا بھاری چیز اٹھانے کی وجہ سے بھی نکلتا ہے، اور یہ ایک دو قطرے یا اس کے قریب نکلتا ہے۔ (البحر الرائق، ج 1، ص 65،دار الکتاب الاسلامی)
ودی کے نجس ہونے، اس سے وضو کے واجب ہونے، نیز نماز کے لیے بدن اور کپڑوں کو ان سے پاک کرنے کےحوالےسے شرح مختصر للطحاوی میں ہے:
و كذلك يستنجي من الودي، و المذي، و هما نجسان، و من خرج منه واحد منهما، فعليه الوضوء بعد غسل فرجه و ما أصاب ثيابه منه
ترجمہ: اسی طرح ودی اور مذی سے بھی خود کو پاک کیا جائے گا، یہ دونوں نجس ہیں، اور جس شخص سے ان میں سے کوئی چیز خارج ہو، اس پر اپنی شرمگاہ (بدن) اور کپڑے پر جس جگہ یہ لگے، اسے دھونے کے بعد (نماز وغیرہ کےلیے) وضو کرنابھی لازم ہے۔ (شرح مختصر الطحاوي، ج 1، ص 348،دار البشائر الإسلامية)
پھر ودی سے چونکہ وضو واجب ہوتا ہے اور ہر وہ نجاست جس کے بدن سے خارج ہونے سے وضو یا غسل واجب ہو وہ نجاست غلیظہ ہوتی ہے، اس لیے ودی نجاست غلیظہ ہے، اور نجاست غلیظہ اگر رقیق ہو، جرم دار نہ ہو ،تو اس کے نماز سے مانع ہونے نہ ہونے کا معیار درہم کا وزن نہیں بلکہ عرض میں اس کا پھیلاؤ ہوتا ہے۔ تو اگر یہ عرض میں پھیل کر درہم سے زائد ہو تو نماز نہیں ہوتی، برابر ہو تو مکروہ تحریمی ہوتی ہے اور کم ہو تو مکروہ تنزیہی۔ یہ تمام تفصیل در مختار میں ان الفاظ کے ساتھ بیان ہوئی:
(و عفا) الشارع (عن قدر درهم) و إن كره تحريما، فيجب غسله، و ما دونه تنزيها فيسن، و فوقه مبطل فيفرض، والعبرة لوقت الصلاة۔۔۔ (و هو مثقال) عشرون قيراطا (في) نجس (كثيف) له جرم (و عرض مقعر الكف) و هو داخل مفاصل أصابع اليد (في رقيق من مغلظة كعذرة) آدمي و كذا كل ما خرج منه موجبا لوضوء أو غسل مغلظ
ترجمہ: شارع نے درہم کی مقدار تک نجاست کو (نماز کے لیے) معاف فرمایا ہے، اگرچہ اس کے ساتھ نماز ادا کرنا مکروہِ تحریمی ہے، اس لیے اس مقدار کو دھونا واجب ہے، اور جو مقدار اس سے کم ہو وہ مکروہِ تنزیہی ہے، اس کا دھونا سنت ہے، اور جو مقدار درہم سے زیادہ ہو وہ نماز کو باطل کرنے والی ہے، اس کا دھونا فرض ہے، اور اس میں اعتبار نماز کے وقت کا ہے۔۔۔ اور درہم کا وزن ایک مثقال ہے جو بیس قیراط کے برابر ہوتا ہے، یہ اعتبار گاڑھی نجاست میں ہوگا جس کا جرم ہوتا ہے ۔ اور پتلی نجاست غلیظہ میں درہم کا اعتبار ہتھیلی کے اندرونی گڑھے کی چوڑائی کے برابر ہوگا۔ نجاست غلیظہ کی مثال جیسے انسان کا پاخانہ، اسی طرح انسان سے نکلنے والی ہر وہ چیز جو وضو یا غسل کو واجب کردے وہ نجاست غلیظہ ہے۔ (در مختار مع رد المحتار، ج 1، ص 316 تا 318،دار الفکر، بیروت)
اور بہار شریعت میں یوں بیان ہوئی: نَجاستِ غلیظہ کا حکم یہ ہے کہ اگر کپڑے یا بدن میں ایک درہم سے زِیادہ لگ جائے، تو اس کا پاک کرنا فرض ہے، بے پاک کیے نماز پڑھ لی تو ہو گی ہی نہیں اور قصداً پڑھی تو گناہ بھی ہوا اور اگر بہ نیتِ اِستِخفاف ہے تو کفر ہوا اور اگر درہم کے برابر ہے تو پاک کرنا واجب ہے کہ بے پاک کیے نماز پڑھی تو مکروہ تحریمی ہوئی یعنی ایسی نماز کا اِعادہ واجب ہے اور قصداً پڑھی تو گنہگار بھی ہوا اور اگر درہم سے کم ہے تو پاک کرنا سنّت ہے، کہ بے پاک کیے نماز ہوگئی مگر خلافِ سنّت ہوئی اور اس کا اِعادہ بہتر ہے۔ اگر نَجاست گاڑھی ہے جیسے پاخانہ، لید، گوبر تو درہم کے برابر، یا کم، یا زِیادہ کے معنی یہ ہیں کہ وزن میں اس کے برابر یا کم یا زِیادہ ہو اور درہم کا وزن شریعت میں اس جگہ ساڑھے چار ماشے اور زکوٰۃ میں تین ماشہ رتی ہے اور اگر پتلی ہو، جیسے آدمی کا پیشاب اور شراب تو درہم سے مراد اس کی لنبائی چوڑائی ہے اور شریعت نے اس کی مقدار ہتھیلی کی گہرائی کے برابر بتائی یعنی ہتھیلی خوب پھیلا کر ہموار رکھیں اور اس پر آہستہ سے اتنا پانی ڈالیں کہ اس سے زِیادہ پانی نہ رک سکے، اب پانی کا جتنا پھیلاؤ ہے اتنا بڑا درہم سمجھا جائے اور اس کی مقدار تقریباً یہاں کے روپے کے برابر ہے۔ (بہار شریعت، حصہ 2، ص 389، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
پتلی اور غیر ذی جرم نجاست سے مراد مائع نجاست ہے اور گاڑھی و ذی جرم سے مراد غیر مائع، چنانچہ امام اہل سنت لکھتے ہیں: نجاست غلیظہ میں اعتبار مساحت ووزن درہم کہ رقیق وکثیف پر منقسم جس کی بعض عبارات بحث سوم میں گزریں۔۔۔ امام ملک العلماء نے اسےیوں تعبیر فرمایا:
قال الفقیہ ابو جعفر الھندوانی اذا اختلفت عبارات محمد فی ھذا فنوفق و نقول اراد بذکر العرض تقدیر المائع کالبول و الخمر و بذکر الوزن تقدیر المستجسد
(ترجمہ:فقیہ ابو جعفر ہندوانی نے فرمایا جب امام محمد کی عبارات اس بابت مختلف ہوگئیں تو ہم یوں تطبیق دیتے ہوئے کہیں گے کہ انہوں نے عرض (چوڑائی) کے ذکر سےمائع کے لیے پیمانہ مقرر کیا ہے جیسے پیشاب اور شراب اور وزن سے (ٹھوس) جسم والی کےلیے پیمانہ مقرر کیا ہے) بعینہ اسی طرح امام زیلعی نے اول کو مائع دوم کو مستجسد سےتعبیر کرکے فرمایا
و ھذا ھو الصحیح
(ترجمہ: اور یہی صحیح ہے۔) اسی طرح مراقی الفلاح میں ہے:
عفی قدر الدرھم وزنا فی المستجسدۃ ومساحۃ فی المائع
(ترجمہ: ایک درہم وزن کی مقدار نجاستِ مستجسدہ میں معاف ہے اور ایک درہم کی مساحت مائع میں۔) (فتاوی رضویہ، ج 3، ص 64، 65، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: HAB-0691
تاریخ اجراء: 13 جمادی الثانی 1447ھ / 05 دسمبر 2025 ء