بسم اللہ الرحمن الرحیم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
جس شخص کو قطرے آنے کا خدشہ رہتا ہو، وہ ذکر (اگلی شرمگاہ) کے سوراخ میں روئی وغیرہ پھنسا لے، تاکہ اطمینان سے نماز پڑھ سکے، اس صورت میں اگر کوئی قطرہ آ بھی جائے تو ظہور نہ ہونے کی وجہ سے وضو ٹوٹ جائے گا یا نہیں؟
اگر کوئی شخص ذکر (اگلی شرمگاہ)کے سوراخ میں روئی ڈال لے، اور صرف روئی کا ذکر(اگلی شرمگاہ) میں موجود اندرونی حصہ تر ہو جائے، اور باہر والا حصہ تر نہ ہو، تو وضو نہیں ٹوٹے گا، ہاں! اگر سوراخ سے باہر روئی کا حصہ تر ہو گیا، تو وضو ٹوٹ جائے گا۔ نیز اگر سوراخ سے روئی نکال لی، اور روئی تر نہیں ہے، تب بھی وضو نہیں ٹوٹے گا، اور اگر روئی تر ہوئی، تو جس وقت نکالی، اس وقت وضو ٹوٹ جائے گا۔
درِ مختار شرح تنویر الابصار میں ہے
”ینقض (لو حشا إحليله بقطنة وابتل الطرف الظاهر)۔۔۔ (وإن ابتل) الطرف (الداخل لا) ينقض ولو سقطت، فإن رطبة انتقض وإلا لا“
ترجمہ: اگر مرد نے اپنے ذکر کے سوراخ میں روئی ڈالی، اور روئی کا باہر والا حصہ تر ہو گیا، تو وضو ٹوٹ جائے گا، اور اگر صرف اندر والا ہی حصہ تر ہوا (باہر والا تر نہیں ہوا)، تو نہیں ٹوٹے گا۔ اور اگر روئی گر جائے تو اگر روئی تر ہوئی، تو وضو ٹوٹ جائے گا، ورنہ نہیں ٹوٹے گا۔ (الدر المختار، جلد1، صفحہ306، 307، مطبوعہ: کوئٹہ)
اسی طرح فتاویٰ ہندیہ وعیون المسائل للسمرقندی میں ہے
(واللفظ للاخر) ”وعن محمد قال: إذا حشى الرجل احليله بقطنة فابتل ما كان داخلا منه فلا ينتقض وضوءه، فإن ابتل ما ظهر منها توضأ“
ترجمہ: امام محمد رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے آپ نے فرمایا: اگر مرد نے اپنے ذکر کے سوراخ میں روئی ڈال لی، اور روئی کا اندر والا حصہ تر ہو گیا، تو وضو نہیں ٹوٹے گا، اور اگر ظاہری حصہ تر ہو گیا، تو دوبارہ وضو کرنا ضروری ہو گا۔ (عیون المسائل للسمرقندی، صفحہ15، مطبعۃ اسد، بغداد)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد ابو بکر عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-4614
تاریخ اجراء: 15رجب المرجب1447ھ/05جنوری2026ء