logo logo
AI Search

پلاسٹک کے برتن پاک کرنے کا آسان طریقہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

پلاسٹک کے برتن پاک کرنے کا طریقہ

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

پلاسٹک کے برتن کو پاک کرنے کا طریقہ بتا دیں جیسے:بالٹی و مگ وغیرہ

جواب

اگر ایسی  پلاسٹک کا برتن  ہے جس میں کھردرا پن یا دراڑ نہیں ہے اور نجاست  جذب ہونے کی کوئی صورت نہیں ہے، تو اسے فقط تین  بار دھولیا جائے تو وہ پاک ہوجائے گا، اس صورت میں اسے ہر بار دھونے کے بعد سکھانا یا اس لئے چھوڑنا کہ پانی ٹپکنا بند ہوجائے ، یہ ضروری نہیں ہے۔ اور اگر اسے بہتے پانی میں پاک کیا تو جب گمان غالب ہوجائے کہ نجاست کا اثر ختم ہوگیا ہوگا تو اس طرح بھی پاک ہوجائے گا۔   اور اگر اس برتن کو کسی کپڑے یا پتےسے اس طرح   پونچھ لیا کہ نجاست کا اثر بالکل ختم ہوگیا توبھی پاک ہوجائے گا۔

بہار شریعت میں ہے: ”اگر ایسی چیز ہو کہ اس میں نجاست جذب نہ ہوئی ،جیسے چینی کے برتن، یا مٹی کا پرانا استعمالی چکنا برتن یا لوہے، تانبے، پیتل وغیرہ دھاتوں کی چیزیں تو اسے فقط تین بار دھو لینا کافی ہے، اس کی بھی ضرورت نہیں کہ اسے اتنی دیر تک چھوڑدیں کہ پانی ٹپکنا موقوف ہو جائے۔‘‘ (بہار شریعت، جلد1، صفحہ399، مکتبۃ المدینہ)

مزید فرماتے ہیں: ’’آئینہ اورشیشے کی تمام چیزیں اور چینی کے برتن یا مٹی کے روغنی برتن یا پالش کی ہوئی لکڑی غرض وہ تمام چیزیں جن میں مسام نہ ہوں کپڑے یا پَتّے سے اس قدر پونچھ لی جائیں کہ اثر بالکل جاتا رہے پاک ہو جاتی ہیں۔‘‘ (بہار شریعت، جلد1،  صفحہ399، مکتبۃ المدینہ)

اگر پلاسٹک کے برتن کھر درے  ہوں یا دراڑ وغیرہ ہو تو  اسے پاک کرنے کا یہ طریقہ ہے کہ اسے ایک مرتبہ دھو کر چھوڑ دیں یہاں تک کہ پانی ٹپکنا بند ہوجائے پھر دوسری مرتبہ دھوئیں اور اسی طرح چھوڑ دیں اور پھر تیسری مرتبہ بھی ایسا ہی کریں تو وہ برتن پاک ہو جائے گا اور اگر نجاست ایسی ہوکہ جس کی تہ جم جاتی ہے تو اس کی تہ کو ختم کرنا لازم ہوگا۔

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ ا لرحمہ فرماتے ہیں: ”مٹی کا برتن چکنا استعمالی جس کے مسام (چھوٹے چھوٹے سوراخ) بند ہوگئے ہوں جیسے ہانڈی، وہ تو تانبے کے برتن کی طرح صرف تین بار دھو ڈالنے سے پاک ہو جاتا ہے اور جو ایسا نہ ہو جیسے پانی کے گھڑے وغیرہ اُن کو ایک بار دھوکر چھوڑ دیں کہ پھر بوند نہ ٹپکے اور تری نہ رہے،دوبارہ دھوئیں اور اسی طرح چھوڑ دیں،سہ بارہ ایسا ہی کریں کہ پاک ہو جائے گا۔چینی کا برتن جس میں بال(ٹوٹنے کی وجہ سے دراڑ یا لکیر) ہو،وہ بھی یونہی خشک کر کے تین بار دھویا جائےگا اور ثابت (کسی قسم کی ٹوٹ وغیرہ سے سلامت) ہو، تو صرف تین بار دھو دینا کافی ہے،مگر نجاست اگر جرم دار (جس کی تہ جم جائے)ہے،تو اس کا جرم چھڑا دینا بہر حال لازم ہے۔خشک کرنے کے یہ معنیٰ ہیں کہ اتنی تری نہ رہے کہ ہاتھ لگانے سے ہاتھ بھیگ جائے،خالی نم یا سیل کا رہنا مضائقہ نہیں،نہ اس کے لئے دھوپ یا سایہ شرط۔“(فتاوی رضویہ، جلد 4، صفحہ  559، رضافاؤنڈیشن لاہور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب:مولانا جمیل احمد غوری عطاری مدنی

فتوی نمبر:Web-2333

تاریخ اجراء:16ذوالحجۃالحرام1446ھ/13جون2025ء