logo logo
AI Search

رخصتی سے پہلے شوہر سے جنسی بات چیت کرنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

منی مذی کی تعریف اور ان کی پہچان کیا ہے؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک عورت کا نکاح ہو گیا ہے اور ابھی رخصتی نہیں ہوئی ہے، وہ اپنے شوہر سے موبائل پر بات کرتی ہے۔ بات چیت میں جنسی معاملات کا بھی ذکر ہوتا ہے اور اس سے کبھی عورت کی مذی بھی خارج ہو جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ رخصتی سے پہلے اس طرح کی بات چیت کرنا کیسا ہے؟ نیز عورت کوکیسے پتہ لگے گا کہ یہ خارج ہونے والی چیز مذی ہی ہے منی نہیں ہے، حالانکہ وہ جانتی ہے ہم بستری تو نہیں ہوئی۔ مذی ہی ہونی چاہئے لیکن اُسے شک ہوتا ہے کہ کہیں یہ منی ہی نہ ہو؟

جواب

نکاح کے بعد اور رخصتی سے پہلے لڑکا اور لڑکی کا آپس میں براہ راست یا بذریعہ فون جنسی نوعیت کی بات چیت کرنا غیر مناسب طرزِ عمل ہے۔ پھر اس طرح کی گفتگو کو جہاں عرف میں معیوب اور ناپسندیدہ سمجھا جاتا ہے، وہیں دینی اعتبار سے بھی اس میں نقصان کا پہلو واضح ہے، کیونکہ رخصتی سے پہلے میاں بیوی جنسی تعلقات سے مکمل طور پر دور ہوتے ہیں۔ ایسی حالت میں جنسی نوعیت کی بات چیت جذبات بھڑکا سکتی ہے اور نفسانی خواہش کے نتیجے میں معاذ اللہ عزوجل دونوں یا کوئی ایک کسی ناجائز و گناہ کے کام میں بھی مبتلا ہو سکتا ہے ۔

باقی جہاں تک منی اور مذی کی پہچان کا معاملہ ہے، تو ہر ایک کی اپنی جُدا جُدا علامات ہیں۔ اسی طرح مرد و عورت کی منی میں بھی چند اعتبارات سے فرق پایا جاتا ہے۔ مَرد کی منی عام طور پر سفید اور گاڑھی ہوتی ہے۔ یہ شہوت کے ساتھ جَست (اُچھلتی) ہوئی نکلتی ہے اور نکلتے وقت لذت محسوس ہوتی ہے۔ اس کے نکلنے کے بعد شہوت ختم ہو جاتی ہے اور عضو کی سختی بھی جاتی رہتی ہے۔

عورت کی منی عام طور پر پتلی اور پیلی ہوتی ہے۔ عورت میں اس کا اصل مقام سینہ ہے۔ اس کےاترنے میں کسی حد تک جَست یعنی اُچھل کر نکلنا پایا جاتا ہے۔ اس کی دو مزید علامات ایسی ہیں جن میں سے ایک کے ذریعے اس کو پہچانا جاسکتا ہے۔ ایک تو یہ کہ عورت کی منی کی بُو بھی مرد کی منی جیسی ہی ہوتی ہے۔دوسری یہ کہ عورت کو بھی اس کے نکلتے وقت لذت محسوس ہوتی ہے اور نکلنے کے بعد شہوت ختم ہو جاتی ہے۔

واضح رہے کہ مَرد کی منی کا گاڑھا اور سفید ہوناجبکہ عورت کی منی کا پتلا اور پیلا ہونا ، یہ عمومی اور غالب احوال کے اعتبار سے ہے۔البتہ بعض اوقات کسی سبب سے مرد کی منی پتلی اور زرد بھی ہوسکتی ہے جبکہ عورت کی منی سفید اور گاڑھی بھی ہو سکتی ہے۔

رہا مذی کی پہچان کا معاملہ، تو مذی ایک پتلا مائل بہ سفید قسم کا مادہ ہوتا ہے جوکہ شہوت کے وقت (جیسے زوجہ سے ملاعبت یعنی کھیل کود اور جنسی بات چیت کے دوران) نکلتا ہے، لیکن شہوت کے ساتھ نہیں نکلتا، نہ ہی اس میں دفق یعنی اُچھل کر نکلنا ہوتا ہے، اس کے نکلنے سے شہوت بھی ختم نہیں ہوتی۔ بعض اوقات تو اس کے نکلنے کا احساس تک بھی نہیں ہوتا۔ مردوں کے مقابلے میں عورتوں میں اس کا نکلنا زیادہ پایا جاتا ہے۔ یہ مادہ اگر مرد سے خارج ہو تو ’’مذی‘‘ کہلاتا ہے اور عورت سے خارج ہو تو ’’قذی‘‘ کہلاتا ہے۔

بیان کردہ منی اور مذی کی علامات سے دونوں میں فرق جانا جاسکتا ہے۔اگر خارج ہونے والا مادہ منی ہو تو غسل فرض ہوگا۔ اور اگر مذی ہو جس کو عورت کیلئے قذی کہتے ہیں تو اس سے غسل فرض نہیں ہوگا، البتہ وضو ٹوٹ جائے گا اوریہ بھی منی کی طرح ناپاک اور نجاستِ غلیظہ ہی ہے ۔

عام طور پر مرد کی منی سفید اور گاڑھی جبکہ عورت کی منی پتلی اور پیلی ہوا کرتی ہے، چنانچہ صحیح مسلم، سنن نسائی، سنن ابن ماجہ، سنن کبری للبیہقی، مسند احمد وغیرہ کتب حدیث میں روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

و اللفظ لمسلم: إن ماء الرجل غليظ أبيض، و ماء المرأة رقيق أصفر

ترجمہ:بیشک مرد کی منی گاڑھی سفید ہوتی ہے اور عورت کی منی پتلی زرد ہوتی ہے۔ (صحیح مسلم، جلد 1، صفحہ 250، رقم الحدیث: 30 - (311)،دار إحياء التراث العربي، بيروت)

مذکورہ حدیث پاک کے تحت علامہ یحیی بن شرف نووی رحمۃ اللہ علیہ ’’المنہاج شرح صحیح مسلم‘‘ میں مرد و عورت کی منی کی علامات بڑی وضاحت کے ساتھ کچھ یوں بیان فرماتے ہیں:

هذا أصل عظيم في بيان صفة المني و هذه صفته في حال السلامة وفي الغالب قال العلماء مني الرجل في حال الصحة أبيض ثخين يتدفق في خروجه دفقة بعد دفقة و يخرج بشهوة و يتلذذ بخروجه و إذا خرج استعقب خروجه فتورا و رائحة كرائحة طلع النخل و رائحة الطلع قريبة من رائحة العجين۔۔۔۔ و أما مني المرأة فهو أصفر رقيق و قد يبيض لفضل قوتها وله خاصيتان يعرف بواحدة منهما إحداهما أن رائحته كرائحة مني الرجل و الثانية التلذذ بخروجه و فتور شهوتها عقب خروجه قالوا و يجب الغسل بخروج المني بأي صفة و حال كان‘‘ ملتقطاً۔

ترجمہ: یہ منی کی صفت کے بیان کرنے میں ایک بڑی اصل ہے۔ اور یہ صحت اور غالب حالت میں منی کی صفت ہے۔ علماء فرماتے ہیں کہ صحت کی حالت میں مرد کی منی سفید اور گاڑھی ہوتی ہے، اس کے نکلنے میں جھٹکا ہوتا ہے ایک کے بعد ایک جھٹکا۔ اور یہ شہوت کے ساتھ نکلتی ہے اور اس کے نکلنے سے لذت محسوس ہوتی ہےاور جب یہ نکل جاتی ہے تو اس کے بعد شہوت ختم ہوجاتی ہے۔ اس کی بُوکھجور کے شگوفے جیسی ہوتی ہے اور کھجور کے شگوفے کی بو گوندھے ہوئے آٹے کی بُو سے ملتی جلتی ہے۔۔۔ بہرحال عورت کی منی تو وہ زرد اور پتلی ہوتی ہے، اور کبھی قوت زیادہ ہونے سے سفید بھی ہو جاتی ہے۔ اس کی دوخاص علامات ہیں جن میں سے کسی ایک سے پہچانی جاتی ہے۔ ان میں سے ایک یہ کہ اس کی بُو بھی مرد کی منی جیسی ہوتی ہے، اور دوسری یہ کہ اس کے نکلنے میں لذت محسوس ہوتی ہے اور نکلنے کے بعد شہوت ختم ہو جاتی ہے۔علما ءفرماتے ہیں کہ منی کسی بھی صفت اور حالت میں نکلے، غسل واجب ہو جاتا ہے۔ (المنهاج شرح صحيح مسلم، جلد 3، صفحہ 222،دار إحياء التراث العربي، بيروت)

مذکورہ حدیث کی شرح میں علامہ عبد الرؤف مناوی رحمۃ اللہ علیہ ’’فیض القدیر شرح جامع الصغیر‘‘ میں فرماتے ہیں ہے:

و قد يرق و يصفر ماء الرجل لعلة و بغلظ و يبيض ماؤها لفضل قوة

ترجمہ: مرد کی منی کبھی (کمزروی کی وجہ سے) پتلی اور زرد ہو جاتی ہے، اور عورت کی منی کبھی قوت کے زیادہ ہونے کی وجہ سے گاڑھی اور سفید ہو جاتی ہے۔ (فیض القدیر شرح جامع الصغیر، جلد 5، صفحہ 403، مطبوعہ مصر)

علامہ برہان الدين ابو الحسن علی بن ابو بکر رحمۃ اللہ علیہ ہدایہ میں لکھتے ہیں:

و المني خاثر أبيض ينكسر منه الذكر

ترجمہ: اور منی سفید گاڑھا مادہ ہے جس (کے نکلنے) سے آلہ تناسل کی سختی ختم ہوجاتی ہے۔ اس کے تحت علامہ اكمل الدين محمد بن محمد بابرتی رحمۃ اللہ علیہ ’’عنایہ شرح الہدایہ‘‘ میں فرماتے ہیں:

أن مني المرأة ليس خاثرا ولا أبيض و إنما هو رقيق أصفر كما جاء في الحديث، و ليس ينكسر منه الذكر، و التعريف الجامع لمني الرجل و المرأة أن يقال: ماء دافق يخرج من بين صلب الرجل و ترائب المرأة

ترجمہ: عورت کی منی نہ گاڑھی ہوتی ہے نہ سفید، بلکہ پتلی زرد ہوتی ہے جیسا کہ حدیث میں آیا ہے، اور اس میں ذکر کی سختی ٹوٹنا بھی نہیں۔ تومرد و عورت کی منی کی جامع تعریف میں یوں کہا جائے گا کہ ایک جست (اُچھلنے) والا پانی جو مرد کی پشت اور عورت کی پسلیوں کے درمیان سے نکلتا ہے۔ (العنایہ شرح الھدایہ، جلد 1، صفحہ 68،دار المعرفۃ، بیروت)

عورت کی منی میں بھی کسی حد تک دَفق (اُچھل کر نکلنا) ہوتا ہے، اگرچہ مَرد کی طرح نہیں، چنانچہ سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فتاوی رضویہ میں فرماتے ہیں:

فاقول حاصلہ ان منی المرأۃ وان کان لہ دفق لشھادۃ قولہ تعالی'' ماء دافق یخرج من بین الصلب و الترائب'' لکن لاکمنی الرجل وذلک لانہ ینزل من صلبہ الی انثییہ الی ذکرہ و ھو طریق ذوعوج فلو لم یندفع بقوۃ شدیدۃ لبقی فی بعض الطریق بخلاف منیھافانہ ینزل من ترائبھاالی رحمھا و ھوطریق مستقیم فکان یکفیہ السیلان غیران نزولہ بحرارۃ فلزمہ نوع دفق و لا وجہ لانکارہ فانہ مشھود معلوم

ترجمہ:میں کہتا ہوں اس کا حاصل یہ ہے کہ عورت کی منی میں اگر چہ کچھ دفق (جست) ہوتا ہے جس کی شہادت ارشادِ باری تعالٰی: ''اچھلتاپانی جو پشت اور سینے کی پسلیوں کے درمیان سے نکلتا ہے'' ہے لیکن وہ مرد کی منی کی طرح نہیں ہے۔ اس لئے کہ وہ اس کی پشت سے انثیین پھر ذَکر کی جانب اترتی ہے۔ یہ ایک پیچیدہ راستہ ہے۔ اس لئے وہ اگر شدید قوت کے ساتھ دفع نہ ہوتوراستے ہی میں رہ جائے بخلاف عورت کی منی کے۔ اس لئے کہ وہ اس کے سینے کی پسلیوں سے رحم کی جانب اترتی ہے، یہ سیدھاراستہ ہے، تو اس کے لئے بہناکافی ہے مگر یہ ہے کہ اس کااترناحرارت کے ساتھ ہوتاہے تو ایک طرح کا دَفق اسے بھی لازم ہے اور اس کے انکار کی کوئی وجہ نہیں، اس لئے کہ یہ معلوم ومشاہد ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 1، حصہ دوم، صفحہ 719، 720، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

مذی ایک پتلا سفیدی مائل مادہ ہوتا ہے جو شہوت کے وقت نکلتا ہے، مرد کے اعتبار سے یہ مادہ مذی جبکہ عورت کے اعتبار سے ’’قذی‘‘ کہلاتا ہے، چنانچہ مراقی الفلاح،بحر الرائق میں ہے:

و اللفظ للاول: مذي بفتح الميم و سكون الدال المعجمة و كسرها و هو ماء أبيض رقيق يخرج عند شهوة لا بشهوة و لا دفق و لا يعقبه فتور و ربما لا يحس بخروجه و هو أغلب في النساء من الرجال و يسمى في جانب النساء قذى

ترجمہ: مَذی، میم کے زبر کے ساتھ اور دالِ معجمہ کے سکون یا کسرہ کے ساتھ ہے۔ یہ ایک سفید پتلا پانی ہے جو شہوت کے وقت نکلتا ہے، مگر شہوت کے ساتھ نہیں نکلتا، نہ ہی اس میں اُچھل کر نکلنا ہوتا ہے اور نہ اس کے بعد شہوت ختم ہوتی ہے۔ اور بسا اوقات اس کے نکلنے کا احساس بھی نہیں ہوتا۔ عورتوں میں اس کا پایا جانا مردوں سے زیادہ ہوتا ہے اور عورتوں میں اس کو قَذى کہا جاتا ہے۔ (مراقی الفلاح شرح نور الایضاح، صفحہ 44، المكتبة العصرية)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

و مني المرأة رقيق أصفر و المذي رقيق يضرب إلى البياض يبدو خروجه عند الملاعبة مع أهله بالشهوة و يقابله من المرأة القذي

ترجمہ: عورت کی منی پتلی اور پیلی ہوتی ہے اور مَذی ایسا پتلا مادہ ہوتا ہے جو سفیدی مائل ہوتا ہے، جس کا نکلنا بیوی کے ساتھ کھیل کود کے وقت شہوت کے ساتھ ہوتا ہے اور اس کے مقابل جو عورت سے نکلتا ہے، قذی کہلاتا ہے۔ (الفتاوی الھندیۃ، جلد 1، صفحہ 10، دار الکتب العلمیہ، بیروت)

منی خارج ہونے کیلئے ہمبستری ہی ضروری نہیں، دیکھنے، سوچ و بچار سے بھی منی خارج ہوسکتی ہے، چنانچہ نور الایضاح مع مراقی الفلاح میں ہے:

(خروج المني إلى ظاهر الجسد إذا انفصل عن مقره بشهوة) و كان خروجه (‌من غیر جماع) كالاحتلام و لو بأول مرة لبلوغ في الأصح و فكر و نظر

ترجمہ: (غسل فرض ہونے کا ایک سبب) منی کا ظاہر جسم سے خارج ہونا ہے جب وہ اپنے اصل مقام سے شہوت کے ساتھ جدا ہو اور اس کا خارج ہو ناجماع کےعلاوہ سے ہو، جیسا کہ احتلا م اگرچہ پہلی بار بلوغت پر ہو، یا سوچنے اور دیکھنے سے (تو غسل فرض ہوجائے گا)۔

اس کے تحت حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے:

قوله: "و كان خروجه من غير جماع" قيد به ليتصور كون وجوب الغسل مضافا إلى خروج المني إذ في الجماع يضاف الوجوب إلى تواري الحشفة و إن لم يخرج المني

ترجمہ:ان کا قول کہ اس کا خارج ہونا جماع کے علاوہ سے ہو، اسے غیر جماع سے مقید کیا گیا تاکہ یہ تصور کیا جا سکے کہ غسل کا واجب ہونا منی کے خارج ہونے کے ساتھ منسلک ہے، کیونکہ جماع میں غسل کا واجب ہونا حشفہ کے چھپنے کے ساتھ ہی ہو جاتا ہے، اگرچہ منی خارج نہ ہو۔ (حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح، صفحہ 92، دار الکتب العلمیہ، بیروت)

مذی کے خارج ہونےسے وضو ٹوٹ جاتا ہے، چنانچہ فتاوی عالمگیری میں ہے:

المذی ینقض الوضوء

ترجمہ: مذی وضو کو توڑدیتی ہے۔ (الفتاوی الھندیہ، جلد 1، صفحہ 12، دار الکتب العلمیہ، بیروت)

منی،مذی میں سے ہر ایک نجاست غلیظہ ہے، جیسا کہ بہار شریعت میں ہے: انسان کے بدن سے جو ایسی چیز نکلے کہ اس سے غُسل یا وُضو واجب ہو نَجاستِ غلیظہ ہے، جیسے پاخانہ، پیشاب، بہتا خون، پیپ، بھر مونھ قے، حَیض و نِفاس و اِستحاضہ کا خون، مَنی، مَذی، وَدی۔ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 2، صفحہ 390، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-996
تاریخ اجراء: 06 جمادی الاخری 1447ھ / 29 نومبر 2025ء