دار الافتاء اھلسنت (دعوت اسلامی)
کیا فرماتے ہیں علماءِ دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ ہم نے ایک نیا مکان خریدا ہے، جس کے دو واش رُوم ایسے ہیں جن میں W.C کا رُخ قبلہ کی جانب ہے، براہ ِ کرم یہ ارشاد فرمائیں کہ ان کے متعلّق ہمارے لئے حکم شَرْعی کیا ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
آپ کے لئے حکم شَرْعی یہ ہے کہ آپ ان واش روموں سے W.C کا رخ فورا ًدرست کروائیں، اگر اسی طرح قضائے حاجت یعنی پیشاب اورپاخانہ کرتے وقت قبلہ رُخ پیٹھ یا منہ کرتے رہے تو گنہگار ہوں گے، کیونکہ قضائے حاجت کے وقت قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ کرنا ناجائز اور گناہ ہے، اور جتنی دیر تک ان کا رُخ درست نہیں ہو جاتا اتنی دیر تک انہیں استعمال کرنے والوں پر لازِم ہے کہ وہ قبلہ سے رخ بدل کر بیٹھیں۔
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
تاریخ اجراء: ماہنامہ فیضان مدینہ اپریل 2018ء