logo logo
AI Search

Wash Basin Par Khare Ho Kar Wazu Karna Kaisa ?

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

بیسن پر کھڑے ہوکر وضو کرنا کیسا؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا بیسن پر کھڑے ہو کر وضو کر سکتے ہیں؟

جواب

بیسن پر کھڑے ہو کر وضو کر سکتے ہیں، البتہ بیسن پر کھڑے ہو کر وضو کرنا خلافِ مستحب ہے، کیونکہ وضو کے مستحبات و آداب میں سے یہ ہے کہ قبلہ رُو کسی اونچی جگہ بیٹھ کر وضو کیا جائے تاکہ پانی کے چھینٹوں سے حفاظت رہے۔

علامہ محمد بن ابراہیم حلبی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 956ھ/1049ء) لکھتے ہیں:

”من الآداب (ان یجلس المتوضیء مستقبل القبلۃ عند غسل سائر الاعضاء)“

ترجمہ: وضو کے آداب میں سے یہ (بھی) ہے کہ وضو کرنے والا شخص تمام اعضائے وضو کو دھوتے وقت قبلہ رُو ہو کر بیٹھے۔ (غنیۃ المتملی شرح منیۃ المصلی، فصل فی آداب الوضوء، صفحہ  31، مطبوعہ در سعادت)

علامہ طَحْطاوی حنفی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1231ھ/1815ء) لکھتے ہیں:

”فآداب الوضوء الجلوس فی مكان مرتفع تحرزا عن الغسالة“

یعنی آدابِ وضو میں سے یہ ہے کہ وضو کرتے وقت کسی اونچی جگہ پر بیٹھے تاکہ وضو کے پانی کی چھینٹوں سے بچ سکے۔ (حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح، صفحہ 75، مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ، بیروت)

وضو کے مستحبات بیان کرتے ہوئے صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1367ھ/1947ء) لکھتے ہیں: ”وُضو کرتے وقت کعبہ رُو اور اونچی جگہ بیٹھنا(مستحب ہے)۔“ (بھارِ شریعت، جلد 1، حصہ 2، صفحہ 296، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)

سیدی امیر اَہل ِ سُنَّتْ مولانا محمد الیاس عطارقادری دَامَتْ بَرَکَاتُھُمُ الْعَالِیَہْ لکھتے ہیں: ”آج کل بیسن(ہاتھ دھونے کی کُونڈی) پر کھڑے کھڑے وُضو کرنے کا رواج ہے جو کہ خلافِ مستحب ہے۔“ (نماز کے احکام، صفحۃ 38، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: Fsd-8577
تاریخ اجراء: 05 ربیع الآخر 1445ھ/21 اکتوبر2023ء