3 Talaqain Hone Ke Bawajood Sath Rehne Walo Ke Mutaliq kiya Hukum Hai
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
تین طلاقیں ہونے کے باوجود ساتھ رہنے والوں کے متعلق کیا حکم ہے؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص نے اپنی مدخولہ زوجہ کو کئی بندوں کے سامنے تین طلاقیں دے دیں، وہ زوجہ کو تین طلاقیں دینے کا اقرار بھی کرتا ہے، لیکن اس کے باوجود وہ دونوں میاں بیوی بغیر حلالے کے میاں بیوی کی طرح اکٹھے رہتے ہیں، ان کے بارے میں شرعی حکم کیا ہے؟ نیز باقی مسلمانوں کو اس صورت میں کیا کرنا چاہیے؟
جواب
صورت مسئولہ میں بیان درست ہونے کی صورت میں شخص مذکور کی زوجہ پر تین طلاقیں ہو چکی ہیں اور اب وہ عورت اس پر حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہو چکی ہے اور بغیر حلالۂ شرعیہ کے اکٹھے رہنے کی کوئی صورت نہیں، اس کے باوجود ان دونوں کا بغیر حلالۂ شرعیہ کے میاں بیوی کی طرح اکٹھے رہنا حرام اور ہم بستری کرنا زنا ہے، ان دونوں پر فرض ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے جدا ہو جائیں اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ و استغفار کریں، اگر جدا نہ ہوں تو باقی تمام مسلمانوں کو چاہیے کہ ان کے ساتھ کھانا پینا، اٹھنا بیٹھنا، ان کی غمی خوشی میں شریک ہونا اور ان کو اپنی غمی خوشی میں شریک کرنا اور ان سے میل جول رکھنا ختم کر دیں، جب تک کہ یہ توبہ کر کے جدا نہ ہو جائیں۔
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا محمد نوید چشتی عطاری مدنی
مصدق: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: Pin:4879
تاریخ اجراء: 16 صفرالمظفر 1438ھ / 17 نومبر 2016ء