logo logo
AI Search

Haiz Ki Halat Mein Talaq Dena

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

حیض کی حالت میں طلاق دینا

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ہماری شادی کو تین سال ہوچکے ہیں۔ گھریلو مسائل کی وجہ سے لڑائی جھگڑے ہوتے رہتے تھے۔ اب تو جھگڑے کے دوران ہاتھا پائی تک نوبت پہنچ گئی۔ میں نے غصے کی حالت میں بیوی کو ان الفاظ کے ساتھ کہ ’’میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، میں تمہیں طلاق دیتا ہوں‘‘ تین طلاقیں دے دیں۔ جس وقت میں نے اپنی بیوی کو طلاق دی، اُس وقت وہ ناپاکی (حیض) کی حالت میں تھی۔ آپ سے یہ شرعی رہنمائی درکار ہے کہ کیا اس حالت میں بھی دی ہوئی طلاق ہوگئی؟ نیز اب ہمارے لیے کیا حکمِ شرعی ہے؟

جواب

قرآن و حدیث کی روشنی میں پوچھی گئی صورت میں آپ کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوگئی ہیں، جس کے سبب وہ آپ پر حرمتِ غلیظہ کے ساتھ حرام ہوچکی ہے اور اب حلالہ شرعیہ کے بغیر آپ کے نکاح میں نہیں آسکتی۔

عورت کا وقتِ طلاق حالت حیض سے ہونا، طلاق واقع ہونے میں رکاوٹ نہیں بنے گا، اگرچہ اس حالت میں طلاق دینا منع و گناہ ضرور ہے، مگر اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں ہے کہ اگر کوئی شخص حیض کی حالت میں طلاق دے، تو وہ واقع ہی نہیں ہوگی، طلاق بہرصورت ہوجائے گی۔ اور اگر آپ اس حالت میں ایک یا دو طلاقیں دیتے، تو ان کو شمار کرتے ہوئے یہ حکم دیا جاتا کہ رجوع کرلیں، لیکن آپ نے چونکہ تین طلاقیں ہی ایک ساتھ دے دی ہیں، تو اب حلالہ شرعیہ کے بغیر رجوع کی بھی کوئی صورت نہیں، آپ کی بیوی حرمتِ غلیظہ کے ساتھ آپ پر حرام ہوچکی ہے۔

اللہ عز وجل قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے: ﴿اَلطَّلَاقُ مَرَّتَانِ، فَاِمْسَاكٌۢ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ تَسْرِیْحٌۢ بِاِحْسَانٍ﴾ ترجمۂ کنز الایمان: یہ طلاق دو بار تک ہے، پھر بھلائی کے ساتھ روک لینا ہے یا نکوئی (اچھے سلوک) کے ساتھ چھوڑ دینا ہے۔ (پارہ 2، سورۃ البقرۃ، آیت 229)

اللہ عز و جل قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے: ﴿فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنْۢ بَعْدُ حَتّٰى تَنْكِحَ زَوْجًا غَیْرَهٗ﴾ ترجمۂ کنز الایمان: پھر اگر تیسری طلاق اسے دی، تو اب وہ عورت اسے حلال نہ ہوگی، جب تک دوسرے خاوند کے پاس نہ رہے۔ (پارہ 2، سورۃ البقرۃ، آیت 230)

اس آیت کے تحت تفسیرِ صاوی میں ہے: ”﴿فَاِنْ طَلَّقَھَا﴾ أی طلقۃ ثالثۃ سواء وقع الاثنتان فی مرۃ أو مرتین و المعنی فان ثبت طلاقھا ثلاثا فی مرۃ أومرات ﴿فَلاَ تَحِلُّ﴾ الخ کما اذا قال لھا أنت طالق ثلاثاً و ھذا ھو المجمع علیہ“ ترجمہ: یعنی اگر شوہر نے تیسری طلاق دی خواہ پہلی دو طلاقیں ایک مرتبہ میں دی تھیں یا دو مرتبہ میں اور اس آیت کا مقصد یہ ہے کہ اگر تین طلاقیں ثابت ہوجائیں، خواہ وہ ایک مرتبہ میں دی ہوں یا کئی مرتبہ میں (بہر صورت حلالہ شرعیہ کے بغیر) عورت اس کے لیے حلال نہ ہوگی۔ جیسا کہ جب کسی شخص نے اپنی بیوی کو کہا: تجھے تین طلاقیں ہیں (تو تینوں ہی واقع ہوں گی)۔ اس پر اجماع ہے۔ (حاشیۃ الصاوی علی تفسیرالجلالین، ج 1، ص 195، مطبوعہ لاھور)

طلاق کے الفاظ دہرانے کے متعلق در مختار میں ہے: ”کرر لفظ الطلاق وقع الکل“ ترجمہ: لفظِ طلاق کا (جتنی بار) تکرار کیا، تو تمام کی تمام واقع ہوں گی۔ (در مختار مع رد المحتار، کتاب الطلاق، باب طلاق غیر مدخول بھا، جلد 4، صفحہ 509، مطبوعہ کوئٹہ)

سیدی اعلیٰ حضرت امام اہلسنت مولانا الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن فتاویٰ رضویہ میں فرماتے ہیں: ’’شریعت کا حکم یہ ہے کہ جس شخص نے اپنی عورت کو تین طلاقیں دی ہوں، ایک دفعہ میں خواہ برسوں میں کہ ایک کبھی دی اور رجعت کرلی، پھر دوسری دی اور رجعت کرلی، اب تیسری دی، دونوں صورتوں میں عورت اس پر بغیر حلالہ حرام ہے۔‘‘ (فتاوی رضویہ، جلد 12، صفحۃ 408، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

حالت حیض میں دی ہوئی طلاق کو شمار کرنے کے بارے میں بخاری شریف میں انس بن سیرین سے مروی ہے: ’’طلق ابن عمر امرأتہ و ھی حائض، فذکر عمر للنبی صلی اللہ علیہ وسلم فقال: لیراجعھا قلت: تحتسب؟ قال: فمہ‘‘ترجمہ: عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی زوجہ کوحیض کی حالت میں طلاق دیدی ، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا ،آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے حکم فرمایا کہ ابن عمر رجوع کر لیں، میں (انس بن سیرین) نے کہا کہ کیا وہ (حالتِ حیض میں دی ہوئی) طلاق شمار کی جائے گی؟ تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: کیوں نہیں؟ (یعنی حالتِ حیض میں دی ہوئی طلاق شمار ہوتی ہے۔) (صحیح البخاری، کتاب الطلاق، باب اذا طلقت الحائض یعتد بذلک الطلاق، ج 2، ص 790، مطبوعہ کراچی)

بخاری شریف میں ہی ایک اور مقام پر ہے: ’’أنہ طلق امرأتہ و ھی حائض فذکر عمر لرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتغیظ فیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ثم قال لیراجعھا الخ‘‘ ترجمہ: ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی زوجہ کو حیض کی حالت میں طلاق دی، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کا ذکر رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے کیا، تو آپ علیہ الصلوٰۃ و السلام اس معاملے میں جلال میں آگئے، پھر ارشاد فرمایا کہ ابن عمر رجوع کرلیں۔ اس کے تحت علامہ بدر الدین عینی علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں: ’’الطلاق فی الحیض محرم ولکنہ إن أوقع لزم‘‘ ترجمہ: حیض میں طلاق دینا گناہ ہے، لیکن اگر دی جائے، تو وہ واقع ہو جائے گی۔ (عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری، باب سورۃ الطلاق، ج 19، ص 351، 352، دار الکتب العلمیہ، بیروت)

مذکورہ بالا حدیث شریف کے تحت شارح مسلم علامہ نووی علیہ رحمۃ اللہ القوی تحریر فرماتے ہیں: ’’اجمعت الامۃ علی تحریم طلاق الحائض الحائل بغیر رضاھا فلو طلقھا اثم و وقع طلاقہ و یؤمر بالرجعۃ لحدیث ابن عمر‘‘ یعنی اُمت کا اس پر اجماع ہے کہ حالتِ حیض میں عورت کی رضامندی کے بغیر طلاق دینا حرام ہے۔ اگر کسی نے اپنی بیوی کو حالتِ حیض میں طلا ق دی تو طلاق دینے والا گنہگار ہوگا، لیکن اس کی طلاق واقع ہوجائے گی اور اس شخص کو رجوع کا حکم دیا جائے گا۔ جیساکہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی اس حدیث سے ثابت ہے۔‘‘ (الصحیح لمسلم مع الشرح للنووی، کتاب الطلاق، باب تحریم طلاق الحائض الخ، ج 1، ص 475، مطبوعہ کراچی)

مفتی محمد احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمۃ مرأۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح میں مندرجہ بالا حدیث کے تحت لکھتے ہیں: ’’اس سے معلوم ہوا کہ عورت کو بحالت حیض طلاق دینا حرام ہے ورنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس پر ناراض نہ ہوتے۔ اس پر تمام امت کا اجماع ہے ۔۔۔ بحالت حیض طلاق دینا اگرچہ حرام ہے، مگر وہ طلاق واقع ہوجائے گی ورنہ رجوع کرنے کے کیا معنی؟ (مرأۃ المناجیح، ج 5، ص 133، مکتبہ اسلامیہ، لاھور)

آپ پر لازم ہے کہ دو گناہوں سے توبہ کریں۔ (1) حالت حیض میں طلاق دینے کی وجہ سے (2) تینوں طلاقیں ایک ساتھ دینے کی وجہ سے۔

فقہ حنفی کی مشہور ومعروف کتاب ہدایہ شریف میں ہے: ’’و طلاق البدعۃ أن یطلقھا ثلثا بکلمۃ أو ثلاثا فی طھر واحد فاذا فعل ذالک وقع الطلاق و کان عاصیا‘‘ یعنی طلاق کے ناجائز طریقوں میں سے یہ بھی ہے ایک ہی کلمہ میں تین طلاقیں دی ہوں، یا پاکی کے ایام کے ایک پیریڈ میں تین طلاقیں دی ہوں، بہر حال ان میں سے کسی بھی طریقے سے طلاقیں دے گا طلاقیں واقع ہوجائیں گی اور یہ شخص گنہگار ہوگا۔ (الھدایہ، کتاب الطلاق، باب طلاق السنۃ، ج 2، ص 247، دار الکتب العلمیہ، بیروت)

اسی طرح بہارِ شریعت میں ہے: ’’بدعی یہ کہ ایک طہر میں دو یا تین طلاق دیدے، تین دفعہ میں یا دو دفعہ یا ایک ہی دفعہ میں، خواہ تین بار لفظ کہے یا یوں کہہ دیا کہ تجھے تین طلاقیں یا موطؤہ کو حیض میں طلاق دی ۔۔۔ حیض میں طلاق دی تو رجعت واجب ہے کہ اس حالت میں طلاق دینا گناہ تھا۔ ملخصاً‘‘ (بھارِ شریعت، حصہ 8، ج 2، ص 111، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Aqs-1906
تاریخ اجراء: 22 صفر المظفر 1442ھ / 10 اکتوبر 2020ء