logo logo
AI Search

پرانی قبروں پر نئی قبریں بنانا

بسم اللہ الرحمن الرحیم

پرانی قبروں پر مٹی ڈال کر ان کے اوپر نئی قبریں بنانا

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک قبرستان میں چالیس پچاس سال پرانی قبریں ہیں، جو نئی قبروں سے تین چار فٹ نیچے ہیں، ان کے اندر بارش کا پانی جاتا ہے، کیا ان قبروں پر مٹی ڈال کر برابر کر کے وہاں نئی قبریں کھود کر میت کو دفن کرنا، جائز ہے؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں وضاحت فرما دیں۔

جواب

صورت مسئولہ میں ان پرانی قبروں پر مٹی ڈال کر ان کے اوپر نئی قبریں بنانا، کئی وجوہ سے نا جائز و حرام ہے، کہ اس میں مسلمانوں کی قبروں کی سخت بے حرمتی اور ان کے لیے اذیت و تکلیف کا باعث ہے، کیونکہ جس چیز سے زندوں کو اذیت پہنچتی ہے، اس سے مردوں کو بھی ایذا ملتی ہے، پھر احادیث مبارکہ کی رو سے مسلمان کی قبر پر چلنا، پاؤں رکھنا، اس پر بیٹھنا، اس پر راستہ بنانا، ناجائز و حرام ہے، جب یہ سب امور ناجائز و حرام ہیں تو ان قبروں پر مستقل مکمل قبر بنانا کیونکر جائز ہو سکتا ہے، اسی طرح اس جگہ پر مٹی ڈالنے کے لیے ڈمپر، ایکسویٹر مشینیں، ٹریکٹر، ٹرالیاں اور بار برداری والی دیگر گاڑیاں یا لوگ پیدل مٹی اٹھا کر قبروں پر چڑھیں گے، اور قبروں پر سے ہو کر گزریں گے، پھر نئی قبریں کھودنے کے لیے اور ان میں مردے دفن کرنے کے لیے اور ان مردوں کی قبروں پر دعا کرنے کے لیے آنے والےسب پرانی قبروں کو روندیں گے، جو کہ ناجائز و حرام اور سخت گناہ ہے، لہذا ان قبروں کو اسی طرح رہنے دیا جائے، اور پانی کے نکلنے کے لیے وہاں پر کچھ راستہ بنا دیا جائے، تاکہ وہاں پر ان قبروں کے ارد گرد پانی جمع نہ ہو۔

قبر پر بیٹھنے کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لأن یجلس أحدکم علی جمرۃ فتحرق ثیابہ، فتخلص إلیٰ جلد ہ، خیر لہ من أن یجلس علی قبر“، یعنی تم میں سے کوئی آگ کی چنگاری پر بیٹھے، پھر وہ چنگاری اس کے کپڑے جلا کر جلد تک پہنچ جائے، یہ اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ وہ کسی قبر پر بیٹھے۔ (صحیح المسلم، جلد 2، صفحہ 667، دار الاحیاء التراث العربی، بیروت)

سیدی اعلیٰ حضرت مجدد دین و ملت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں: ”اگر اس قطعہ میں قبور بھی ہوں، اگرچہ نشان مٹ کر ناپید ہو گئی ہوں، جب تو متعدد حراموں کا مجموعہ ہے، قبروں پر پاؤں رکھنا ہو گا، چلنا ہو گا، بیٹھنا ہو گا، پیشاب پاخانہ ہو گا، اور یہ سب حرام ہے۔ اس میں مسلمانوں کو طرح طرح ایذا ہے اور مسلمان بھی کون، اموات کہ شکایت نہیں کر سکتے، دنیا میں عوض نہیں لے سکتے، بے وجہ شرعی مسلمانوں کی ایذا اللہ و رسول کی ایذا ہے۔ اللہ و رسول کو ایذا دینے والا مستحق جہنم۔۔۔۔۔ یہ کام اسی شخص کے ہو سکتے ہیں، جس کے دل میں نہ اسلام کی قدر، نہ مسلمانوں کی عزت، نہ خدا کا خوف، نہ موت کی ہیبت، و العیاذ باللہ تعالیٰ، امام ابن امیر الحاج حلیہ میں نوادر و تحفۃ الفقہاء و بدائع و محیط وغیرہ سے نقل فرماتے ہیں: ”أبا حنیفۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کرہ وط ء القبر و القعود أو النوم أو قضاء الحاجۃ إلیہ“۔ امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے قبر پر چلنا، بیٹھنا، سونا، قضائے حاجت کرنا مکروہ قرار دیا ہے“۔

حدیقہ ندیہ میں جامع الفتاوی سے ہے: ”انہ و التراب الذی علیہ حق المیت فلا یجوز أن یوطء“ وہ قبر اور اس پر موجود مٹی حقِ میت ہے، تو اس پر چلنا جائز نہیں۔

فتاوی عالمگیری میں امام علی ترجمانی سے ہے: ”یأثم بوطء القبور لأن سقف القبر حق المیت“ قبروں پر چلنے سے گناہ گار ہو گا، اس لیے کہ قبر کی چھت میت کا حق ہے۔

تنویر الابصارمیں ہے: ”یکرہ بول و غائط فی مقابر“ قبرستان میں پیشاب پاخانہ مکروہ ہے۔

رد المحتار میں ہے: ”لأن المیت یتأذی بما یتأذی بہ الحی و الظاھر أنھا تحریمیۃ لأنھم نصوا علیٰ أن المرور فی سکۃ حادثۃ فیھا حرام فھذا أولیٰ“۔ اس لیے کہ مردے کو بھی اس چیز سے اذیت ہوتی ہے، جس سے زندے کو اذیت ہوتی ہے، اور ظاہر ہے کہ یہ مکروہ تحریمی ہے، اس لیے کہ علماء نے تصریح فرمائی ہے کہ قبرستان کے اندر نو پیدا راستے سے گزرنا حرام ہے تو یہ بدرجہ اولیٰ حرام ہے“۔

رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم فرماتے ہیں: ”لأن أمشی علیٰ جمرۃ أو سیف أحب إلی من أن أمشی علی القبر، رواہ ابن ماجۃ عن عقبۃ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بسند جید“ میرے آگ کی چنگاری یا تلوار پر چلنا زیادہ محبوب ہے، اس سے کہ میں قبر پر چلوں، اسے ابن ماجہ نے عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بسند جید روایت کیا ہے۔

نیز نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”کسر عظم المیت یؤذیہ فی قبرہ ما یؤذیہ فی بیتہ، و قال عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ: أذی المؤمن فی موتہ کأذاہ فی حیاتہ و عن عمارۃ بن حزم رضی اللہ تعالیٰ قال راٰنی رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم جالسا علی قبر فقال یا صاحب القبر أنزل من علی القبر لا تؤذی صاحب القبر“، مردے کی ہڈیاں توڑنا اور اسے ایذا دینا ایسا ہی ہے، جیسے زندے کی ہڈی توڑنا، اور ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں، میت کو قبر کے اندر بھی اس چیز سے ایذا ہوتی ہے، جس سے گھر کے اندر ایذا ہوتی تھی، حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہی، بحالب وفات مومن کو ایذا دینا ایسے ہے، جیسے اسے زندگی میں ایذا دینا، حضرت عمارہ بن حزم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: مجھے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ایک قبر پر بیٹھے دیکھا تو فرمایا: اے قبر سے لگنے والے! قبر سے اتر جا، صاحب قبر کو ایذا نہ دے۔ (فتاوی رضویہ جلد 9، ص 411 تا 409رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

جس چیز سے زندہ کو اذیت و تکلیف ہوتی ہے، اس سے مردہ کو بھی اذیت ہوتی ہے، نیز مردہ مسلمان کی عزت و حرمت بھی زندہ کی طرح ہی ہے، سیدی اعلیٰ حضرت مجدد دین و ملت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن فرماتے ہیں: ”علمائے کرام کا اتفاق ہے کہ مسلمان کی عزت مردہ و زندہ برابر ہے۔ محقق علی الاطلاق رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فتح القدیر میں فرماتے ہیں: ”الاتفاق علیٰ أن حرمۃ المسلم میتا کحرمتہ حیا“۔ اس بات پر اتفاق ہے کہ مردہ مسلمان کی عزت و حرمت زندہ مسلمان کی طرح ہے۔۔۔

سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”المیت یؤذیہ فی قبرہ ما یؤذیہ فی بیتہ“۔ مردے کو قبر میں بھی اس بات سے ایذا ہوتی ہے، جس سے گھر میں اسے اذیت ہوتی۔ علامہ مناوی شرح میں فرماتے ہیں: ” أفاد أن حرمۃ المؤمن بعد موتہ باقیۃ“۔ اس حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ مسلمان کی حرمت موت کے بعد بھی ویسے ہی باقی ہے۔۔

سیدنا حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ”أذی المؤمن فی موتہ کأذاہ فی حیاتہ، رواہ أبی بکر بن أبی شیبۃ“۔ مسلمان مردہ کو ایذا دینا ایسا ہے جیسے زندہ کو ایذا دینا، اسے ابو بکر بن ابی شیبہ نے روایت کیا“۔

علماء فرماتے ہیں: ”المیت یتأذی بما یتأذی بہ الحی“۔ جس بات سے زندوں کو ایذا پہنچتی ہے، مردے بھی اس سے تکلیف پاتے ہیں“ (فتاوی رضویہ جلد 9، ص 442, 441 رضا فاؤنڈیشن لاھور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا محمد نوید چشتی عطاری مدنی

فتوی نمبر: pin-7762

تاریخ اجراء: 05 ذو الحجۃ الحرام 1447ھ/22 مئی 2026ء