میت کے کئی بیٹے ہوں تو جنازہ پڑھانے کا حق کس کو ؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
میت کے ورثاء میں کئی بیٹے ہوں تو جنازہ پڑھانے کا حق کس کو ہوگا ؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ مرنے والے کے اولیاء میں چند بیٹے ہوں، تو جنازہ پڑھانے میں کس کا حق زیادہ ہوگا؟ سائل: عظمت شیخ (ڈیرہ اڈہ، ملتان)
جواب
میت کے اولیاء میں ایک ہی درجہ کے چند ولی ہوں مثلاً میت کے ایک سے زائد بیٹے ہوں جیسا کہ سوال کی صورت بھی یہی ہے اور خود جنازہ پڑھانا چاہتے ہوں تو بڑے کو چھوٹوں پر فوقیت ہوگی اور وہ جنازہ پڑھانے کا زیادہ مستحق ہوگا۔
یہ حکم خود جنازہ پڑھانے کی صورت میں ہے، اگر خود پڑھانے کے بجائے کسی دوسرے شخص سے پڑھوانا چاہتے ہوں تو بڑے کو چھوٹوں پر کوئی فوقیت نہیں ہوگی اور اجازت دینے میں سب برابر ہوں گے لہذا سب سے اجازت لئے بغیر اگر کسی ایک ولی نے کسی دوسرے شخص کو جنازہ پڑھانے کی اجازت دے دی تو چاہے اجازت دینے والا عمر میں بڑا ہی کیوں نہ ہو، دوسرے اولیاء کو منع کرنے کا اختیار ہے۔ ہاں اگر ایک ولی نے ایک شخص کو اجازت دی، دوسرے نے دوسرے کو تو جس کو بڑے نے اجازت دی وہ جنازہ پڑھانے کا زیادہ مستحق ہے ۔
تنویر الابصار و در مختار میں ہے: ”(ولہ ) ای: للولی (الاذن لغیرہ فیھا) لانہ حقہ فیملک ابطالہ (الا) انہ (کان ھناک من یساویہ فلہ) ای لذلک المساوی ولو اصغر سناً (المنع) لمشارکتہ فی الحق۔ملخصا“ ترجمہ: اور اس کو یعنی ولی کو اپنے غیر کو نماز جنازہ پڑھانے کی اجازت دینے کا اختیار ہے کیونکہ یہ اس کا حق ہے لہذا وہ اس کو باطل کرنے کا مالک ہے سوائے اس کے کہ وہاں کوئی ایسا شخص ہو جو (ولایت میں) اس کے برابر ہو تو اس کو یعنی اس برابر (حق) والے شخص کو اگرچہ وہ عمر کے اعتبار سے چھوٹا ہو منع کرنے کا حق حاصل ہے اس کے حقِ (ولایت) میں شریک ہونے کی وجہ سے۔ (تنویر الابصار و در مختار مع رد المحتار، ج 3، ص144، مطبوعہ کوئٹہ)
رد المحتار میں ہے: ”قولہ: (ولو اصغر سناً) فلو کان شقیقین فالاسن اولی ، لکنہ لو قدم احد فللاصغر منعہ، ولو قدم کل منھما واحداً فمن قدمہ الاسن اولی۔بحر“ مصنف علیہ الرحمۃ کا قول: (اگرچہ عمر کے اعتبار سے چھوٹا ہو) پس اگر دونوں سگے ہوں تو عمر میں زیادہ بڑا زیادہ مستحق ہے لیکن اگر کسی ایک نے کسی (غیرِ ولی شخص) کو آگے کیا تو چھوٹے کو اس کو روکنے کا حق حاصل ہے اور اگر ان میں سے ہر ایک نے کسی (غیر ولی شخص) کو آگے کیا تو جسے بڑے نے آگے کیا وہ زیادہ مستحق ہے۔ (رد المحتار، ج 3، ص 144، مطبوعہ کوئٹہ)
بہار شریعت میں ہے: ” دو یا چند شخص ایک درجہ کے ولی ہوں تو زیادہ حق اس کا ہے جو عمر میں بڑا ہے ، مگر کسی کو یہ اختیار نہیں کہ دوسرے ولی کے سوا کسی اور سے بغیر اس کی اجازت کے پڑھوا دے اور اگر ایسا کیا یعنی خود نہ پڑھائی اور کسی کو اجازت دے دی تو دوسرے ولی کو منع کا اختیار ہے، اگرچہ دوسرا عمر میں چھوٹا ہو اور اگر ایک ولی نے ایک شخص کو اجازت دی، دوسرے نے دوسرے کو تو جس کو بڑے نے اجازت دی وہ اولی ہے۔“ (بھار شریعت، ج 1، ص 837، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: ابو محمد محمد سرفراز اختر عطاری
مصدق: مفتی فضیل رضا عطاری
فتوی نمبر: Mul-570
تاریخ اجراء: 19 جمادی الاولیٰ 1444 ھ/14 دسمبر 2022ء