چار رکعت تراویح ایک سلام سے پڑھنا
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
چار رکعات تراویح ایک سلام سے پڑھنے کا حکم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر کوئی تراویح کی نماز دو دو رکعت کے بجائے چار رکعت ایک ساتھ ادا کرے، جیسے گھر میں خواتین یا مرد تنہا پڑھتے ہوئے، تو کیا قعدۂ اُولیٰ میں تشہد، درودِ ابراہیمی اور دعا پڑھے گا یا نہیں؟ یونہی تیسری رکعت کے لیے کھڑے ہو کر ثناپڑھے گا یا نہیں؟ رہنمائی فرما دیں۔
جواب
طریقۂ متوارثہ (شروع سے جو طریقہ چلتا آرہا ہے، وہ) یہی ہے کہ بیس رکعت تراویح دس سلام کے ساتھ یعنی دو دو رکعت کر کے ادا کی جائیں، خواہ عورتیں گھر میں پڑھیں یا مرد جماعت کے ساتھ یا تنہا پڑھے، سب کے لیے یہی حکم ہے، تاہم اگر چار رکعت تراویح ایک سلام کے ساتھ پڑھی جائے اور دوسری رکعت پر قعدہ کیا جائے، تو تراویح ادا ہو جائے گی۔ اس صورت میں دو سری رکعت کے قعدہ میں درود شریف اور دعا جبکہ تیسری رکعت کے شروع میں ثنا بھی پڑھی جائے گی، یہاں بنیادی طور پر شبہ اس بات سے پیدا ہوتا ہے کہ تراویح چونکہ سنت مؤکدہ ہے، تو چار رکعت پڑھنے کی صورت میں اس کی ادائیگی کا طریقہ بھی ظہر و جمعہ کی سنن کی طرح ہونا چاہیے، تو اس کا جواب یہ ہے کہ فقہائے کرام نے صراحت کے ساتھ یہ بات بیان فرمائی ہے کہ ظہر و جمعہ کے علاوہ تمام چار رکعتی سنن و نوافل کی دوسری رکعت میں التحیات کے بعد درود شریف و دعا اور تیسری رکعت کے شروع میں ثنا پڑھی جائے گی، اس وجہ سے بطور ِ خاص تراویح کے متعلق بھی یہی حکم بیان کیا گیا کہ جب چار رکعت اکٹھی پڑھیں گے، تو یہی طریقہ اپنائیں گے۔
بیس رکعت تراویح دس سلام کے ساتھ پڑھنا مسنون ہے، چنانچہ امام ابو البرکات عبد اللہ بن احمد نَسَفِی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 710 ھ / 1310ء) ”کنز الدقائق“ میں لکھتے ہیں:
”و سن في رمضان عشرون ركعة بعشر تسليمات“
ترجمہ: اور رمضان المبار ک میں بیس رکعات (تراویح) دس سلاموں کے ساتھ پڑھنا سنت ہے۔ (کنز الدقائق، کتاب الصلاۃ، صفحہ 178، مطبوعہ دار البشائر الاسلامیہ )
چار رکعت تراویح ایک سلام کے ساتھ پڑھیں اور دوسری پر قعدہ کیا، تو ادا ہو جائیں گی، چنانچہ علامہ محمد بن ابراہیم حلبی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 956ھ/1049ء) لکھتےہیں:
”(و إن صلی أربع رکعات بتسلیمۃ واحدۃ) و الحال(أنہ لم یقعد علی رکعتین) منھا قدر التشھد (تجزي) الأربع (عن تسلیمۃ واحدۃ): أي عن رکعتین عند أبي حنیفۃ و أبي یوسف (و ھو المختار)…و لو قعد علی راس الرکعتین جازت عن تسلیمتین بالاتفاق“
ترجمہ: اور اگر کسی نے چار رکعات ایک سلام کے ساتھ پڑھیں اور دوسری رکعت میں بقدرِ تشہد قعدہ نہیں کیا، تو شیخین کے نزدیک یہ چاروں رکعات ایک سلام ( دو رکعتوں) کے قائم مقام ہو جائیں گی اور یہی مختار مذہب ہے اور اگر دو رکعت پر قعدہ کیا ہو، تو یہ بالاتفاق دو سلاموں (یعنی چار رکعتوں) کے قائم مقام ہو جائیں گی۔ (غنیۃ المتملی شرح منیۃ المصلی، صفحہ 408، مطبوعہ سھیل اکادمی، لاھور)
تراویح چار رکعت اکھٹی پڑھنے کی صورت میں دوسری کے قعدہ میں درود اور دعا پڑھیں گے، چنانچہ اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1340ھ/1921ء) سے ”فتاویٰ رضویہ “میں سوال ہوا کہ چاررکعت تراویح یا نوافل ایک نیت سے پڑھے، توقعدہ اولیٰ میں درود شریف و دعا اور تیسری رکعت میں ’’سبحٰنک اللھم‘‘ پڑھے یا نہیں؟ تو جواباً ارشاد فرمایا: ”پڑھنا بہتر ہے۔ درمختارمیں ہے:
’’لایصلی علی النبی صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم فی القعدۃ الاولٰی فی الاربع قبل الظھر والجمعۃ وبعدھا لایستفتح اذا قام الی الثالثۃ منھا وفی البواقی من ذوات الاربع یصلی علی النبی صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم ویستفتح ویتعوذ ولو نذرا لان کل شفع صلٰوۃ‘‘
(ظہر اور جمعہ کی پہلی چارسنتوں اور بعد کی چارسنتوں کے پہلے قعدہ میں نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی خدمت اقدس میں درود شریف نہ پڑھاجائے اور تیسری رکعت میں ثنا بھی نہ پڑھی جائے اور باقی چار رکعتوں والی سنتوں اور نوافل میں درودشریف پڑھا جائے، تیسری رکعت میں ثنا اور تعوذ بھی پڑھی جائے گی، اگرچہ اس نے نوافل کی نذرمانی ہو، کیونکہ ہر شفع ایک مکمل نمازہے۔)
مگر تراویح خود ہی دورکعت بہتر ہے: ’’لانہ ھو المتوارث‘‘ (کیونکہ طریقہ متوارثہ یہی ہے۔) تنویر میں ہے: ’’عشرون رکعۃ بعشر تسلیمات ‘‘ (بیس رکعتیں دس سلاموں کے ساتھ پڑھائی جائیں۔) سراجیہ میں ہے:’’کل ترویحۃ اربع رکعات بتسلمیمتین‘‘ (ہر ترویحہ چار رکعتوں کا دو سلاموں کے ساتھ پڑھا جائے۔) یہاں تک کہ اگر چار یا زائد ایک نیت سے پڑھے گا، تو بعض ائمہ کے نزدیک دو ہی رکعت کے قائم مقام ہوں گی، اگرچہ صحیح یہ ہے کہ جتنی پڑھیں شمار ہوں گی جبکہ ہر دو رکعت پر قعدہ کرتا رہا ہو۔ عالمگیری میں ہے:
’’ان قعد فی الثانیۃ قدر التشھد اختلفوا فیہ فعلی قول العامۃ یجوز عن تسلیمتین وھو الصحیح ھکذا فی فتاوی قاضی خاں‘‘
(اگر دوسری رکعت میں تشہد کی مقدار نمازی بیٹھ گیا تو اس میں اختلاف ہے اکثر علماء کی رائے یہ ہے کہ یہ دوسلاموں کے قائم مقام ہے اور یہی صحیح ہے، فتاوی قاضی خان میں اسی طرح ہے۔)“ (فتاوی رضویہ، جلد 7، صفحہ 443، 445، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
مفتی محمد نور اللہ نعیمی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1403ھ/1982ء) سے سوال ہوا: ”عشا کی پہلی چار سنتوں میں اور ایسے ہی اگر تراویح اکٹھی چار چار رکعتیں پڑھی جائیں تو پہلے التحیات پر درود شریف اور تیسری رکعت کے اول میں’’سبحانک اللھم‘‘ پڑھے جائیں یا نہیں؟ تو اس کے جواب میں فرمایا: ”ظہر و جمعہ کی پہلی چار سنتوں کے علاوہ جتنے نفل اور سنتیں چار چار پڑھے جائیں، ان کے دونوں التحیات پر درود شریف اور پہلی اور تیسری رکعت کے اول میں ثناء پڑھی جائے۔ ( ظہر و جمعہ کے علاوہ سنن و نوافل کے مطلق جزئیات نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں۔) نیز تراویح کا ذکر بالتخصیص بھی فقہائے کرام نے وضاحت سے فرما دیا ...
’’والنظم من التنویر: ویاتی الامام والقوم بالثناء کل شفع ویزید علی الشھد الا ان یمل القوم فیاتی بالصلوات‘‘
(مزید جزئیات نقل کرنے کے بعد لکھا:) تو شمس و امس کی طرح ثابت ہوا کہ ہر تشہد پر درود شریف اور ہر شفع کے اول میں ثنا پڑھے۔“ (فتاوی نوریہ، جلد 1، صفحہ 556، 557، مطبوعہ دارالعلوم حنفیہ فریدیہ، بصیر پور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: HAB-0546
تاریخ اجراء:07 رمضان المبارک1447ھ/25 فروری 2026 ء