بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
کیافرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کےبارے میں کہ اگر کوئی منفرد سورۃ الفاتحہ کے بعد آمین پڑھنا بھول جائے اور سورت ملا لے، تو کیا ”آمین“ بھولنے کے سبب سجدہِ سہو لازم ہو گا؟
منفرد یا مقتدی سورۃ الفاتحہ کے بعد آمین پڑھنا بھول جائے یا جان بوجھ کر نہ پڑھے، دونوں صورتوں میں ہی سجدہِ سہو لازم نہیں ہوتا، کیونکہ آمین پڑھنا مسنون ہے اور سنت کے بھولنے یا ترک کرنے سے سجدہِ سہو لازم نہیں آتا، البتہ جان بوجھ کر ”آمین“ نہ پڑھنا یقیناً سنت کے عظیم ثواب سے محرومی ہے۔
آمین کے سنت ہونے کے متعلق شمس الدین علامہ ابنِ امیر الحاج حنفی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال: 879ھ / 1474ء) لکھتے ہیں:
هذا هو السنة عند أصحابنا۔
ترجمہ: ہمارے فقہاءِ احناف کے نزدیک آمین پڑھنا سنت ہے۔ (حَلْبَۃ المُجَلِّی شرح مُنْیَۃ المُصلی، جلد 2، صفحہ 132، مطبوعہ دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
علامہ شُرُنبلالی حنفی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے لکھا:
یسن التامین للامام و الماموم و المنفرد۔
ترجمہ:آمین کہنا امام، مقتدی اور تنہا نماز پڑھنے والے، سب کے لیے مسنون ہے۔ (مراقی الفلاح، فصل فی سننھا، صفحہ 97، المکتبۃ العصریۃ)
کسی سنت کے بھولنے یا قصداً چھوڑنے سے سجدہِ سہو واجب نہیں ہوتا، چنانچہ علامہ حلبی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال: 956ھ / 1049ء) نے لکھا:
فلا یجب بترک السنن و المستحبات کالتعوذ و التسمیۃ و الثناء و التامین۔
ترجمہ: یعنی سنن و مستحبات جیسے تعوذ، تسمیہ، ثنا اور آمین کے چھوڑ دینے سے سجدۂ سہو واجب نہیں ہوتا۔ (غنیۃ المتملی شرح منیۃ المصلی، جلد 02، فصل فی سجود السھو، صفحہ 398، مطبوعہ الجامعۃ الاسلامیۃ)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-9639
تاریخ اجراء: 29 جمادی الاولی1447ھ/ 21 نومبر 2025ء