قعدے میں چار زانو بیٹھنا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
چار زانو بیٹھ کر نماز پڑھنے کا حکم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کےبارےمیں کہ نماز کے قعدے میں دو زانو بیٹھنے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ میرے والد محترم گھٹنے کے مرض میں مبتلا ہیں، دوزانو بیٹھنے سے شدید تکلیف ہوتی ہے، بڑھاپا بھی کافی ہے اور ڈاکٹر نے بھی دوزانو بیٹھنے سے منع کیا ہے، تو کیا قعدے میں چار زانو بیٹھ سکتے ہیں؟
جواب
تشہد میں دونوں گھٹنے بچھا کردایاں پاؤں یوں کھڑا کرنا کہ اس کی انگلیاں قبلہ رُو ہوں اور بایاں پاؤں بچھا کر اس پر بیٹھنا سنت ہے اور بلاعذر چار زانو یعنی چوکڑی مار کر بیٹھنا خلافِ سنت اور مکروہ تنزیہی ہے، ہاں عذر کی صورت میں چار زانو بیٹھنے میں کوئی کراہت نہیں، لہذا دریافت کی گئی صورت میں آپ کے والد محترم عذر کے دوران دو زانو کے بجائے چار زانو بیٹھ کر نماز پڑھ سکتے ہیں، اس میں شرعا کوئی حرج نہیں۔
نماز میں دایاں پاؤں کھڑا کر کے بایاں پاؤں بچھا کر نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و سلم کے بیٹھنے کے متعلق صحیح مسلم، سنن ابی داؤد اورسنن ابن ماجہ میں ہے:
و اللفظ للاول: عن عائشة قالت: كان رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم۔۔۔۔ يفرش رجله اليسرى و ينصب رجله اليمنى
ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم التحیات میں اپنا بایاں پاؤں بچھاتے تھے اور دایاں پاؤں کھڑا کرتے تھے۔ (صحیح مسلم، ج 01، ص 357، مطبوعہ دار إحياء التراث العربي، بيروت)
مذکورہ طریقہ سے بیٹھنے کو سنت قرار دیتے ہوئے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے:
عن ابن عمر رضی اللہ عنہ قال: انما سنۃ الصلاۃ ان تنصب رجلک الیمنی، و تثنی الیسری
ترجمہ: حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے، آپ نے فرمایا: نماز میں بیٹھنے کا سنت طریقہ یہ ہے کہ تو اپنے سیدھے پاؤں کو کھڑا رکھے اور الٹے پاؤں کو بچھا لے۔ (صحیح بخاری، ج 1، ص 165، مطبوعہ دار طوق النجاۃ، بیروت)
بغیر عذر قعدے میں چار زانو بیٹھنے کے مکروہ ہونے کے متعلق امام محمد بن حسن شیبانی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں:
قلت أتكره له أن يقعى في الصلاة إقعاء قال نعم قلت و تكره له أن يتربع في الصلاة من غير عذر قال نعم
ترجمہ: میں نے پوچھا: کیا نماز میں حالت اقعاء میں بیٹھنا مکروہ ہے؟ تو امام اعظم ابوحنیفه رحمہ اللہ نے جواب دیا: ہاں، میں نے کہا: اور کیا بغیر عذر نماز میں چار زانو بیٹھنا بھی مکروہ ہے؟ فرمایا: ہاں۔ (کتاب الاصل، جلد 1، صفحہ 8، مطبوعہ مطبعة مجلس دائرة المعارف)
ہدایہ میں ہے:
و لا یتربع الا من عذر لانّ فیہ ترک سنۃ القعود
ترجمہ: چوکڑی مار کر نہیں بیٹھے گا، مگر عذر کے سبب، کیونکہ اس طرح بیٹھنے میں سنت کا ترک ہے۔ (الھدایہ، کتاب الصلاۃ، جلد 01، صفحہ 64، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی، بیروت)
کراہت سے مراد کراہت تنزیہیہ ہونے کے متعلق در مختار میں ہے:
و کرہ التربع تنزیھا لترک الجلسۃ المسنونۃ بغیر عذر
ترجمہ: بلا عذر نماز میں چار زانو بیٹھنا مکروہ تنزیہی ہے، کیونکہ اس میں بیٹھنے کے مسنون طریقےکاترک ہے۔ (در مختار، کتاب الصلاۃ، ج 02، ص 88، مطبوعہ دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
عذر کی وجہ سے چار زانو بیٹھنے کے متعلق مؤطا امام مالک میں ہے:
عن عبد اللہ بن دينار أنه سمع عبد الله بن عمر وصلى إلى جنبه رجل فلما جلس الرجل في أربع، تربع و ثنى رجليه، فلما انصرف عبد اللہ عاب ذلك عليه، فقال الرجل: فإنك تفعل ذلك فقال: عبد اللہ بن عمر فإني أشتكي
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن دینار رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ کو سنا، ان کے پاس ایک شخص نے نماز پڑھی، جب وہ چوتھی رکعت کے بعد بیٹھا، تو چار زانو بیٹھ گیا، جب حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ تعالی عنہما نے سلام پھیرا، تو آپ نے اس پر اظہار ناراضگی فرمایا، اُس شخص نے عرض کیا آپ بھی تو ایسے ہی بیٹھتے ہیں، تو آپ نے فرمایا مجھے تو تکلیف ہے۔ (مؤطا امام مالک، جلد 01، صفحہ 89، مطبوعہ دار إحياء التراث العربي، بيروت، لبنان)
مصنف عبدالرزاق کی روایت میں ہے:
عن نافع قال: تربع ابن عمر في صلاته فقال: إنها ليست من سنة الصلاة و لكني أشتكي رجلي
ترجمہ: حضرت نافع سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنھما نے چار زانو بیٹھ کر نماز پڑھی، پھر فرمایا: یہ سنت نہیں ہے لیکن (میں اس لئے چار زانو بیٹھا کہ) میرے پاؤں میں تکلیف ہے۔ (مصنف عبدالرزاق، جلد 02، صفحہ 193، مطبوعہ المكتب الإسلامي، بيروت)
عذر کی وجہ سے قعدے میں چار زانو بیٹھنے کے متعلق ملک العلماء علامہ کاسانی حنفی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 587ھ / 1191ء) لکھتے ہیں:
لا يتربع من غير عذر لما روي أن عبد الله بن عمر رأى ابنه يتربع في صلاته فنهاه عن ذلك فقال رأيتك تفعله يا أبت، فقال إن رجلي لا تحملاني ولأن الجلوس على الركبتين أقرب إلى الخشوع فكان أولى ولا يكره في حالة العذر لأن مواضع الضرورة مستثناة من قواعد الشرع
ترجمہ: بغیر عذر چار زانوں بیٹھنا مکروہ ہے، کیونکہ روایت ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عمررضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے کو نماز میں چار زانوں بیٹھے دیکھا، تو منع فرمایا، بیٹے نے کہا: میں نے آپ کو ایسا کرتے دیکھا ہے، فرمایا: میری ٹانگیں میرا وزن نہیں اٹھاتیں اور اس لیے بھی کہ گھٹنوں پر بیٹھنا خشوع کے زیادہ قریب ہے، اس لیے وہی افضل ہے، البتہ عذر کی حالت میں یہ مکروہ نہیں، کیونکہ ضرورت کی جگہیں شرعی قواعد سے مستثنیٰ ہوتی ہیں۔ (بدائع الصنائع، جلد 1، صفحہ 215، مطبوعہ دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: عبد الرب شاکرعطاری مدنی
مصدق: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-9797
تاریخ اجراء: 27 شعبان المعظم 1447ھ / 16 فروری 2026 ء