logo logo
AI Search

مقتدی قعدہ اولیٰ میں درود پڑھ لے تو نماز کا حکم

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مقتدی نے قعدہ اولیٰ میں درود پڑھ لیا تو نماز کا حکم

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ چار رکعت والی نماز میں امام صاحب قعدہ اولی میں بیٹھے، تو ایک مقتدی نے یہ سمجھتے ہوئے قصداً درود پاک پڑھ لیا کہ تشہد کے ساتھ درود پاک بھی پڑھنا ہوتا ہے، دریافت طلب امر یہ ہے کہ امام صاحب کے سلام پھیرنے کے بعد اس مقتدی کی نماز کا کیا حکم ہوگا ؟ رہنمائی فرمادیں۔

جواب

نماز کے واجبات میں سے کسی بھی واجب کو قصداً ترک کرنے سے نماز واجب الاعادہ (یعنی دوبارہ پڑھنا واجب) ہو جاتی ہے، اس مسئلے میں محض منفرد کی تخصیص نہیں، بلکہ مقتدی بھی شامل ہے، البتہ مقتدی کے لیے اتنی رعایت ضرور ہے کہ امام کے پیچھے بھولے سے واجب چھوٹنے پر اس مقتدی پر سجدہ سہو واجب نہیں ہوتا، مگر قصدا واجب ترک کرنے پر اس کی نماز بھی واجب الاعادہ ہو جاتی ہے۔ بیان کردہ صورت میں قعدہ اولیٰ میں تشہد کے بعد درود پاک نہ پڑھنا بھی واجباتِ نماز میں سے ہے اور ”اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ“ تک پڑھنے پر ترکِ واجب ثابت ہو جاتا ہے، لہذا مسئولہ صورت میں قصداً درود پاک پڑھنے کے سبب اس مقتدی کی نماز واجب الاعادہ ہوگئی، خواہ اسے مسئلے کا علم ہو یا نہ ہو کہ دار الاسلام میں شرعی مسائل سے لاعلم ہونا کوئی شرعی عذر نہیں۔

نماز کے کسی واجب کو قصداً چھوڑدینے کے حوالے سے رد المحتار مع در مختار میں ہے:

”(ولھا واجبات لا تفسد بترکھا و تعاد وجوباً فی العمد) ای بترک ھذہ الواجبات او واحد منھا“

یعنی نماز میں کچھ واجبات ہیں جن کے ترک کرنے سے نماز فاسد نہیں ہوتی، البتہ ان واجبات کو یا ان میں سے کسی ایک بھی واجب کو قصداً ترک کرنے کی صورت میں نماز کا اعادہ واجب ہوتا ہے۔ (رد المحتار مع الدر المختار، کتاب الصلاۃ، جلد 01، صفحہ 456، مطبوعہ دار الفكر، بيروت)

قصدا واجب ترک کرنے سے نماز واجب الاعادہ ہو جاتی ہے، اس حکم میں منفرد اور مقتدی دونوں یکساں ہیں۔ جیسا کہ صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1367ھ/1947ء) لکھتے ہیں: ”چوں از مقتدی سہواً ترک واجب واقع شد، نہ بہ و سجدہ سہو واجب است، نہ اعادہ نماز، اعادہ در آں صورت واجب است کہ عمداً ترک واجب کند، یا او از جانب شرع بسجدہ سہو مامور بود و نکند“ یعنی مقتدی سے سہواً واجب ترک ہو تو اس صورت میں سجدہ سہو واجب نہیں ہو گا اور نہ ہی اعادہ نماز کا حکم ہے، نماز کا اعادہ اس صورت میں واجب ہوتا ہے جب عمداً واجب ترک کیا ہو یا سجدہ سہو واجب ہو اور اس کو ادا نہ کیا ہو۔“ (فتاوی امجدیہ، جلد 1، صفحہ  274، مکتبہ رضویہ، کراچی)

مفتی محمد وقار الدین رضوی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1413ھ/1992ء) سے سوال ہوا کہ ”امام کے پیچھے اگر مقتدی سے سہواً یا قصداً کوئی واجب چھوٹ گیا مثلاً تعدیل ارکان (قومہ و جلسہ) نہیں کیا یا تشہد نہیں پڑھا تو اس کی نماز ہوگی یا نہیں؟“ آپ علیہ الرحمہ اس کے جواب میں فرماتے ہیں: ”کسی واجب کو قصداً (جان بوجھ کر) امام کے پیچھے چھوڑنے سے نماز دوبارہ پڑھنا ہوگی۔ اور اگر امام کے پیچھے سہواً (بھول سے) کوئی واجب چھوٹ گیا، تو پھر سجدہ سہو واجب نہ ہوگا اور نماز ہوجائے گی۔“ (وقار الفتاوی، جلد 02، صفحہ 210، بزم وقار الدین، کراچی)

قعدہ اولیٰ میں تشہد کے بعد درود پاک نہ پڑھنا واجباتِ نماز میں سے ہے، جیسا کہ درمختار مع تنویر الابصارمیں ہے:

”(ولا يزيد) في الفرض (على التشهد في القعدة الاولى) إجماعا (فإن زاد عامدا كره) فتجب الاعادة (أو ساهيا وجب عليه سجودا السهو إذا قال: اللهم صل على محمد) فقط (على المذهب) المفتى به“

یعنی فرض نماز کے قعدۂ اولیٰ میں تشہد پر اضافہ نہیں کیا جائے گا، اس پر اجماع ہے۔ پس اگر کسی نے جان بوجھ کر تشہد کے بعد کچھ اور بڑھا دیا تو یہ مکروہ ہے، پس نماز کا اعادہ لازم ہوگا اور اگر بھول کر اضافہ کیا، تو صحیح مذہب کے مطابق اس پر سجد ہ سہو واجب ہوگا، جب اس نے صرف یہ کہا ہو ”اللهم صل على محمد “ اور یہی مفتی بہ ہے۔ (درمختار مع تنویر الابصار، باب صفۃ الصلاۃ، صفحہ 71، مطبوعہ دار الكتب العلمية، بيروت)

اسی طرح بہارِ شریعت میں ہے: ”فرض و وتر و سنن رواتب کے قعدۂ اولیٰ میں اگر تشہد کے بعد اتنا کہہ لیا اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ، يا اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلَی سَیِّدِنَا تو اگر سہواً ہو سجدۂ سہو کرے، عمداً ہو تو اعادہ واجب ہے۔“ (بہارِ شریعت، جلد 01، صفحہ  520، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

دار الاسلام میں شرعی مسائل سے نا واقفی عذر نہیں۔ جیسا کہ علامہ ابنِ عابدین شامی دِمِشقی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1252ھ/1836ء) لکھتے ہیں: ”لا يعذر بالجهل بالأحكام في دار الإسلام“ترجمہ: دار الاسلام میں احکام شرعیہ سے جاہل ہونا عذر نہیں ہے۔ (العقود  الدریۃ فی تنقیح  الفتاوی الحامدیۃ، جلد 2، صفحہ 167، مطبوعہ دار المعرفة)

اسی طرح صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1367ھ/1947ء) لکھتے ہیں: ”دار الاسلام میں احکام کا نہ جاننا، عذر نہیں۔“ (بہارِ شریعت، جلد 1، حصہ 4، صفحہ  702، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: OKR-0222
تاریخ اجراء: 24 شعبان المعظم1447ھ/13 فروری 2026 ء