logo logo
AI Search

امام نے نیت نہ کی ہو تو مقتدیوں کی نماز ہوگی؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مقتدیوں کی نماز صحیح ہونے کے لیے امام کا امامت کی نیت کرنا ضروری ہے یا نہیں؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

اگر امام کچھ مقتدیوں کی امامت کی نیت نہ کرے، تو کیا ان مقتدیوں کی نماز ہو جائے گی؟

جواب

مقتدیوں کی نماز صحیح ہونے کے لئے امام کا امامت کی نیت کرنا ضروری نہیں۔ ہاں! امامت کا ثواب لینے کے لئے امامت کی نیت کرنا ضروری ہے۔ لہذا اگر امام نے بالکل امامت کی نیت نہ کی، یا خاص مقتدیوں کی امامت کی نیت نہ کی، تو پھر بھی یہ سارے مقتدیوں کا امام بن جائے گا، اور سارے مقتدیوں کی نماز ہو جائے گی۔

امامت کی نیت نہ کرنے سے امامت کا ثواب نہیں ملے گا، لیکن نماز ہوجائے گی۔ چنانچہ درِ مختار میں ہے

(و الإمام ینوي صلاتہ فقط) و (لا) یشترط لصحة الاقتداء نیة (إمامة المقتدي) بل لنیل الثواب عند اقتداء أحد بہ

ترجمہ: اور امام صرف اپنی نماز کی نیت کرے گا اور اقتدا کے صحیح ہونے کے لئے مقتدی کی امامت کی نیت شرط نہیں، بلکہ جب کوئی اس امام کی اقتدا کرے، تو اس وقت ثواب حاصل کرنے کے لئے (مقتدی کی امامت کی نیت کرنا) شرط ہے۔ (درِ مختار، کتاب الصلاۃ، باب شروط الصلاۃ، جلد 2، صفحہ 128، مطبوعہ: کوئٹہ)

فتاویٰ عالمگیری میں ہے

و الإمام ينوي ما ينوي المنفرد و لا يحتاج إلى نية الإمامة حتى لو نوى أن لا يؤم فلانا فجاء فلان و اقتدى به جاز

ترجمہ: اور امام وہی نیت کرے گا، جو تنہا نماز پڑھنے والا کرتا ہے، اور اس کو امامت کی نیت کرنے کی ضرورت نہیں، یہاں تک کہ اگر اس نے نیت کی کہ: وہ فلاں کی امامت نہیں کرے گا، پھرفلاں آیا، اور اس نے اس کی اقتدا کی تو اقتدا جائز ہے۔ (فتاوی عالمگیری، جلد 1، صفحہ 66، مطبوعہ: کوئٹہ)

اگر امام نے کسی مقتدی کی امامت کی نیت نہ بھی کی، تو اس کی نماز ہوجائے گی۔ چنانچہ صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: مقتدی کو اقتدا کی نیت بھی ضروری ہے اور امام کو نیت اِمامت مقتدی کی نماز صحیح ہونے کے لیے ضروری نہیں، یہاں تک کہ اگر امام نے یہ قصد کرلیا کہ میں فلاں کا امام نہیں ہوں اور اس نے اس کی اقتدا کی نماز ہوگئی، مگر امام نے اِمامت کی نیت نہ کی، تو ثوابِ جماعت نہ پائے گا اور ثوابِ جماعت حاصل ہونے کے لیے مقتدی کی شرکت سے پیشتر نیت کر لینا ضروری نہیں، بلکہ وقت شرکت بھی نیت کر سکتا ہے۔ (بہارِ شریعت، جلد 1، حصہ 3، صفحہ 495، مکتبۃ المدینہ)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد فرحان افضل عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4764
تاریخ اجراء: 03 رمضان المبارک1447ھ / 21 فروری2026ء