logo logo
AI Search

موبائل پر لائیو تراویح کی اقتداء کرسکتے ہیں؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

موبائل پر لائیو تراویح چلا کر اس کی اقتدا کرنا

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

میرے گھر کے قریب کوئی مسجد نہیں، تو کیا میں ایسے کر سکتا ہوں کہ موبائل پہ لائیو تراویح چلا کر، اس کے پیچھے نماز پڑھ لوں؟

جواب

موبائل پر لائیو تراویح چلا کر، اس کی اقتدا میں نماز تراویح پڑھنا جائز نہیں، کیونکہ امام و مقتدی دونوں کے ایک مکان میں ہونے والی شرط مفقود ہے۔ لہذا اگر مسجد آپ کے گھر سے کافی دور ہے، تو گھر میں خود انفرادی طور پر تراویح ادا کر لیں، اور جو سورتیں یادہوں، وہ تراویح میں پڑھ لیں۔

درِ مختار میں ہے

و الصغرى ربط صلاة المؤتم بالإمام بشروط عشرة: نية المؤتم الاقتداء، و اتحاد مكانهما و صلاتهما

ترجمہ: اور امامتِ صغری یہ ہے کہ مقتدی کی نماز کا امام کے ساتھ دس شرائط کے ساتھ مربوط ہونا: مقتدی کا اقتدا کی نیت کرنا، امام و مقتدی کا ایک مکان میں ہونا، دونوں کی نماز ایک ہونا۔

اس کے تحت رد المحتار میں ہے

(قوله: و اتحاد مكانهما) فلو اقتدى راجل براكب أو بالعكس أو راكب براكب دابة أخرى لم يصح لاختلاف المكان

ترجمہ: (مصنف کا قول: دونوں کے مکان کا ایک ہونا) پس اگر پیدل شخص سوار کی اقتدا کرے، یا اس کے برعکس (یعنی سوار پیدل کی اقتدا کرے)، یا ایک سوار دوسرے سوار کی اقتدا کرے جب کہ دونوں مختلف سواریوں پر ہوں، تو اقتدا صحیح نہیں ہوگی کیونکہ ان کی جگہ مختلف ہے۔ (الدر المختار مع رد المحتار، جلد 2، صفحہ 337، 338، مطبوعہ: کوئٹہ)

بہارِ شریعت میں اقتدا کی شرائط ذکر کرتے ہوئے فرمایا: امام و مقتدی دونوں کا ایک مکان میں ہونا۔ (بہارِ شریعت، جلد 1، حصہ 3، صفحہ 562، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا اعظم عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4787
تاریخ اجراء: 10 رمضان المبارک 1447ھ / 28 فروری 2026ء