تشہد میں شہادت کی انگلی اٹھانے کا طریقہ
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
تشہد میں انگلیوں کا حلقہ بنا کر رکھنا ہے یا حرکت دیتے رہنا ہے؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ تشہد میں التحیات پڑھتے ہوئے شہادت کی انگلی کو اٹھانے کے مختلف انداز دیکھنے میں آتے ہیں، جیسے شہادت کی انگلی کوحرکت دیتے رہنا یا ہاتھ کی بقیہ انگلیوں کا حلقہ بنا کر شہادت کی انگلی کو سیدھا کیے رکھنا، آپ سے سوال یہ ہے کہ درست طریقہ کار کیا ہے، رہنمائی کیجیے۔
جواب
التحیات میں کلمہ شہادت پڑھتے ہوئے شہادت کی اُنگلی کے ذریعے اشارہ کرنا سنت ہے اور یہ صحیح احادیثِ مبارکہ سے ثابت ہے، اس کا درست طریقہ یہ ہے کہ جب نمازی التحیات میں کلمہ شہادت (اَشْهَدُ اَن لَّا اِلٰهَ اِلَّا ﷲ) پر پہنچے تو دائیں ہاتھ کی سب سے چھوٹی اور ساتھ والی انگلی ہتھیلی کی طرف بند کرے، انگوٹھے اور بیچ کی اُنگلی کا حلقہ بنائے اور اَن لَّا پر شہادت کی اُنگلی اٹھائے اور بغیر حرکت کے وہیں روک رکھے، پھر اِلَّا پر رکھ دے اور سب اُنگلیاں پہلےکی طرح سیدھی کرلے، لہٰذا سوال میں ذکر کردہ دونوں طریقے ہی درست نہیں ہیں، یعنی نہ تو شہادت کی انگلی کے علاوہ بقیہ انگلیوں کا حلقہ بنا کر رکھے اور نہ ہی شہادت کی انگلی کو مسلسل حرکت دیتا رہے۔
تفصیل: تشہد میں شہادت کی انگلی کو حرکت نہ دینے پر صحیح احادیث اور جمہور اَئمہ کا اتفاق ہے، لہٰذا یہی عین سنت کے موافق ہے اور اس کا الٹ کرنا یعنی شہادت کی انگلی کو حرکت دیتے رہنا خلاف سنت عمل ہے۔ جہاں تک بقیہ انگلیوں کا حلقہ بنا کر شہادت کی انگلی کو سیدھا کیے رکھنے کا تعلق ہے، تو یہ بھی درست نہیں، بلکہ صحیح طریقہ یہی ہے کہ جب التحیات میں بیٹھے، تو شروع سے آخر تک گھٹنے کے قریب ران پر ہتھیلی بچھا کر اپنی انگلیوں کو سیدھا کیے رکھے، فقط کلمہ شہادت پر انگشتِ شہادت اٹھا کر اشارہ کرے، اس کے بعد پھر حلقہ کھول دے۔
اس کی دو وجوہات ہیں:
ایک تو یہ کہ حدیث پاک میں بیان کردہ نبی پاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا عمل ہے اور اسی بنا پر فقہ حنفی کے مُتون سے یہی مستفاد ہے اور اِسی پر اَصحابِ فتوی علماکی تصریحات ہیں(تفصیل نیچے جزئیات کے ساتھ آرہی ہے)۔
دوسری وجہ یہ کہ فقہائے کرام نے تشہد میں بیٹھنے کا سنت کے مطابق طریقہ یہ بیان کیا کہ دائیں ہتھیلی دائیں ران پر اور بائیں ہتھیلی بائیں ران پر رکھے اور انگلیاں قبلہ کی جانب کر کےنارمل حالت پر کھلی رکھے۔ اس سے واضح ہواکہ قعدہ کی اصل سنت یہ ہے کہ دونوں ہاتھوں کی انگلیاں دونوں رانوں پر کھلی ہوئی رہیں، اب اگر تشہد میں انگلیوں کا حلقہ بنا کر رکھیں گے، تو اس سنت کا ترک لازم آئے گا، نیز یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اگر پوری تشہد میں انگلیوں کا حلقہ باندھے رہنا مشروع ہوتا، تو علما یہاں بطورِ استثنا ضرور ذکر فرماتے، حالانکہ علمائے کرام نے بغیر کسی استثناء کے اس سنت کو بیان کیا ہے، لہٰذا تشہد میں کسی طرح بھی سوائے وقتِ اشارہ کے انگلیوں کا حلقہ بنا کر رکھنا درست نہیں ہے۔
جزئیات فقہ:
تشہد میں شہادت کی انگلی سے اشارہ کرنے کا درست طریقہ بیان کرتے ہوئے علامہ ابنِ عابدین شامی دِمِشقی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1252ھ / 1836ء) لکھتے ہیں:
أنها سنة، يرفعها عند النفي و يضعها عند الاثبات، و هو قول أبي حنيفة و محمد، و كثرت به الآثار و الاخبار فالعمل به أولى، فهو صريح في أن المفتى به هو الاشارة بالمسبحة مع عقد الأصابع على الكيفية المذكورة لا مع بسطها فإنه لا إشارة مع البسط عندنا، و لذا قال في منية المصلي: فإن أشار يعقد الخنصر و البنصر و يحلق الوسطى بالابهام و يقيم السبابة
ترجمہ:التحیات میں شہادت کی انگلی اٹھانا سنت ہے، نفی پر اٹھائے اور اثبات یعنی الا اللہ پر رکھ دے، یہی امام اعظم ابو حنیفہ اور امام محمد رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِما کا قول ہے، اِسی پر کثیر احادیث و آثار مروی ہیں، لہٰذا اِسی پر عمل اولیٰ ہے اور یہ روایات اس بات میں صریح ہیں کہ مفتیٰ بہ قول یہ ہے کہ بقیہ انگلیوں کو بیان کردہ کیفیت کے مطابق بند کرکے شہادت کی انگلی سے اشارہ کرے، نہ کہ ہاتھ کوپھیلا کر، کیونکہ ہمارے نزدیک ہاتھ پھیلا کر اشارہ نہیں کیا جائے گا، اسی وجہ سے منیۃ المصلّی میں کہا: جب اشارہ کرے تو چھوٹی اور اس کےساتھ والی انگلی کو بند کر ے، انگوٹھے اور درمیان والی انگلی سے حلقہ بنا ئے اور شہادت کی انگلی کو اٹھائے۔ (رد المحتار مع الدر المختار، کتاب الصلاۃ، جلد 2، صفحہ 266، مطبوعہ کوئٹہ)
شہادت کی انگلی کو حرکت نہ دینے کے متعلق جزئیات: تشہد میں انگلی سے اشارہ کرنے کے بارے میں صحیح مسلم، جامع ترمذی، سنن نسائی ودیگر کتبِ صِحَاح و سُنَنْ میں ہے،
و اللفظ للاول: عن عامر بن عبد اللہ بن الزبير، عن أبيه، قال:كان رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم إذا قعد يدعو، وضع يده اليمنى على فخذه اليمنى، و يده اليسرى على فخذه اليسرى، و أشار بإصبعه السبابة، و وضع إبهامه على إصبعه الوسطى
ترجمہ: حضرت عامر اپنے والد حضرت عبدا للہ بن زبیر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّمَ جب قعدہ میں تشہد پڑھنے کےلیے بیٹھتے، تو اپنا دایاں ہاتھ اپنی دائیں ران پر اور اپنا بایاں ہاتھ اپنی بائیں ران پر رکھتے اور شہادت کی انگلی سے اشارہ کرتے اور انگوٹھے کو درمیان والی اُنگلی پر رکھتے یعنی انگوٹھے اور انگلی کا حلقہ بنا لیتے۔ (صحیح مسلم، کتاب الصلاۃ باب صفۃ الجلوس، جلد 1، صفحہ 260، مطبوعہ لاہور)
اس روایت کو نقل کرنے کے بعد علامہ شامی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اپنے رسالہ رفع التردد میں لکھا:
و قال النووی اسنادہ صحیح و ھذا یدل علی انہ لا یحرک الاصبع اذا رفعھا للاشارۃ الامرۃ علیہ جمھور العلماء
ترجمہ: اور امام نووی عَلَیْہِ الرَّحْمَۃ نے فرمایا: اس کی سند صحیح ہے اور یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ انگلی کو صرف ایک بار جب اشارہ کرنے کے لیے اٹھانا ہے، تب ہی حرکت دینی ہے، اسی پر جمہور علماکا اتفاق ہے۔ (رسائل ابن عابدین، رسالة رفع التردد في عقد الاصابع عند التشهد، جلد 1، صفحہ 131، دار عالم الكتب)
تشہد میں شہادت کی انگلی کو حرکت نہ دینے کے متعلق سُنَنْ ابو داؤد، سنن نسائی، سنن کبری للبیہقی، شرح السنۃ للبغوی وغیرہاکتبِ احادیث میں ہے،
و اللفظ للاول: عن عبد اللہ بن الزبير، أنه ذكر، أن النبي صلى اللہ عليه و سلم كان يشير بأصبعه إذا دعا، و لا يحركها، قال ابن جريج: و زاد عمرو بن دينار، قال: أخبرني عامر، عن أبيه، أنه رأى النبي صلى اللہ عليه و سلم يدعو كذلك
ترجمہ: حضرت سیدنا عبد اللہ بن زبیر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ جب دعا کرتے (یعنی تشہد میں کلمہ شہادت پر پہنچتے) تو انگلی مبارک سے اشارہ کرتے اور اُنگلی کوباربار ہلایا نہیں کرتے تھے، ابنِ جریج کہتے ہیں کہ حضرت عمرو بن دینار رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے مزید یہ ارشاد فرمایا کہ مجھے عامر نے اپنے والد حضرت عبد اللہ بن زبیر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے متعلق یہ خبر دی کہ انہوں نے نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّمَ کو اس طرح (اُنگلی کو حرکت دئیے بغیر) اشارہ کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ (سنن ابوداؤد، کتاب الصلاۃ، جلد 1، صفحہ 150، مطبوعہ لاہور)
حدیث پاک میں مذکور لفظ و لايحرّكهاکے تحت شارحِ مصابیح علامہ حسین بن محمود شیرازی مُظْہِرِی حَنَفی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 727ھ) لکھتے ہیں:
اختلف في تحريك الاصبع إذا رفعها للاشارة، الأصح أنه إذا رفعها يضعها من غير تحريك
ترجمہ: جب نمازی اشارہ کے لیے انگلی اٹھائے، تو انگلی کو حرکت دیتے رہنے کے متعلق اختلاف ہے، اصح قول یہ کہ جب شہادت پر انگلی اٹھائے تو اسے بغیر ہلائے، رکھ دے۔ ( المفاتیح شرح المصابیح، جلد 2، صفحہ 158، مطبوعہ دار النور)
فتح القدیر، محیطِ برہانی، فتاوی تاتارخانیہ اور دیگر کتبِ فقہ میں ہے،
و اللفظ للاول: و عن الحلواني يقيم الأصبع عند لا إله و يضعها عند إلا اللہ ليكون الرفع للنفي و الوضع للاثبات و ينبغي أن يكون أطراف الأصابع على حرف الركبة
ترجمہ: امام شمس الائمہ حلوانی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے منقول ہے کہ نمازی لا الہ کے وقت انگلی اٹھائے گااور الااللہ پر گرا دے گا، تاکہ انگلی اٹھانا نفیِ شریکِ الٰہی کے لیے اور رکھنا اثباتِ وحدانیت کے لیے ہو جائے اور چاہیے کہ انگلیوں کے پورے گھٹنوں کے کنارے پر رکھے۔ (فتح القدیر، کتاب الصلاۃ، جلد 1، صفحہ 321، مطبوعہ کوئٹہ)
تشہد میں حلقہ نہ بنا کر رکھنے کے متعلق جزئیات: صحیح مسلم کی جس روایت میں حلقہ بنا کر رکھنے کے مطلق الفاظ مروی ہوئے اس کے متعلق کلام کرتے ہوئے علامہ محمد بن ابراہیم حلبی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 956ھ / 1049ء) لکھتےہیں:
(و یضع یدیہ) حال التشھد (علی فخذیہ و یفرج اصابعہ لا کل التفریج)… و المراد من العقد المذکور فی روایۃ مسلم، العقد عند الاشارۃ لا فی جمیع التشھد ألا یری ما في الروایۃ الأخری مسلم وضع کفہ الیمنی علی فخذہ الیمنی و قبض أصابعہ کلھا و أشار بأصبعہ التي تلي الابھام و لا شک أن وضع الکف لا یتحقق حقیقۃ مع قبض الأصابع فالمراد وضع الکف ثم قبض الأصابع بعد ذلک عند الاشارۃ
ترجمہ: اور تشہد میں اپنے دونوں ہاتھوں کو رانوں پر رکھے اور انگلیوں کو مناسب انداز میں کھلا رکھے۔۔۔ اور صحیح مسلم کی روایت میں حلقہ بنانے سے مراد صرف اشارہ کرتے وقت حلقہ بنانا ہے، نہ کہ مکمل تشہد میں، کیا صحیح مسلم کی دوسری روایت میں نہ دیکھا کہ (اس میں یہ بیان ہوا کہ) نبی پاک عَلَیْہِ الصَّلاۃُ وَ السَّلام نے اپنی داہنی ہتھیلی کو دائیں ران پر رکھا اور (شہادتین کے وقت) اپنی تمام انگلیوں کا حلقہ بنایا اور شہادت کی انگلی سے اشارہ کیا۔ اور کوئی شک نہیں کہ انگلیوں کا حلقہ بنانے کے ساتھ ہتھیلی کو ران پر رکھنا ممکن نہیں، لہٰذا مراد یہی ہے کہ ہتھیلی رکھی پھر اس کے بعد اشارہ کے وقت حلقہ بنایا۔ (غنیۃ المتملی شرح منیۃ المصلی، فصل فی صفۃ الصلاۃ، جلد 2، صفحہ 188، مطبوعہ ہند)
اسی بات کو علامہ شامی عَلَیْہِ الرَّحْمَۃنے اپنے رسالہ رفع التردد فی عقد الاصابع عند التشھد میں ذکرکیا۔ (رسائل ابن عابدین، رسالة رفع التردد في عقد الاصابع عند التشهد، جلد 1، صفحہ 121، مطبوعه دار عالم الكتب)
مُتون اور اصحابِ فتوی علماکی تصریحات بھی یہی ہیں، چنانچہ اسی رسالہ میں مزید علامہ شامی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں:
و قال الامام حافظ الدين النسفي في متن الكنز و اذا فرغ من سجدتى الركعة الثانية افترش رجله اليسرى و جلس عليها و نصب یمناہ و بسط اصابعه انتهى، و هكذا عامة عبارات المتون و المتبادر منها انه یبسط اصابعه من اول التشهد الى آخره بدون عقد و اشارة عند التلفظ بالشهادة و صرح كثير من اصحاب الفتاوى بان عليه الفتوى
ترجمہ: اور امام حافظ الدین نسفی (عَلَیْہِ الرَّحْمَۃ) نے کنز کے متن میں فرمایا: اور جب دوسری رکعت کے دونوں سجدوں سے فارغ ہو، تو الٹا پاؤں بچھائے اور اس پر بیٹھ جائے اور سیدھا پاؤں کھڑا رکھے اور انگلیوں کو پھیلا کر رکھے۔ یونہی اکثر مُتون کی عبارات ہیں اور ان سے متبادر یہی ہے کہ شہادتین کے وقت حلقہ بنانے اور اشارہ کے علاوہ ابتداءِ تشہد سے آخر تشہد تک انگلیوں کو پھیلا کر سیدھا رکھے، کثیر اصحابِ فتاوی نے صراحت کی کہ اسی پر فتوی ہے۔ (رسائل ابن عابدین، جلد 1، رسالة رفع التردد في عقد الاصابع عند التشهد، صفحہ 120، مطبوعه دار عالم الكتب)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1367ھ / 1947ء) لکھتے ہیں: شہادت پر اشارہ کرنا (سنت ہے)، یوں کہ چھنگلیا اور اس کے پاس والی کو بند کرلے، انگوٹھے اور بیچ کی اُنگلی کا حلقہ باندھے اور لَا پر کلمہ کی انگلی اٹھائے اور اِلَّا پر رکھ دے اور سب اُنگلیاں سیدھی کرلے۔ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 3، صفحہ 530، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)
قعدہ میں داہنی ہتھیلی دائیں ران پر اور بائیں ہتھیلی بائیں ران پر رکھنا اور ہاتھوں کو کھلا رکھنا سنت ہے، جیساکہ عامۂ کتب فقہ میں ہے،
و اللفظ لمجمع الانھر: (و وضع يديه على فخذيه) بحيث تكون أطراف الأصابع عند الركبة (و بسط أصابعه موجهة نحو القبلة)
ترجمہ: اور اپنے دونوں ہاتھ دونوں رانوں پر رکھے، اس طرح کہ انگلیوں کے کنارے گھٹنوں پر آجائیں اور انگلیوں قبلے کی جانب پھیلا کر رکھے۔ (مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر، جلد 1، صفحہ 100، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی)
تنویر الابصار و درمختار مع رد المحتار میں ہے:
(و يضع يمناه على فخذه اليمنى و يسراه على اليسرى، و يبسط أصابعه) مفرجة قليلا (جاعلا أطرافها عند ركبتيه) و لا يأخذ الركبة هو الأصح لتتوجه للقبلة۔۔۔ (قوله و لا يأخذ الركبة) أي: كما يأخذها في الركوع لأن الأصابع تصير موجهة إلى الأرض
ترجمہ: مفہوم اوپر بیان ہو چکا۔ (كتاب الصلاة، باب صفة الصلاة، جلد 2، صفحہ 265، مطبوعہ کوئٹہ)
علامہ حلبی عَلَیْہِ الرَّحْمَۃ نے مذکورہ طریقہ بیان کرنے کے بعد لکھا:ھذ ہ کیفیۃ القعود المسنون فی القعدتین عندنایعنی ہمارے نزدیک دونوں قعدوں میں بیٹھنے کی مسنون کیفیت یہی ہے۔ (غنیۃ المتملی شرح منیۃ المصلی، جلد 2، صفحہ 188، مطبوعہ ہند)
نماز کا طریقہ بیان کرتے ہوئے صدرالشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ الرَّحْمَۃ لکھتے ہیں: پھر سر اوٹھائے، پھر ہاتھ اور داہنا قدم کھڑا کر کے اس کی انگلیاں قبلہ رُخ کرے اور بایاں قدم بچھا کر اس پر خوب سیدھا بیٹھ جائے اور ہتھیلیاں بچھا کر رانوں پر گھٹنوں کے پاس رکھے کہ دونوں ہاتھ کی انگلیاں قبلہ کو ہوں۔ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 3، صفحہ 505، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
خلاصہ کلام یہ ہے کہ کتبِ فقہ پر نظر غائر سے یہی واضح ہوتا ہے کہ انگلیوں کا حلقہ صرف وقتِ اشارہ بنایا جائے گا، اس سے پہلے یا بعد میں نہیں۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: Fsd-9735
تاریخ اجراء: 06 شعبان المعظم1447ھ / 26جنوری 2026ء