تکبیرِ قنوت کے احکام اور قنوتِ نازلہ کی وضاحت
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
تکبیرِ قنوت میں ہاتھ نہ اٹھانے کا حکم / قنوتِ نازلہ کی وضاحت
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ (1) اگر نمازی وتر کی تیسری رکعت میں تکبیرِ قنوت کہتے وقت ہاتھ نہ اٹھائے تو کیا اس کے وتر درست ہوجائیں گے، یا اس پر وتر دہرانا۔۔یا۔۔ سجدہ سہو کرنا لازم ہوگا؟
(2)نیز قنوتِ نازِلہ کیا ہے؟ اور کیا اس میں بھی تکبیرِ قنوت کہتے وقت ہاتھوں کو اٹھائیں گے؟ اس حوالے سے بھی رہنمائی فرمائیں؟
جواب
(1)وتر کی تیسری رکعت میں دعائے قنوت سے پہلے تکبیرِ قنوت کہتے ہوئے ہاتھوں کو اٹھانا واجب نہیں بلکہ سنت مؤکدہ ہے۔ اور سجدہ سہو، نماز کا کوئی واجب سہواً (بھولے سے) ترک ہو جانے کی صورت میں واجب ہوتا ہے جبکہ نماز کا اعادہ (دہرانا) جان بوجھ کر واجب ترک کرنے یا سجدہ سہو واجب ہونے کے باوجود نہ کرنے کی صورت میں واجب ہوتا ہے، نماز کی کسی سنت کے ترک پر نہ تو سجدہ سہو واجب ہوتا ہے اور نہ نماز کا اعادہ واجب ہوتا ہے، البتہ ترک سنت کی وجہ سے نماز کا اعادہ مستحب ہوتا ہےچا ہے سنت سہواً ترک کی ہویا قصداً۔ یاد رہے! کہ بلا عذرِ شرعی جان بوجھ کر سنت مؤکدہ ترک کرنا اِساءت (برا عمل) ہے اور اس کے ترک کی عادت بنالینا ناجائز و گناہ ہے۔
نیز یہ بھی ذہن نشیں رہے کہ وتر کی قضا پڑھتے ہوئے لوگوں کے سامنے تکبیرِ قنوت کہتے وقت ہاتھوں کو نہیں اٹھایا جائے گا کہ اس میں گناہ (یعنی وتر قضا کرنے) کا اظہار ہے اور گناہ کا اظہار بھی گناہ ہے، جس سے بچنا شرعاً لازم وَ ضروری ہے۔
(2) جب مسلمانوں پر کوئی بڑا عام حادثہ آجائے تو فجر کی دوسری رکعت میں رکوع سے پہلے دعائے قنوت پڑھنے کو ”قنوتِ نازِلہ“ کہتے ہیں۔ احناف کے نزدیک کسی خاص مصیبت کے موقع پر ہی فجر کی دوسری رکعت میں رکوع سے پہلے قنوتِ نازِلہ پڑھنے کی اجازت ہے، عمومی حالات میں وتر کے علاوہ کسی بھی نماز میں قنوت نہیں پڑھ سکتے۔ نیز قنوتِ نازِلہ کے لیے کوئی مخصوص دعا نہیں ہے، بلکہ عام مصیبت واقع ہونے پر جو دعا کی جاتی ہے وہی دعا کی جائے گی۔ مثلاً طاعون آنے پر طاعون سے نجات کی دعا کی جائے گی اور کوئی دوسری وبا آنے پر اس وبا سے نجات کی دعا کی جائے گی۔ نیز اس (یعنی قنوتِ نازلہ) میں بھی تکبیرِ قنوت کہتے وقت ہاتھوں کو اٹھائیں گے اور امام و مقتدی سب آہستہ قنوت پڑھیں گے، جس مقتدی کو قنوت یاد نہ ہو وہ آہستہ آہستہ آمین کہتا رہے۔
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی فضیل رضا عطاری
تاریخ اجراء: ماہنامہ فیضانِ مدینہ فروری 2026ء