logo logo
AI Search

سفر پر جانے کے لیے عصر کی نماز سایہ ایک مثل پر پڑھنا

بسم اللہ الرحمن الرحیم

سفر پر جانا ہو تو عصر کی نماز سایہ ایک مثل ہونے کے بعد پڑھ سکتے ہیں ؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ زید کا ارادہ بعد نماز ظہر سفر کا ہے۔ سفر کی نوعیت اس طرح ہے کہ عصر (حنفی) کا انتظار کرتا ہے تو نماز عصر قضا ہو جائے گی، کیونکہ دوران سفر ایسی سہولت حاصل نہیں کہ گاڑی کو رُکوا کر یا گاڑی میں بیٹھے بیٹھے نماز ادا کر سکے تو کیا ایسی صورتحال میں بجائے نماز عصر قضاء کرے، تو کیا وہ مثل اول میں عصر کی نماز ادا کرسکتا ہے؟ یا چونکہ ہم حنفی ہیں تو ہم بجائے عصر کو مثل اول میں ادا کرنے کے عصر کی نماز قضا کرنے کو ترجیح دیں؟برائے کرم رہنمائی فرمائیں۔

جواب

امام اعظم رضی اللہ عنہ کے قول کے مطابق عصر کی نمازکا وقت ’’ہر شے کے سایہ اصلی کے علاوہ دومثل ہونے کے بعد‘‘ سے شروع ہوتا ہے۔جبکہ صاحبین(امام ابو یوسف اور امام محمد رحمۃ اللہ علیہما)کے نزدیک نماز عصر کا وقت سایہ اصلی کے علاوہ سایہ کے ایک مثل ہونے کے بعد سے شروع ہوجاتا ہے۔صاحبین کے قول کے مقابلے میں امام اعظم رضی اللہ عنہ کا قول اصح، ارجح اور احوط ہے۔لہذا اگر مثل اول کے بعد عصر کی نماز ادا کی، تو ادا ہی نہیں ہوگی، فرض ذمے پر باقی رہے گا اور اُسے دوبارہ پڑھنا لازم ہوگا۔اگر مثل ثانی کے بعدنہ پڑھی اور عصر کا وقت ختم ہوگیا تو نماز کی قضا لازم ہوگی اور قضا کا گناہ الگ ہوگا جس سے توبہ کرنی ہوگی۔

یہ تو عام حالات سے متعلق حکم ہے۔البتہ اگر کسی شخص کو سفر درپیش ہو اور اُسے یقین یا ظن غالب کے ساتھ معلوم ہو کہ اگر مثلِ اول کے بعد نماز عصر ادا نہیں کرے گا، تو دورانِ سفر مثل ثانی کے بعد اس کیلئے نمازِ عصر ادا کرنا ممکن نہیں ہوگا اور اُس کی نمازِ عصر قضا ہوجائے گی، تو اِس صورت میں ایسے شخص کو رُخصت ہوگی کہ وہ صاحبین کی تقلید کرتے ہوئے مثلِ اول کے بعد ہی نمازِ عصر ادا کرلے، اُس کی نمازِ عصر ادا ہوجائے گی اور دوہرانے کی بھی ضرورت نہیں ہوگی۔البتہ اگر دوران سفراُسے موقع مل جائے، یا عصر کا وقت ختم ہونے سے پہلے سفر بھی ختم ہو جائے تو مثل ثانی کے بعد نمازِ عصر دوبارہ ادا کرلے تاکہ امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے قول پر بھی اس کی نماز درست ہوجائے، ورنہ صاحبین رحمۃ اللہ علیہما کے مذہب پر تو اُس کی نماز عصر درست ہو ہی گئی ہے۔

امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے قول کے مطابق عصر کا وقت دومثل کے بعد شروع ہوتاہے، جبکہ صاحبین کے قول کے مطابق ایک مثل کے بعد ہی شروع ہوجاتا ہے، چنانچہ جوہرۃ النیرۃ علی مختصر القدوری میں ہے:

’’(قوله: وأول وقت العصر إذا خرج وقت الظهر على القولين) أي على اختلاف القولين عند أبي حنيفة بعد المثلين وعندهما بعد المثل‘‘

ترجمہ: ان کا قول کہ عصر کے وقت کی ابتدا اس وقت ہے جب دونوں قولوں کے اختلاف کے مطابق ظہر کا وقت ختم ہوجائے، یعنی امام ابو حنیفہ کے نزدیک دو مثل سایہ ہونے کے بعد(عصر کے وقت کی ابتدا) ہے، اور صاحبین کے نزدیک ایک مثل سایہ ہونے کے بعد(عصر کے وقت کی ابتدا) ہے۔ (جوھرۃ النیرۃ علی مختصر القدوری، جلد1، صفحہ41، المطبعة الخيرية)

سفر میں نماز ِعصر قضا ہونے کا علم ہوتو مذہبِ صاحبین پر مثلِ اول کے بعد ادا کرنے کی اجازت ہوگی، جیسا کہ ترک ِجماعت کے خوف سے مذہبِ صاحبین پر مثلِ اول کے بعد جماعت کے ساتھ نما زِ عصر ادا کرنے کی اجازت دی گئی ہے، چنانچہ فتاوی رضویہ میں سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن سے سوال ہوا کہ ’’یہاں کلکتہ میں آج کل آفتاب پونے چھ بجے غروب اور نمازِ عصر پونے چار بجے ادا کی جاتی ہے کہ اُس وقت سایہ سوائے سایہ اصلی کے دو مثل کسی طرح نہیں ہوتا اس صورت میں نماز مذہب مفتی بہ کے موافق ہوئی یا نہیں اور ایسی حالت میں جماعت میں شریک ہونا چاہیئے یا جماعت کا ترک اختیار کیا جائے ‘‘۔

آپ رحمۃ اللہ علیہ نے جواب ارشاد فرمایا: ’’محتاط فی الدین کو لازم کہ اگر جانے کہ مجھے مثل ثانی کے بعد جماعت مل سکتی ہے اگرچہ ایک ہی آدمی کے ساتھ تو اس جماعت باطلہ یا کم ازکم مکروہہ بکراہت شدیدہ میں شریک نہ ہو بلکہ وقت اجماعی پر اپنی جماعت صحیحہ نظیفہ اداکرے اور اگر جانے کہ پھر میرے ساتھ کو کوئی نہ ملے گا تو بتقلید صاحبین شریک جماعت ہوجائے اور تحصیلِ صحت متفق علیہا ورفعِ کراہت کیلئے مثلِ ثانی کے بعد پھر اپنی تنہا ادا کرے‘‘۔ (فتاوی رضویہ، جلد 5، صفحہ 132-136، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

اسی طرح سفر میں قافلہ نہ ٹھہرنے کی مجبوری کے سبب ظہر کے وقت میں ظہر کے ساتھ عصر کی نماز پڑھنے کی اجازت دی گئی ہے، چنانچہ سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فتاوی رضویہ میں ارشاد فرماتے ہیں: ’’سفرِ مدینہ طیبہ میں بعض مرتبہ قافلہ نہ ٹھہرنے کے باعث بمجبوری ظہر و عصر ملا کر پڑھنی ہوتی ہے  اس کے لیے لازم ہے کہ ظہر کے فرضوں سے فارغ ہونے سے پہلے ارادہ کرلے کہ اسی وقت عصر پڑھوں گا، اور فرض ظہر کے بعد فوراً عصر کی نماز پڑھے یہاں تک کہ بیچ میں ظہر کی سنتیں بھی نہ ہوں، اسی طرح مغرب کے بعد عشا بھی انھیں شرطوں سے جائز ہے اور اگر ایسا موقع ہوکہ عصر کے وقت ظہر یا عشا کے وقت مغرب پڑھنی ہو تو صرف اتنی شرط ہے کہ ظہر و مغرب کے وقت میں وقت نکلنے سے پہلے ارادہ کرلے کہ ان کو عصر و عشا کے ساتھ پڑھوں گا‘‘۔ (فتاوی رضویہ، جلد10، صفحہ731، 730، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

اگر ضرورتاً مثلِ اول کے بعد نمازِ عصر ادا کرلی تو مذہبِ صاحبین پر ادا ہوگئی اور اعادہ بھی لازم نہیں ہوگا، چنانچہ سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کا ارشاد ’’ملفوظات اعلی حضرت‘‘ میں ہے:

عرض: اگر قبل دو مثل کے عصر کی نماز پڑھ لی جائے تو ہوجائے گی ؟

ارشاد: ہاں! صاحبین (یعنی امام اعظم کے دو جلیل القدر شاگردامام ابو یوسف اور امام محمد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہما)کے نزدیک ہوجائے گی۔

عرض: کیا اِعادہ (یعنی نماز دوبارہ پڑھنا)واجب نہ ہوگا ؟

ارشاد: فرض نہ ہوگا کہ اس قول پر بھی فتویٰ دیا گیا ہے اگر چہ صحیح ومعتمد قولِ امام ہے‘‘۔ (ملفوظات اعلی حضرت، صفحہ84، 83، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری

فتوی نمبر: FAM-1047

تاریخ اجراء13 رجب المرجب1447ھ/03جنوری 2026ء