logo logo
AI Search

کیا بغیر داڑھی والا شخص امامت کروا سکتا ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

جس کی قدرتی داڑھی نہ آئی ہو امامت کروا سکتا ہے؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ قدرتی طور پر داڑھی نہ آرہی ہو تو کیا نماز پڑھا سکتے ہیں؟

جواب

وہ شخص جو امامت کا اہل ہو یعنی ایسا عاقل بالغ مرد جس کا عقیدہ و قراءت درست ہے اور وہ شرعی معذور بھی نہیں تو وہ امامت کرواسکتا ہے، اگرچہ قدرتی طور پر اس کی داڑھی نہ آئی ہو؛ کہ داڑھی ہونا امامت کے لیے شرط نہیں۔ ہاں اگر داڑھی نہ ہونے کی وجہ سے امرد یعنی پرکشش خوبصورت نوجوان لگے اور فاسقوں کے لیے باعث شہوت ہو تو اس کے پیچھے نماز پڑھنا مکروہ تنزیہی و ناپسندیدہ ہے، البتہ پڑھی گئی تو ہو جائے گی۔

واضح رہے! مذکورہ مسئلہ قدرتی طور پر داڑھی نہ ہونے کے متعلق ہے، تاہم وہ شخص جو داڑھی آنے کے باوجود منڈواتا یا ایک مٹھی سے کم کرواتا ہے، وہ علانیہ گناہ کرنے کی وجہ سے فاسق معلن ہے، لہذا اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ہوگی، یعنی بلا وجہ شرعی ایسے کے پیچھے نماز پڑھنا ناجائز و گناہ ہے اور پڑھی گئی تو اعادہ لازم ہے۔

امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ / 1921ء) لکھتے ہیں: پنجگانہ میں ہر شخص صحیح الایمان، صحیح القرأۃ، صحیح الطہارۃ، مرد، عاقل، بالغ، غیر معذور امامت کر سکتا ہے یعنی اس کے پیچھے نماز ہو جائے گی، اگرچہ بوجہ فسق وغیرہ مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہو۔ (فتاوی رضویہ، جلد 6، صفحہ 515، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں: اگر بالغ ہے تو ہر نماز یہاں تک کہ فرائض پنجگانہ بھی اس کے پیچھے ہو تو جائیں گے کہ داڑھی مونچھ شرط صحت امامت نہیں، بلوغ درکار ہے اور وہ ظہور آثار مثل احتلام وغیرہ سے لڑکوں میں بارہ برس کی عمر سے ممکن۔ (فتاوی رضویہ، جلد 6، صفحہ 389، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

علامہ ابو الخیر مفتی محمد نور اللہ نعیمی بصیر پوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1403ھ / 1983ء) لکھتے ہیں: اگر قدرتی طور پر داڑھی نہ ہو یا تازہ بالغ ہوا اور ابھی داڑھی اتری نہیں تو وہ امام بن سکتا ہے۔ ... شرائط امامت بالغین سے ہے کہ امام بھی بالغ ہو اور یہ شرط کسی آیت یا حدیث یا کتاب فقہ میں ہرگز ہرگز نہیں کہ بالغ ہونے کے بعد داڑھی بھی اتر چکی ہے تو نماز جائز ہے ورنہ نہیں۔ (فتاوی نوریہ، جلد 1، صفحہ 353 و 356 ملتقطاً، فقیہ اعظم پبلی کیشنز بصیر پور، اوکاڑہ)

علامہ ابن عابدین سید محمد امین بن عمر شامی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1252ھ / 1836ء) لکھتے ہیں: ”تكره خلف أمرد الظاهر أنها تنزيهية أيضا و الظاهر أيضا كما قال الرحمتي أن المراد به الصبيح الوجه لأنه محل الفتنة“ ترجمہ: امرد کے پیچھے نماز پڑھنا مکروہ ہے، ظاہر یہی ہے کہ یہ کراہت بھی تنزیہی ہے، اور یہ بھی ظاہر ہے جیسا کہ علامہ رحمتی نے فرمایا کہ اس سے مراد خوبصورت چہرے والا لڑکا ہے؛ کیونکہ وہ محل فتنہ ہوتا ہے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الصلاة، باب الامامة، جلد 1، صفحہ 562، دار الفکر، بیروت)

امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ / 1921ء) سے سوال ہوا کہ ”زید کی عمر اٹھارہ سال کی ہے اور حافظ ہے، داڑھی نہیں ہے، آیا اس کے پیچھے نماز درست ہے یا نہیں؟“ تو آپ نے جواباً ارشاد فرمایا: ”اگر حسین و جمیل خوب صورت ہو کہ فساق کے لیے محل شہوت ہو تو اس کی امامت خلاف اولیٰ ہے، ورنہ نہیں۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 6، صفحہ 545، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

فقیہِ حنفیہ علامہ حسن بن عمار شرنبلالی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1069ھ / 1658ء) لکھتے ہیں: ”كره إمامة الفاسق العالم لأنه لا يهتم لأمر دينه ولأن في تقديمه للإمامة تعظيمه و قد وجب إهانته شرعا“ ترجمہ: فاسق عالم کی امامت مکروہ ہے؛ کیونکہ وہ اپنے دین کے حکم کی پرواہ نہیں کرتا، اور اس لیے کہ اسے امامت کے لیے آگے کرنا اس کی تعظیم کرنا ہے، حالانکہ شرعی طور پر فاسق کی اہانت واجب ہے۔ (إمداد الفتاح شرح نور الإيضاح، کتاب الصلاۃ، باب الامامة، صفحہ 342، مطبوعه کوئٹہ)

امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ / 1921ء) لکھتے ہیں: داڑھی منڈانا اور کتروا کر حد شرع سے کم کرانا دونوں حرام و فسق ہیں اور اس کا فسق بالاعلان ہونا ظاہر کہ ایسوں کے منہ پر جلی قلم سے فاسق لکھا ہوتا ہے اور فاسق معلن کی امامت ممنوع و گناہ ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 6، صفحہ 505، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ایک مقام پر فرماتے ہیں: داڑھی ترشوانے والے کو امام بنانا گناہ ہے اور اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی کہ پڑھنی گناہ اور پھیرنی واجب۔ (فتاوی رضویہ، جلد 6، صفحہ 603، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

علامہ ابو الخیر مفتی محمد نور اللہ نعیمی بصیر پوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1403ھ / 1983ء) لکھتے ہیں: منصب امامت بہت ہی بڑا دینی منصب ہے، داڑھی منڈانے والا فاسق اور گناہ گار اس بلند منصب کے لائق نہیں، لہذا اسے امام نہ بنایا جائے، اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ہے، لہذا اس کا لوٹانا واجب ہے۔ (فتاوی نوریہ، جلد 1، صفحہ 346 - 347، فقیہ اعظم پبلی کیشنز بصیر پور، اوکاڑہ)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1153
تاریخ اجراء: 21 شوال المكرم 1447ھ / 10 اپریل 2026ء