logo logo
AI Search

بیٹھ کر اقامت کہنے کا حکم

بیٹھ کر اقامت کہنے کا حکم

دارالافتاء اھلسنت عوت اسلامی)

سوال

کیا  کوئی شخص بیٹھ کر اقامت کہہ سکتا ہے؟  رہنمائی فرما دیں ۔

جواب

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

اقامت کا حکم اذان والا ہے ، لہٰذا جس طرح بغیر عذر بیٹھ کر اذان دینا ،مکروہ ہے ، یونہی بلا عذر بیٹھ کر اقامت کہنا مکروہ ہے ۔

درمختار میں ہے

 "والإقامة كالأذان"

ترجمہ: اقامت کا حکم اذان والا ہے۔ (درمختار  مع رد المحتار،ج 1،ص 388،دار الفکر،بیروت)

فتاویٰ ہندیہ  میں ہے

"ويكره الأذان قاعداً"

ترجمہ: بیٹھ کر اذان دینا مکروہ ہے ۔ (فتاوی ھندیۃ،ج 1،ص 54،دار الفکر،بیروت)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابو الفیضان مولانا محمد عرفان عطاری مدنی

فتوی نمبر:WAT-3853

تاریخ اجراء:24ذوالقعدۃ الحرام1446ھ/22مئی2025ء