چارپائی پر نماز پڑھ سکتے ہیں؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
چارپائی پر نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ چارپائی پر نماز پڑھنا کیسا؟
جواب
اگر چارپائی اتنی سخت بنی ہوئی ہے، کہ اس پر سجدہ کرنے میں پیشانی پوری طرح جم جاتی ہو، یعنی دبانے سے مزید نہ دبتی ہو، تو اس پر نماز جائز ہے، ورنہ نہیں۔ اسی طرح کے سوال کے جواب میں فتاوی رضویہ میں ہے "اصل ان مسائل میں یہ ہے کہ جو چیز ایسی ہوکہ سجدہ میں سر اُس پر مستقر ہو جائے یعنی اُس کادبنا ایک حد پر ٹھہر جائے کہ پھر کسی قدر مبالغہ کریں اس سے زائد نہ دبے ایسی چیز پر نماز جائز ہے خواہ وہ چارپائی ہو یا زمین پر رکھا ہوا گاڑی کا کھٹولا یا کوئی شے۔۔۔ردالمحتار میں ہے
"تفسیرہ، ان المساجد لوبالغ لایتسفل رأسہ ابلغ من ذلک، فصح علی طنفسۃ وحصیر وحنطۃ وشعیر وسریر وعجلۃ انکانت علی الارض"
(اس کی تشریح یہ ہے کہ سجدہ کرنے والا اگر سر کو مزید نیچے کرنا چاہے تو نہ کرسکے، اس لئے دبیز کپڑے پر، پھُوڑی پر، گندم پر، جَوپر، تخت پر اور گاڑی پر اگر وہ زمین پر کھڑی ہوتو سجدہ صحیح ہے۔) نظر کیجئے تو یہ خاص مسئلہ کا جزیہ ہے زبانِ عرب میں سر یر تخت و چارپائی دونوں کو شامل ہے کما لایخفی علی من طالع الاحادیث الخ۔" (فتاوی رضویہ، ج 05، ص 346، 347، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
فتاویٰ عالمگیری میں ہے
”ولو سجد على الحشيش أو التبن أو على القطن أو الطنفسة أو الثلج إن استقرت جبهته وأنفه ويجد حجمه يجوز وإن لم تستقر لا“
ترجمہ: اگر کسی نے گھاس، بھوسے، روئی، قالین (طنفسہ) یا برف پر سجدہ کیا تو اگر اس کی پیشانی اور ناک اچھی طرح جم جائیں اور اسے اپنی پیشانی کی ٹھوس حالت محسوس ہو تو سجدہ جائز ہے۔ اور اگر پیشانی ٹھیک طرح نہ جمے تو سجدہ جائز نہیں۔ (فتاویٰ عالمگیری، جلد 1، صفحہ 70، مطبوعہ: کوئٹہ)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4811
تاریخ اجراء: 16 رمضان المبارک 1447ھ/ 06 مارچ 2026ء