دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ زید ٹرک ڈرائیور ہے اور اسے کئی کئی دن لانگ روٹس پر جانا پڑتا ہے، مثلاً اسپین سے فرانس اور فرانس سے جرمنی وغیرہ، تو اس کے لیے سفر میں نماز کے کیا احکام ہوں گے؟ یعنی وہ نماز کتنی پڑھے گا اور سنتوں کے بارے میں کیا حکم ہوگا؟
جب کوئی شخص 92 کلومیٹر یا اس سے زیادہ کے متصل سفر کی نیت کے ساتھ اپنی بستی کی آبادی سے باہر نکل جاتا ہے تو وہ شرعاً مسافر ہو جاتا ہے، اس کے لیے فرض نماز میں قصر کرنے کا حکم ہے یعنی وہ ظہر، عصر اور عشا کے چار رکعتی فرضوں کو دو دو پڑھے گا، لہذا زید بھی اسی طرح اپنی نمازیں ادا کرے، اگرچہ کئی کئی دن یا ہفتے اسی طرح گزر جائیں، یہاں تک کہ سفر پورا کر کے اپنے وطن اصلی میں لوٹ آئے یا کسی آبادی میں 15 دن ٹھہرنے کی نیت کے ساتھ مقیم ہو جائے۔
واضح رہے کہ فرائضِ فجر و مغرب میں، نماز وتر میں اور سنت نمازوں میں قصر نہیں۔ نیز اگر امن و قرار اور اطمینان کی حالت ہو تو بحالت سفر بھی سنت مؤکدہ نمازیں ادا کی جائیں، البتہ اگر امن و قرار کی حالت نہیں بلکہ روا روی یعنی خوف یا عجلت کی صورت ہے تو سنتیں ترک کرنے میں حرج نہیں، لیکن یہ حکم سنت فجر کے علاوہ باقی سنتوں کا ہے، فجر کی سنتیں چونکہ قریب بواجب ہیں، اس لیے انہیں ترک کرنے کی اجازت نہیں۔
امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ/1921ء) لکھتے ہیں:
”(المسافر) من جاوز عمران موطنه قاصدا ميسرة ثلاثة ايام“
ترجمہ: جو شخص تین دن کے سفر کے ارادے کے ساتھ اپنے وطن کی آبادی سے باہر نکل جائے وہ مسافر ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 8، صفحہ 243، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1367ھ/1948ء) لکھتے ہیں: ”مسافر پر واجب ہے کہ نماز میں قصر کرے یعنی چار رکعت والے فرض کو دو پڑھے، اس کے حق میں دو ہی رکعتیں پوری نماز ہے۔ ...سنتوں میں قصر نہیں بلکہ پوری پڑھی جائیں گی، البتہ خوف اور روا روی(جلدی) کی حالت میں معاف ہیں اور امن کی حالت میں پڑھی جائیں۔ مسافر اس وقت تک مسافر ہے جب تک اپنی بستی میں پہنچ نہ جائے یا آبادی میں پورے پندرہ دن ٹھہرنے کی نیت نہ کر لے، یہ اس وقت ہے جب تین دن کی راہ چل چکا ہو اور اگر تین منزل پہنچنے سے پیشتر واپسی کا ارادہ کر لیا تو مسافر نہ رہا اگرچہ جنگل میں ہو۔“ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 4، صفحہ 743-744، مکتبة المدینہ، کراچی)
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فتاوی امجدیہ میں لکھتے ہیں: ”اگر سفر میں اطمینان نہ ہو جب تو سنتوں کے ترک میں کوئی قباحت ہی نہیں اور اطمینان ہو جب بھی سنن کا تأکد جو حضر میں ہے، وہ سفر میں نہیں رہتا؛ کہ سفر خود ہی قائم مقام مشقت کے ہے۔ ... اور یہ حکم سنت فجر کے غیر کا ہے اور سنت فجر چونکہ قریب بوجوب ہے، لہذا سفر کی وجہ سے اس کے ترک کی اجازت نہیں، اور بعض آئمہ کا قول یہ بھی ہے کہ مغرب کی سنتیں بھی ترک نہ کرے؛ کیونکہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر و حضر کہیں بھی اس کو ترک نہیں کیا ہے۔ “ (فتاوی امجدیہ، جلد 1، صفحہ 284، مکتبہ رضویہ، کراچی)
علامہ ابو الخیر مفتی محمد نور اللہ نعیمی بصیر پوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1403ھ/1983ء) لکھتے ہیں: ”مسافر سنتوں کو ادا کرے اور بلا عذر ترک نہ کرے، اور مختار یہ ہے کہ مسافر اگر امن و قرار کے حال میں ہے تو سنتیں ادا کرے؛ اس لیے کہ (سنتیں) فرائض کے لیے تکمیل کرنے والی بنائی گئی ہیں اور مسافر تکمیل کا محتاج ہے، اور اگر حالت خوف میں ہو تو ترک کر سکتا ہے، یہ ترک عذر سے ہے... اور جانب ترک میں دلیل حرمت و کراہت نہیں۔“ (فتاوی نوریہ، جلد1، صفحہ 614-615، فقیہ اعظم پبلی کیشنز بصیر پور، اوکاڑہ)
نوٹ: قصر نماز اور اس کے متعلقہ مزید مسائل و احکام سیکھنے کے لیے امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ کے رسالے "مسافر کی نماز" اور بہار شریعت حصہ چہارم سے "نماز مسافر کا بیان" پڑھنا مفید رہے گا۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتوی نمبر: FAM-1020
تاریخ اجراء:25 جمادى الآخر 1447ھ/17 دسمبر 2025ء