logo logo
AI Search

عید کے خطبے کی تکبیریں سننا واجب ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

عیدین کے خطبے میں پڑھی جانے والی تکبیرات سننے کا حکم

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ عیدین کے خطبے کے دوران خطیب جو تکبیرات پڑھتا ہے، اس کے متعلق شرعی حکم کیا ہے؟ کیا جس طرح خطبہ سننا واجب ہوتا ہے، اسی طرح ان تکبیرات کو سننا بھی واجب ہے؟ نیز کیا مقتدیوں کے لیے جائز ہے کہ وہ خطیب کے ساتھ بلند آواز میں تکبیرات پڑھیں، یا انہیں خاموش رہ کر صرف سننا چاہیے؟ اسی طرح یہ بھی وضاحت فرمائیں کہ کیا مقتدیوں پر لازم ہے کہ وہ تکبیرات کے مکمل ہونے تک وہاں بیٹھ کر انہیں سنیں، یا اگر کوئی شخص آخری تکبیرات مکمل ہونے سے پہلے ہی اٹھ کر چلا جائے تو اس کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟

جواب

عیدین کے خطبے کے دوران جو تکبیرات خطیب صاحب پڑھتے ہیں، وہ بھی خطبے کا ہی حصہ ہیں، اور ان کے لیے بھی وہی حکم ہے، جو خطبے کا ہے، یعنی ان کو بھی خاموشی کے ساتھ سننا واجب ہے، مقتدیوں کے لیے خطیب کے ساتھ ان کو پڑھنا جائز نہیں، نیز مکمل خطبہ سننا واجب ہے، خطبہ مکمل ہونے سے پہلے اٹھنا جائز نہیں۔

درمختار میں ہے "(و كل ما حرم في الصلاة حرم فيها) أي في الخطبة خلاصة و غيرها فيحرم أكل و شرب و كلام و لو تسبيحا أو رد سلام أو أمرا بمعروف بل يجب عليه أن يستمع و يسكت ۔۔۔ و كذا يجب الاستماع لسائر الخطب كخطبة نكاح و خطبة عيد و ختم على المعتمد." ترجمہ: اور ہر وہ کام جو نماز میں حرام ہے، خطبے میں بھی حرام ہے، خلاصہ وغیرہ۔ پس خطبے کے دوران کھانا پینا، اور کلام کرنا، اگرچہ تسبیح ہو، یا سلام کا جواب دینا، یا نیکی کی دعوت دینا، حرام ہے، بلکہ خطبہ سننے والے پر واجب ہے کہ وہ غور سے سنے اور خاموش رہے۔۔۔ اسی طرح معتمد قول کے مطابق تمام خطبوں کو سننا واجب ہے، جیسے خطبہ نکاح، خطبہ عید اور خطبہ ختم القرآن۔ (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الصلاۃ، باب الجمعۃ، جلد 3، صفحہ 39، 40، مطبوعہ: کوئٹہ)

فتاوی ہندیہ میں ہے "و الذي عليه عامة مشايخنا أن على القوم أن يسمعوا الخطبة من أولها إلى آخرها" ترجمہ: وہ بات جس پر اکثر مشائخ ہیں، وہ یہ ہے کہ لوگوں پر لازم ہے کہ وہ اول تا آخر خطبے کو سنیں۔ (الفتاوی الھندیۃ، کتاب الصلاۃ، الباب السادس عشر في صلاة الجمعة، جلد 1، صفحہ 162، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

امام اہلسنت اعلی حضرت رحمۃ اللہ تعالی علیہ فتاوی رضویہ میں فرماتے ہیں: انھیں عباراتِ ائمہ میں تصریح گزری کہ بحالتِ خطبہ چلنا حرام ہے یہاں تک کہ علمائے کرام فرماتے ہیں کہ اگر ایسے وقت آیا کہ خطبہ شروع ہوگیا مسجد میں جہاں تک پہنچا وہیں رُک جائے آگے نہ بڑھے کہ عمل ہوگا اور حالِ خطبہ میں کوئی عمل روا نہیں۔۔۔ چلنا تو بڑی چیز ہے انھیں عبارات علماء میں تصریح گزری کہ خطبہ ہوتے میں ایک گھونٹ پانی پینا حرام، کسی طرف گردن پھیر کر دیکھنا حرام، تو وہ حرکت مذکورہ کس درجہ سخت حرام ہوگی۔ (فتاوی رضویہ، جلد 8، صفحہ 333، 334، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

امام اہلسنت اعلی حضرت رحمۃ اللہ تعالی علیہ فتاوی رضویہ میں فرماتے ہیں: کتب دینیہ میں تصریح ہے کہ ہر خطبے حتی کہ خطبہ نکاح و خطبہ ختم قرآن کا سننا بھی فرض ہے اور ان میں غل کرنا حرام حالانکہ خطبہ نکاح صرف سنت ہے اور خطبہ ختم نرا مستحب۔ (فتاوی رضویہ، جلد 24، صفحہ 170، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد انس رضا عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4903
تاریخ اجراء: 29 شوال المکرم 1447ھ / 18 اپریل 2026ء