logo logo
AI Search

فجر سے پہلے عشاء کی قضا نماز پڑھنا درست ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فجر کی سنتوں سے پہلے عشاء کی قضا نماز پڑھ سکتے ہیں؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیافرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کےبارے میں کہ اگر کسی شخص کی نمازِ عشاء رہ گئی ہو اور فجر کے وقت میں سنتیں پڑھنے سے پہلے عشاء کی قضا پڑھنا چاہے، تو کیا پڑھ سکتا ہے؟

سائل: محمد شہباز عطاری

جواب

اگر کسی شخص کی نمازِ عشاء رہ گئی ہو اور فجر کے وقت میں سنتیں پڑھنے سے پہلے عشاء کی قضا نماز پڑھنا چاہے اور اگر وہ شخص صاحبِ ترتیب ہو، تو فجر کی نماز ادا کرنے سے پہلے عشاء کی قضاپڑھنا ضروری ہے یعنی پہلے عشاء پڑھے اور پھر فجر ادا کرے اور اگر صاحب ترتیب نہیں، تو پھر بھی وقتِ فجر میں عشاء کی قضا نماز پڑھنا درست ہے، اِس میں کوئی حرج نہیں، مگر یہاں یہ خیال رہے کہ اگر مسجد میں عشاء کی قضاء نماز پڑھی جائے، تو لوگوں کو بدگمانی کا موقع ملے گا، نیز اگر بلاوجہِ شرعی نماز میں کوتاہی ہونے کے سبب نماز رہ گئی ہو، تو اب مسجد میں قضا کرنے کی صورت میں لوگوں کو گناہ پر مطلع کرنا بھی پایا جائے گا، لہذا گھر میں ہی قضا نماز پڑھنے کی صورت اختیار کی جائے۔

تین مکروہ اوقات کے علاوہ کسی وقت بھی قضا نماز ادا کی جاسکتی ہے۔ ملک العلماءعلامہ کاسانی حنفی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال: 587ھ / 1191ء) لکھتے ہیں:

ليس للقضاء وقت معين بل جميع الأوقات وقت له إلا ثلاثة وقت طلوع الشمس ووقت الزوال ووقت الغروب فإنه لا يجوز القضاء في هذه الأوقات لما مر أن من شأن القضاء أن يكون مثل الفائت و الصلاة في هذه الأوقات تقع ناقصة و الواجب في ذمته كامل فلا ينوب الناقص عنه۔

ترجمہ:قضا نمازوں کے لیے کوئی خاص وقت مقرر نہیں ہے، بلکہ تین اوقات کے سوا تمام اوقات ان کی ادائیگی کے لیے ہیں: طلوع آفتاب، زوال اور غروب آفتاب۔ ان اوقات میں قضا نماز ادا کرنا جائز نہیں، کیونکہ جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے کہ قضا کی شان یہ ہے کہ وہ فوت شدہ نماز کی مثل ہو، جبکہ ان اوقات میں نماز ناقص ادا ہوتی ہے، حالانکہ انسان کے ذمہ واجب کامل ہے، لہذا ناقص، کامل کا قائم مقام نہیں بن سکتا۔ (بدا ئع الصنائع، جلد 01، کتاب الصلاۃ، صفحہ 246، مطبوعہ دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

بالخصوص وقتِ فجر میں قضاء نماز پڑھنے کے متعلق تبیین الحقائق میں ہے:

لو صلى القضاء في هذا الوقت جاز؛ لأن النهي عن التنفل فيه لحق ركعتي الفجر حتى يكون كالمشغول بها؛ لأن الوقت متعين لها حتى لو نوى تطوعا كان عن سنة الفجر من غير تعيين منه فلا يظهر في حق الفرض؛ لأنه فوقها۔

ترجمہ: اگر کسی نے وقتِ فجر میں قضا نماز پڑھی تو جائز ہے، کیونکہ اس وقت میں نفل کی ممانعت فجر کی دو رکعتوں کے حق کی خاطر ہے، تاکہ یہ وقت ان سنتوں میں مشغولیت کے حکم میں ہو جائے۔ چونکہ یہ وقت انہی کے لیے متعین ہے اس لیے اگر کوئی شخص محض نفل نماز کی نیت کرے، تو وہ نماز بلاتعیین فجر کی سنت ہی شمار ہوگی، جبکہ یہ ممانعت فرض نماز کے حق میں ظاہر نہیں ہوگی، کیونکہ فرض کا درجہ سنت سے بلند ہے۔ (تبیین الحقائق، جلد 1، کتاب الصلاۃ، صفحہ 87، مطبوعہ مصر)

فجر کے وقت میں عشاء کی قضا ادا کرنی ہو تو گھر میں ہی پڑھ لی جائے، مسجد میں لوگوں کے سامنے قضا نماز ادا نہ کی جائے، چنانچہ علامہ ابن نجیم مصری حنفی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے لکھا:

قد صرحوا بان الفائتۃ لاتقضٰی فی المسجد لما فیہ من اظھار التکاسل فی اخراج الصلاۃ عن وقتھا فالواجب الاخفاء۔

ترجمہ: فقہائے کرام نے یہ صراحت سے بیان کیا ہے کہ قضا نماز کو مسجد میں ادا نہ کیا جائے، کیونکہ وہاں لوگوں کے سامنے قضا نماز پڑھنے سے، سستی کے سبب، نمازوں کو ضائع کرنے کا اظہار ہے، حالانکہ اِس چیز کو چھپانا واجب ہے۔ (بحر الرائق، جلد 1، کتاب الصلوٰۃ، صفحہ 456، مطبوعہ دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

صاحب ترتیب شخص پر فرض نمازوں میں باہم ترتیب رکھنا لازم ہوتا ہے، یعنی پہلے قضاء پڑھے پھر ادا پڑھے، ہاں یہ صورت جدا ہے کہ جب وہ وہ قضا نماز بھول جائے، یا وقت تنگ ہو، یا صاحب ترتیب ہی نہ رہا ہو، چنانچہ تنویر الابصار مع در مختار میں ہے:

(الترتیب بین الفروض الخمسۃ و الوتر اداء و قضاء لازم۔۔۔ الا) فلا یلزم الترتیب (اذا ضاق الوقت أو نسیت الفائتۃ أو فاتت ست بخروج وقت السادسۃ)۔

ترجمہ: پانچ فرض نمازوں میں باہم اور وتر میں ترتیب لازم ہے، چاہے یہ ادا ہوں یا قضا، سوائے یہ کہ جب وقت تنگ ہو یا قضا ہونے والی نماز کو بھول جائے یا چھٹی نماز کا وقت نکل جانے سے چھ نمازیں قضا ہوجائیں تو اب ترتیب لازم نہیں۔ (تنویر الابصار مع در المختار، صفحہ 97، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-9676
تاریخ اجراء: 23 جمادی الاخری1447ھ / 15 دسمبر 2025ء