امام کا وتر کی تیسری رکعت میں آہستہ قراءت کرنا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
امام کا وتر کی تیسری رکعت میں آہستہ آواز میں قراءت کرنا
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
اگر امام صاحب وتروں کی تیسری رکعت میں سورہ فاتحہ اور سورت آہستہ آواز میں پڑھ دیں، تو کیا حکم ہے؟
جواب
وتر کی تینوں رکعتوں میں امام پر جہری (یعنی بلند) آواز سے قراءت کرنا واجب ہے، لہذا اگر امام نے بھولے سے وتر کی تیسری رکعت میں آہستہ آواز سے سورہ فاتحہ اور سورت پڑھ دی، تو ترک واجب کے سبب سجدہ سہو لازم ہو گا، اور اگر سجدہ سہو نہ کیا، تو نماز واجب الاعادہ ہوگی، اسی طرح اگر امام نے جان بوجھ کر یا مسئلہ معلوم نہ ہونے کی وجہ سے وتر کی تیسری رکعت میں آہستہ آواز سے قراءت کی، تو نماز واجب الاعادہ ہوگی۔ تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے
(و يجهر الإمام) وجوبا۔۔۔ (في الفجر و أولیى العشاءين أداء و قضاء و جمعة و عيدين و تراويح و وتر بعدها)۔۔۔ (و يسر في غيرها)
ترجمہ: امام فجر میں، مغرب و عشا کی پہلی دو رکعتوں میں، ادا ہو یا قضا، اور جمعہ و عیدین و تراویح اور اس کے بعد وتر میں، وجوبی طور پر جہری قراءت کرے گا، اور ان کے علاوہ میں سری قراءت کرے گا۔ (الدر المختار مع رد المحتار، جلد 2، صفحہ 304 تا 306، مطبوعہ: کوئٹہ)
فتاوی عالمگیری میں ہے
لو جهر فيما يخافت أو خافت فيما يجهر وجب عليه سجود السهو
ترجمہ: جن نمازوں میں سری قراءت ہے، ان میں اگر امام نے جہر سے قراءت کی، یا جن نمازوں میں جہری قراءت ہے، ان میں آہستہ قراءت کی، تو اس پر سجد ہ سہو واجب ہو گا۔ (فتاوی عالمگیری، جلد 1، صفحه 128، مطبوعه: کوئٹہ)
بہارِ شریعت میں ہے فجر و مغرب و عشا کی دو پہلی میں اور جمعہ و عیدین و تراویح اور وتر رمضان کی سب میں امام پر جہر واجب ہے اور مغرب کی تیسری اور عشا کی تیسری چوتھی یا ظہر و عصر کی تمام رکعتوں میں آہستہ پڑھنا واجب ہے۔ (بہارِ شریعت، جلد 1، حصہ 3، صفحہ 544، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
درِ مختار میں ہے
تعاد وجوباً فی العمد و السھو ان لم یسجد
ترجمہ: نماز کا کوئی واجب جان بوجھ کر چھوڑا، تو نماز واجب الاعادہ ہے، اور اگر بھولے سے رہ گیا، لیکن سجدہ سہو نہ کیا، تو بھی واجب الاعادہ ہے۔ (رد المحتار مع الدر المختار، جلد 2، صفحہ 181، مطبوعہ: کوئٹہ)
دار الاسلام میں شرعی مسائل سے نا واقفی عذر نہیں، چنانچہ امام اہلسنت، امام احمدرضاخان علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں:
لان الدار دار السلام فلا یکون الجھل فی احکام الشرعیۃ عذرا
(چونکہ یہ دار الاسلام ہے، لہذا احکام شرعیہ سے جاہل ہونا کوئی عذر نہ ہوگا۔) (فتاوی رضویہ، جلد 11، صفحہ 224، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد فرحان افضل عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4802
تاریخ اجراء: 14رمضان المبارک1447ھ / 04مارچ2026ء