logo logo
AI Search

امام کی سیدھی جانب اقامت کہنے کا حکم

بسم اللہ الرحمن الرحیم

امام کی سیدھی جانب کھڑے ہو کر اقامت کہنا کیسا؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جو شخص اقامت کہے اس کو کہاں ہونا چاہیے؟ عین امام کے پیچھے یا امام کی تھوڑی سیدھی جانب؟ ایک شخص اپنا مصلیٰ امام کی سیدھی جانب بچھاتا ہے اور وہاں کھڑے ہو کے اقامت کہتا ہے اس کا ایسا کرنا کیسا؟

جواب

اقامت مسجد میں امام کے عین پیچھے کھڑے ہو کر کہنا سنت ہے ، اگر بالکل پیچھے جگہ نہ ملے تو سیدھی طرف کھڑا ہونا بہتر ہے ۔

سیدی اعلی حضرت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:"اقامت امام کی محاذات میں کہی جائے، یہی سنت ہے ، وہاں جگہ نہ ملے تو دہنی طرف لفضل الیمین عن الشمال ورنہ بائیں طرف لحصول المقصود بکل حال" (فتاوی رضویہ ،ج5، ص397، رضا فاؤنڈیشن ، لاہور)

فتاوی خلیلیہ میں ہے:"اقامت ، امام کی محاذات (مقابل)میں کہی جائے ، یہی سنت ہے ، وہاں جگہ نہ ملے تو داہنی طرف لفضل الیمین علی الشمال ورنہ بائیں طرف کہے لحصول المقصود بکل حال لہذا سنت طریقہ امام کے پیچھے اقامت کہنا ہے ورنہ دائیں پھر بائیں طرف بھی جائز ہے" (فتاوی خلیلیہ ، ج1، ص227،ضیاء القرآن پبلی کیشنز)

فتاوی اجملیہ میں ہے:"مکبر کو بہتر یہ ہے کہ امام کے پیچھے کھڑے ہو کر تکبیر کہے اور اگر وہاں موقع نہ ہو تو امام کے داہنی طرف تکبیر کہنی چاہیے"

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا فرحان احمد عطاری مدنی

فتوی نمبر: Web-2070

تاریخ اجراء: 18جمادی الاخریٰ 1446 ھ/21 دسمبر 2024 ء