امام نے اگر نماز میں کسی ایسے فعل کا ارتکاب کیا، جس کی وجہ سے اس کی نماز مکروہ تحریمی ہوئی، جیسے ریشمی کپڑاپہن کر نماز پڑھائی، تو ایسی صورت میں اس کی نماز مکروہ تحریمی اور واجب الاعادہ ہوگی، اور اس کی وجہ سے مقتدیوں کی نماز بھی مکروہ تحریمی ہو جائے گی اور ان پر بھی نماز کا اعادہ لازم ہوگا۔ فتاوی رضویہ میں ہے "فی الواقع ریشمیں کپڑا پہن کر نماز مرد کے لئے مکروہ تحریمی ہے کہ اسے اتار کر پھر پڑھنا واجب۔۔۔اور پُر ظاہر کہ نماز امام کی یہ کراہت نماز مقتدیان کی طرف بھی سرایت کرے گی تو اُن سب کی نمازیں خراب وناقص ہونے کا یہی شخص باعث ہوا۔" (فتاوی رضویہ، ج 7، ص 306، 307، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
فتاوٰی تاج الشریعہ میں ہے ”اگر واقعی وہ امام تعدیل ارکان نہیں کرتا تو امامت اس کی مکروہ تحریمی ہے اور اس کے پیچھے نماز واجب الاعادہ ہے۔“ (فتاوى تاج الشريعه، جلد4، صفحہ109، اکبر بک سیلرز)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد حسان عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-4626
تاریخ اجراء: 24رجب المرجب1447ھ/09جنوری2026ء