logo logo
AI Search

جماعت کے دوران کسی کے گر جانے پر نماز توڑنا کیسا؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

جماعت کے دوران کوئی شخص گر جائے تو دیکھنے والا شخص نماز توڑ سکتا ہے ؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر کوئی شخص جماعت کے ساتھ نماز پڑھ رہا ہو اور دورانِ نماز اس کے سامنے صف میں موجود کوئی نمازی منہ کے بَل گرپڑے، تو کیا ایسی صورت میں نماز توڑ کر اُس کی مدد کرنا جائز ہے؟ اور اگر کوئی دوسرا نمازی پہلے ہی مدد کے لیے نماز توڑ چکا ہو اور وہ شخص پھر بھی دوبارہ گر جائے، تو دوسرے نمازی کے لیے نماز توڑ کر مدد کرنا جائز ہوگا یا نہیں؟

جواب

اسلام دینِ رحمت ہے۔ نماز جیسی اہم عبادت، جسے رب سے مناجات کا درجہ دیا گیا ہے، کے درمیان بھی اگر اس طرح کی کوئی صورتِ حال پیدا ہوجائے جس میں خود اپنے یا دوسرے کی جان چلے جانے یا تکلیف پہنچنے کا صحیح اندیشہ ہو تو اس کے ازالے کی خاطر مخصوص صورتوں میں نماز جیسی عبادت کو بھی توڑنے کی اجازت ہوتی ہے۔

پس اگر جماعت کے دوران کوئی نمازی نماز پڑھتے پڑھتے گر جائے، اور اس کا یہ گرنا حادثاتی صورت کا ہو، جیسے بعض لوگ بلڈ پریشر یا شوگر کے بڑھ جانے یا کم ہو جانے کی وجہ سے گرجاتے ہیں، یا کچھ لوگوں کو اچانک ہارٹ اٹیک ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے وہ گر پڑتے ہیں، ایسے لوگوں کو اگر فوراً کوئی طبّی امداد فراہم نہ کی جائے تو اُن کی حالت مزید بگڑ سکتی ہے، بلکہ بعض دفعہ تو ایسے لوگ اپنی جان سے بھی چلے جاتے ہیں۔ یونہی عام طور پر مرگی کے مریض دورہ پڑنے کی وجہ سے گرجاتے ہیں، ایسے مریضوں کو بھی اس حالت میں کسی شخص کی مدد کی حاجت ہوتی ہے جو اُنہیں کسی محفوظ جگہ پر لے جا کر کروٹ کے بل لٹا دے اور ضرورت پڑنے پر اُنہیں طبّی امداد دے سکے۔

لہذا اگر کوئی شخص غیر معمولی طور پر گر جائے اور اپنے غالب گمان کے مطابق حادثاتی صورت محسوس ہو، نیز وہاں سنبھالنے والا کوئی دوسرا شخص بھی موجود نہ ہو، تو قریبی نمازی ایسے گرنے والے شخص کے مرض کو قابو کرنے اور اُس سے اذیت کو دور کرنے کی غرض سے اپنی نماز توڑ سکتا ہے، بلکہ جہاں شدید نقصان سے بچانے کی صورت ہو وہاں اگر نمازی ایسے گرنے والے شخص کی مدد پر قادر ہو تو اُس پر واجب ہے کہ اپنی نماز توڑ دے اور اُس کی مدد کرے۔

واضح رہے کہ جب ایک شخص اس وجہ سے نماز توڑ چکا ہے تو اب دوسرے کے لئے نماز توڑنے کی اجازت اسی وقت ہوگی جبکہ اس کی بھی ضرورت ہو؛ مثلاً اسے اٹھا کر کسی دوسری جگہ طبی امداد وغیرہ کے لئے لے جانا ہو اور وہ شخص اکیلے اٹھا نہیں پا رہا، تو ایسی صورت میں اجازت ہوگی، اور جہاں ضرورت نہیں وہاں اجازت بھی نہیں ہوگی۔

نماز کے دوران تکلیف پہنچنے کا صحیح اندیشہ ہو تو اس کے ازالے کی اجازت ہے، چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

اقتلوا الأسودين في الصلاة الحية والعقرب

سانپ بچھو کو قتل کردو اگرچہ نماز میں ہو۔ (سنن ابی داؤد، ج01، ص346، رقم921، المكتبة العصرية، بيروت(

اسی بنیاد پر فقہائے عظام نے یہ مسئلہ بیان فرمایا کہ دوران نماز اگر کسی دوسرے کو بھی تکلیف پہنچنے کا غالب گمان ہو، تو اس کے ازالے کےلئے بھی نماز توڑنے کی اجازت ہے اور اگر نقصان شدید ہو تو واجب ہے۔در مختار مع رد المحتار میں ہے:

( ويجب لإغاثة ملهوف) سواء استغاث بالمصلي أو لم يعين أحدا في استغاثته إذا قدر على ذلك، ومثله خوف تردي أعمى في بئر مثلا إذا غلب على ظنه سقوط

اور کسی مصیبت زدہ کی مدد کیلئے نماز توڑدینا واجب ہے، چاہے وہ نمازی کو پکارتا ہو یا اس نے پکارنے میں کسی کو معین نہ کیا ہو (بلکہ مطلقاً کسی شخص کو پکارتا ہو، اوراس صورت میں نماز توڑنا اس وقت واجب ہے) جبکہ نماز ی اس کی مدد پر قادر ہو۔ اور اس کی مثل اندھے کے مثلاً کنویں میں گرنے کا خوف ہے جبکہ اس کے گرنے کے متعلق ظن غالب ہو۔ (در مختار مع رد المحتار، ج01، ص654، دار الفکر)

ضروری نہیں کہ جب ہلاکت کا اندیشہ ہو جب ہی نماز توڑے بلکہ اس سے کم میں بھی توڑ نے کی اجازت ہے، نیز یہ معلوم ہونا بھی ضروری نہیں مصیبت زدہ کس تکلیف میں ہے۔ شامی میں ہے:

ظاهره ولو في أمر غير مهلك۔۔۔ وإن لم يعلم ما حل به وكان له قدرة على إغاثته وتخليصه وجب عليه إغاثته وقطع الصلاة

عبارات کا ظاہر یہی ہے کہ معاملہ ہلاکت کی حد تک ہونا ضروری نہیں بلکہ اگر اس سے کم ہے، نیزیہ بھی معلوم نہ ہو کہ وہ کس مصیبت میں ہے، پھر بھی اگر مدد کرنے پر قدرت ہےتو نماز توڑ کر اس کی مدد کرنا واجب ہے۔ (ملتقطا از رد المحتار، ج02، ص51، دار الفکر)

نیز مصیبت زدہ کا پکارنا بھی ضروری نہیں بلکہ اگر خود بھی دیکھ رہا ہے کہ وہ مصیبت میں ہے جب بھی نماز توڑنے کی اجازت ہے۔ رد المحتار علی الدر المختار ميں ہے:

’’جاز قطع الصلاة لخوفه على نفس غيره کخوف من تردي أعمى وأمثال ذلك

کسی دوسرے کی جان کا خطرہ ہونے کی وجہ سے نماز توڑدینا جائز ہے، جیسے اندھے کے کنویں میں گرنے کا خوف ہو، نیز اس طرح کی دوسری صورتیں۔ (ملتقطا از رد المحتار، ج02، ص463، دار الفكر)

الفقہ الاسلامی وادلتہ میں ہے:

تقطع الصلاة ولو فرضًا باستغاثة شخص ملهوف، ولو لم يستغث بالمصلي بعينه، كما لو شاهد إنسانًا وقع في الماء، أو صال عليه حيوان، أو اعتدى عليه ظالم، وهو قادر على إغاثته.لما في ذلك من إحياء النفس وإمكان تدارك الصلاة بعد قطعها، لأن أداء حق الله تعالى مبني على المسامحة

کوئی شخص مدد کے لئے پکارہا ہے، تو چاہے فرض نماز ہی کیوں نہ ہو اسے توڑدے  اگرچہ خاص نمازی کو نہ پکار رہا ہو، جیسا کہ کسی کو پانی میں ڈوبتے ہوئے دیکھے یا اس پر کسی حیوان نے حملہ کردیا ہو یا وہ کسی ظالم کے ہاتھ لگ گیا ہو، اور یہ مدد پر قادر ہو، کیونکہ اس میں نفس کا احیاء ہے، نیز نماز تو توڑنے کے بعد بھی مکمل کی جاسکتی ہے کہ حقوق اللہ کی ادائیگی آسانی پر مبنی ہوتی ہے۔ (الفقہ الاسلامی وادلتہ، ج02، ص1053، دار الفكر - سوريَّة دمشق)

بہار شریعت میں ہے: ’’   کوئی مصیبت زدہ فریاد کر رہا ہو، اسی نمازی کو پُکار رہا ہو یا مطلقاً کسی شخص کو پُکارتا ہو یا کوئی ڈوب رہا ہو یاآگ سے جل جائے گا یا اندھا راہ گیر کوئيں میں گرا چاہتا ہو، ان سب صورتوں میں(نماز) توڑ دینا واجب ہے، جبکہ یہ اس کے بچانے پر قادر ہو۔‘‘ (بہار شریعت، ج1، ص637-638، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری

فتوی نمبر: HAB-0688

تاریخ اجراء: 11جمادی الثانی1447ھ/03دسمبر 2025 ء