بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ اگر کسی عذر کی وجہ سے جمعہ کی پہلی والی چار سنتیں رہ جائیں، تو فرض کے بعد ان کو ادا کرنے کا کیا طریقہ ہوگا؟
سائل: (فرحان عطاری، دھوراجی)
اگر کسی شخص کی جمعہ کی پہلی والی چار سنتیں رہ جائیں تو فرض کی ادائیگی کے بعد انہیں پڑھنا ہوگا اور افضل یہ ہے کہ پہلے نمازِ جمعہ کے بعد والی سنتیں پڑھے پھر اُس کے بعد رہ جانے والی سنت قبلیہ ادا کرے، اس لیے کہ حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز ظہر کی سنتوں کے متعلق یہی طریقہ ثابت ہے اور نماز ظہر اور نماز جمعہ دونوں کی سنت قبلیہ کا ایک ہی حکم ہے، نیز یہی طریقہ عقل کے مطابق بھی ہے کہ پہلے والی چار سنتیں تو اپنی جگہ سے ہٹ ہی چکی ہیں، بعد والی سنتیں تو اپنی جگہ پر قائم رہنی چاہئیں۔
سنن ابن ماجہ شریف میں حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:
کان رسول ﷲ صلی اللہ علیه و آله و سلم إذا فاتته الأربع قبل الظهرصلاهابعدالرکعتین بعدالظهر
ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جب ظہر سے قبل کی چار رکعتیں رہ جاتیں تو انہیں ظہر کی دو رکعت پڑھنے کے بعد ادا فرماتے۔ (سنن ابن ماجہ، جلد 2، صفحہ 237، حدیث 1158، طبع: دار الرسالة العالمية)
یہی حکم جمعہ کی سنت قبلیہ کا بھی ہے، بحر الرائق میں ہے:
حكم الأربع قبل الجمعة كالأربع قبل الظهر كما لا يخفى
ترجمہ: جمعہ کی چار رکعات سنت قبلیہ کا حکم ظہر کی چار رکعات سنت قبلیہ کی طرح ہےجیساکہ مخفی نہیں۔ (البحر الرائق، جلد 2، صفحہ 81، طبع: بیروت)
جد الممتار میں ہے:
ان الحاق سنۃ الجمعۃ بسنۃ الظھر بدلیل المساواۃ
یعنی جمعہ کی سنتوں کا ظہر کی سنتوں سے الحاق مساوات کی وجہ سے ہے۔ ( جد الممتار، جلد 3، صفحہ 516، طبع: بیروت)
تنویر الابصار ودر مختار میں ہے:
(بخلاف سنة الظهر) وكذا الجمعة (فإنه) إن خاف فوت ركعة (يتركها) و يقتدي (ثم يأتي بها) على أنها سنة (في وقته) أي الظهر (قبل شفعه) عند محمد،وبه يفتى
ترجمہ: برخلاف ظہر اور اسی طرح جمعہ کی سنتوں کے، کیونکہ اگر کسی کو جماعت کی رکعت فوت ہونے کا خوف ہو تو یہ ان کو چھوڑ دے اور امام کی اقتدا کرے پھر اس وجہ سے کہ یہ سنت ہیں ان کو ظہر کے وقت میں ظہر کے بعد والی دو رکعتوں سے پہلے ادا کرے، یہ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک ہے اور اسی پر فتوٰی دیا جاتا ہے۔
رد المحتار میں علامہ شامی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں:
(قوله و به يفتى) أقول: و عليه المتون، لكن رجح في الفتح تقديم الركعتين. قال في الإمداد: و في فتاوى العتابي أنه المختار، و في مبسوط شيخ الإسلام أنه الأصح لحديث عائشة «أنه عليه الصلاة و السلام كان إذا فاتته الأربع قبل الظهر يصليهن بعد الركعتين» و هو قول أبي حنيفة، و كذا في جامع قاضي خان
ترجمہ: (ماتن کا قول کہ اسی پر فتوی دیا جاتا ہے)، میں کہتا ہوں کہ متون بھی اسی قول کی تائید کرتے ہیں لیکن فتح القدیر میں بعد والی دو رکعتوں کا پہلے ادا کرنا راجح قرار دیا گیا ہے، امداد الفتاح میں فرمایا: اور فتاوٰی عتابی میں ہے کہ یہی مختار ہے اور مبسوط شیخ الاسلام میں ہے کہ یہی زیادہ صحیح ہے، کیونکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث ہے کہ جب حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی ظہر سے پہلے والی چار سنت رکعتیں رہ جاتیں تو آپ علیہ السلام ان کو (بعد والی) دو رکعتوں کے بعد پڑھا کرتے تھے، اور یہی امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا قول ہے اور اسی طرح جامع قاضی خان میں ہے۔ (تنویر الابصار در مختار مع رد المحتار، جلد 2، صفحہ 59، طبع: بیروت)
بہار شریعت میں ہے: ظہر یا جمعہ کے پہلے کی سنت فوت ہوگئی اور فرض پڑھ لئے تو اگر وقت باقی ہے بعد فرض کے پڑھے اور افضل یہ ہے کہ پچھلی سنتیں پڑھ کر ان کو پڑھے۔ (بہار شریعت، جلد 01، حصہ 04، صفحہ 664، طبع: مکتبۃ المدینہ)
فتاوٰی امجدیہ میں ہے: ظہرکے قبل کی سنتیں جب کہ جماعت کی وجہ سے فوت ہوجائیں تو فرض کے بعد پڑھی جائیں گی۔ رہا یہ امر کہ پہلے یہ پڑھی جائیں یا سنت بعدیہ؟ اس میں روایتیں مختلف آئیں۔ اور بہتر یہ ہے کہ پہلے بعد والی پڑھ لیں پھر چار قبل والی پڑھیں کہ قبلیہ تو بہرحال اپنی جگہ پر نہ رہیں پھر بعدیہ کو کیوں بلا وجہ اپنی جگہ سے ہٹادیں گے، نیز حدیث سے بھی یہی ثابت۔ (فتاوٰی امجدیہ، جلد 01، صفحہ 270، طبع: مکتبہ رضویہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: HAB-0675
تاریخ اجراء: 04 جمادی الاخری 1447ھ / 26 نومبر 2025ء