خطبہ کے دوران سلام کرنا یا جواب دینا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
خطبہ کے دوران سلام کرنا اور جواب دینا
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائےدین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ خطبہ میں بیٹھے ہوئے شخص کو سلام کرنا کیسا؟ اور اگر کوئی سلام کردے تو جواب دیا جائے یا نہیں؟، برائے مہربانی رہنمائی فرمادیں۔
جواب
خطبہ خواہ جمعہ کا ہو یا کوئی اور مثلا عیدین و نکاح وغیرہ کا خطبہ، سب حاضرینِ خطبہ پر خاموشی سے سننا فرض ہے اور جو چیزیں دورانِ نماز حرام ہیں وہ دورانِ خطبہ بھی حرام ہیں، لہذا دورانِ خطبہ سلام کرنا شرعا جائز نہیں اور اس سلام کا جواب دینا بھی جائز نہیں بلکہ اگر کوئی سلام کرے تو خاموشی سے بغیر کوئی جواب دیے خطبہ سماعت کرے اور خطبہ مکمل ہونے کے بعد احسن انداز سے سلام کرنے والے کو شرعی مسئلہ سمجھادے تاکہ وہ آئندہ دورانِ خطبہ کسی کو سلام نہ کرے اور جواب نہ ملنے پر بدگمانی کا شکار نہ ہو۔
یاد رہے! شرعی مسئلہ دورانِ خطبہ نہ سمجھائے کہ دورانِ خطبہ شرعی مسئلہ بتانے کی بھی شرعا اجازت نہیں۔
خطبہ خواہ کوئی بھی ہو، خاموشی سے سننا فرض ہے، جیسا کہ محمد بن علی علاؤ الدین حصکفی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ در مختار میں لکھتے ہیں: يجب الاستماع لسائر الخطب كخطبة نكاح و خطبة عيد و ختم علی المعتمد“ ترجمہ: خطبہ نکاح اور خطبہ عید و خطبہ ختم قرآن تمام خطبوں کو سننا معتمد قول کے مطابق واجب ہے۔ (الدر المختار مع الرد، جلد 3، صفحہ 40، مطبوعہ کوئٹہ)
مجدد اعظم امام اہلسنت مولانا الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن فتاوی رضویہ میں فرماتے ہیں: کتب دینیہ میں تصریح ہے کہ ہرخطبے حتی کہ خطبہ نکاح و خطبہ ختم قرآن کا سننا بھی فرض ہے اور ان میں غل کرنا حرام حالانکہ خطبہ نکاح صرف سنت ہے اور خطبہ ختم نرا مستحب۔ (فتاوی رضویہ، جلد 24، صفحہ 170، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
دورانِ خطبہ سلام کرنا اور جواب دینا دونوں ناجائز و گناہ ہے، جیسا کہ علامہ شامی علیہ الرحمہ ایک مقام پر لکھتے ہیں: أنه يأثم بالسلام على المشغولين بالخطبة أو الصلاة ۔ ۔ و أنه لا يجب الرد“ ترجمہ: جو لوگ خطبہ ونماز میں مشغول ہوں، انہیں سلام کرنا گناہ ہے اور اس کا جواب دینا واجب نہیں۔ (رد المحتار، جلد 2، صفحہ 453، مطبوعہ کوئٹہ)
جو چیزیں دورانِ نماز حرام ہیں وہ دورانِ خطبہ بھی حرام ہیں، جیسا کہ در مختار میں ہے: ’’کل ما حرم فی الصلوۃ حرم فیھا ای فی الخطبۃ فیحرم اکل و شرب و کلام و لو تسبیحاً او رد السلام او امر بمعروف بل یجب علیہ ان یستمع و یسکت بلا فرق بین قریب و بعید‘‘ ترجمہ: ہر وہ کام جو نماز میں حرام ہے، خطبہ میں بھی حرام ہے، لہذا کھانا، پینا، کلام کرنا اگرچہ تسبیح ہو یا سلام کا جواب یا نیکی کا حکم ہو، دورانِ خطبہ حرام ہے، بلکہ اس پر واجب ہے کہ (خطیب) کا دور و نزدیک کا فرق کیے بغیر خطبہ سنے اور خاموش رہے۔ (الدر المختار مع الرد، جلد 3، صفحہ 39، مطبوعہ کوئٹہ)
فتاوی رضویہ میں ہے: خلاصہ و بزازیہ و خزانۃ المفتین و مجتبیٰ و جلابی و حلیہ و جامع الرموز و بحرالرائق و نہر الفائق و مراقی الفلاح و تنویر الابصار و در مختار و طحطاوی علی المراقی و منحۃ و ہندیہ و منحۃ الخالق و غیرہا عامۂ کتب مذہب میں صاف تصریح ہے کہ جو فعل نماز میں حرام ہے خطبہ ہونے کی حالت میں بھی حرام ہے ۔ ۔ جواب سلام دینا، امر بالمعروف کرنا تو واجب تھے اور بحالت خطبہ حاضرین پر حرام ہوئے، غنیہ میں ہے: لا یقال رد السلام فرض فلا یمنع منہ لانا نقول ذلک اذا کان السلام ماذونا فیہ شرعا و لیس کذلک فی حالۃ الخطبۃ بل یرتکب فاعلہ اثما" یعنی: یہ اعتراض نہیں کیا جاسکتا کہ سلام کا جواب دینا فرض ہے، لہذا اس سے منع نہ کیا جائے، کیونکہ ہم جواباً کہیں گے فرض وہاں ہے جہاں شرعاً سلام کرنے کی اجازت ہو حالانکہ حالتِ خطبہ میں اس کی اجازت نہیں بلکہ ایسا عمل کرنے والا گنہگار ہوگا۔ (فتاوی رضویہ، جلد 8، صفحہ 330 تا 334، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
بہار شریعت میں ہے: جو چیزیں نماز میں حرام ہیں مثلاً کھانا پینا، سلام و جواب سلام وغیرہ یہ سب خطبہ کی حالت میں بھی حرام ہیں یہاں تک کہ امر بالمعروف، ہاں خطیب امر بالمعروف کر سکتا ہے، جب خطبہ پڑھے تو تمام حاضرین پر سننا اور چپ رہنا فرض ہے۔ (بھار شریعت، جلد 1، حصہ 4، صفحہ 774، مکتبۃ المدینہ)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی فضیل رضا عطاری
فتویٰ نمبر: Har-7151
تاریخ اجراء: 13 جمادی الاولیٰ 1447ھ / 05 نومبر 2025ء