نماز میں پاؤں سے خون نکل آئے تو کیا حکم ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
دوران نماز پاؤں پہ کانچ لگنے سے خون نکل آیا تو نماز کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ نماز پڑھ رہے تھے، اور پاؤں کے نیچے کانچ تھا، وہ چبھ گیا، اور خون نکل گیا، تو نماز ہو جائے گی یا نہیں
جواب
پاؤں کے نیچے کانچ لگا، اور خون نکل آیا، تو اگر خون فقط جلد پر چمکا، مگر اس جگہ سے نکل کر بہا نہیں، تو وضو نہیں ٹوٹا، لہذا دیگر شرائط و فرائض کے ساتھ نماز ادا کی، تو نماز ہو گئی، اور اگر زخم کے سرے سے نکل کر بہہ گیا، تو وضو ٹوٹ گیا، اور نماز بھی ٹوٹ گئی، اب نماز کو نئے سرے سے پڑھنا ضروری ہوگیا۔ فتاوٰی عالمگیری میں ہے "و إن قشرت نفطة وسال منها ماء أو صديد أو غيره إن سال عن رأس الجرح نقض و إن لم يسل لا ينقض" ترجمہ: اور اگر چھالہ نوچا گیا، اور اس سے پانی یا کچ لہو وغیرہ نکلا، اگروہ زخم کے سرے سے نکل کر بہہ گیا، تو وضو ٹوٹ گیا، اور اگر نہ بہا، تو وضو نہیں ٹوٹے گا۔ (فتاوٰی عالمگیری، کتاب الطھارۃ، جلد 1، صفحہ 13، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
کنز الدقائق میں ہے "ينقضه خروج نجس منه" ترجمہ: باوضو شخص کے جسم سے ہر نکلنے والی نجس چیز وضو کو توڑ دیتی ہے۔
اس کے تحت حاشیہ شلبی میں ہے "و الخروج بمجرد الظهور في السبيلين و في غيرهما بالسيلان إلى موضع يلحقه حكم التطهير" ترجمہ: سبیلین سے نکلنے سے مراد اس نجاست کا فقط ظاہر ہونا ہے جبکہ غیر سبیلین میں اس نجاست کا ایسے عضو تک بہنا مراد ہے جسے وضو یا غسل میں دھونا فرض ہے۔ (کنز الدقائق و حاشیۃ الشلبی، جلد 01، صفحہ 45، مطبوعہ: کوئٹہ)
فتاوی عالمگیری میں ہے ”و لو دخل الشوك في رجل المصلي أو سجد فدخل الشوك في جبهته فسال منه الدم من غير قصده لا يبني“ اگر نمازی کے پاؤں میں کانٹا چبھا یا سجدہ کیا تو پیشانی میں کانٹا چبھا اور اس کے قصد کے بغیر خون بہہ گیا تو وہ بنا نہیں کر سکتا (نئے سرے سے نماز پڑھے گا)۔ (فتاوی عالمگیری، جلد 1، صفحہ 104، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
فتاوی رضویہ میں ہے بہنا کہ اُبھر کر ڈھلک بھی جائے یا کسی مانع کے باعث نہ ڈھلکے تو فی نفسہ اتنا ہو کہ مانع نہ ہوتا تو ڈھلک جاتا ۔۔۔۔۔ یہ شکل ہمارے ائمہ کے اجماع سے ناقضِ وضو ہے۔ (فتاوٰی رضویہ، جلد 01 (حصہ الف)، صفحہ 372، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
بہار شریعت میں ہے خون یا پیپ یا زردپانی کہیں سے نکل کر بہا اور اس بہنے میں ایسی جگہ پہنچنے کی صلاحیت تھی جس کا وُضو یا غسل میں دھونا فرض ہے تو وُضو جاتا رہا۔ (بہار شریعت، جلد 01، حصہ 2، صفحہ 304، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا اعظم عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5060
تاریخ اجراء: 16 ذو الحجۃ الحرام 1447ھ / 02 جون 2026ء