شرعی طور پر تین دن کے متصل سفر کے ارادے کے ساتھ اپنی بستی کی آبادی سے نکلتے ہی آدمی مسافر ہو جاتا ہے اور موجودہ دور میں رائج پیمانوں کے حساب سے تین دن کے زمینی سفر کی مقدار ساڑھے ستاون میل (57.6 Miles) ہے جو کہ تقریباً بانوے کلومیٹر (92.7 Km) بنتے ہیں، لہذا جو شخص اتنا یا اس سے زائد کا سفر کرنے کی نیت کے ساتھ اپنے شہر سے باہر جاتا ہے تو آبادی سے نکلتے ہی اس پر فرض نماز میں قصر کرنے کا حکم لاگو ہو جاتا ہے یعنی وہ ظہر، عصر اور عشا کے چار رکعتی فرضوں کو دو پڑھے گا، اگرچہ ابھی آبادی کے باہر سفر شروع ہی ہوا ہو۔
امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ/1921ء) لکھتے ہیں:
”(المسافر) من جاوز عمران موطنه قاصدا ميسرة ثلاثة ايام“
ترجمہ: جو شخص تین دن کے سفر کے ارادے کے ساتھ اپنے وطن کی آبادی سے باہر نکل جائے وہ مسافر ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 8، صفحہ 243، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: ”اگر اپنے مقام اقامت سے 57½ (ساڑھے ستاون)میل کے فاصلے پر علی الاتصال جانا ہو کہ وہیں جانا مقصود ہے، بیچ میں جانا مقصود نہیں، اور وہاں پندرہ دن کامل ٹھہرنے کا قصد نہ ہو تو قصر کریں گے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 8، صفحہ 270، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
سیدی اعلی حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ایک مقام پر لکھتے ہیں: ” دس بیس بلکہ چھپن میل تک ہو (تو بھی شرعی) سفر نہ ہوگا۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 8، صفحہ 252، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
امام اہل سنت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ جدید پیمائش کے مطابق شرعی مسافت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
”والمعتاد المعهود في بلادنا أن كل مرحلة ١٢ كوس، وقد جربت مراراً كثيرة بمواضع شهيرة أن الميل الرائج في بلادنا خمسة أثمان كوس المعتبر هاهنا فإذا ضربت الأكواس في ۸ وقسم الحاصل على ۵ كانت أميالاً فإذن أميال مرحلة واحدة ۱۹، ۱/۵ وأميال مسيرة ثلاثة أيام ٥٧، ۳/۵ أعني: ۶ء۵۷“
ترجمہ: اور ہمارے بلاد میں معمول اور معروف یہ ہے کہ ہر منزل بارہ کوس کی ہوتی ہے، اور میں نے مشہور مقامات پر بہت مرتبہ تجربہ کیا ہے کہ ہمارے علاقوں میں رائج میل یہاں معتبر کوس سے ⅝ ہے (یعنی 0.625 کوس برابر ایک میل کے ہے)۔ پس جب کوسوں کو آٹھ سے ضرب دی جائے اور حاصل ضرب کو پانچ پر تقسیم کیا جائے تو حاصل قسمت میل ہوں گے، لہذا ایک منزل کے میل انیس مع میل کا ایک پانچواں حصہ (⅕19یعنی 19.2 میل) ہوئے، اور تین دن کی مسافت کے میل ستاون مع میل کے تین پانچویں حصے (⅗57) ہوئے، یعنی 57.6 میل۔ (جد الممتار، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ المسافر، جلد 3، صفحہ 562-563، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
شارح بخاری مفتی شریف الحق امجدی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1421ھ/2000ء) لکھتے ہیں: ”احناف کا صحیح مذہب یہ ہے کہ تین منزل کی دوری پر جانے کا قصد ہو تو وہ مسافر ہے، مگر اب منزلیں ختم ہو گئیں، ہوائی جہاز پر سفر ہونے لگا، اس لیے اس زمانے میں میلوں سے اس کی تعیین ضروری ہوئی۔ اعلیٰ حضرت امام احمدرضا قدس سرہ نے مختلف منازل کے فاصلوں کو سامنے رکھ کر حساب لگایا تو اوسطاً تین منزل کی مسافت ساڑھے ستاون میل ہوئی، جو موجودہ اعشاریہ پیمانے سے بانوے کلومیٹر ہے۔“ (نزھۃ القاری شرح صحیح بخاری، جلد 2، صفحہ 535، فرید بک سٹال، لاہور)
مجلس شرعی بریلی شریف کے فیصلہ جات میں ہے: ”امام اہل سنت اور صدر الشریعہ علیہما الرحمہ نے مسافت سفر ⅗57میل بیان فرمائی ہے، موجودہ کلومیٹر کے مطابق باتفاق مندوبین اس کی مقدار 92.698 کلومیٹر طے ہوئی، جو 7⁄10 92 کلومیٹر ہوئے۔ سفر شرعی کا تحقق منتہائے آبادی سے نکلنے پر ہوگا، یوں ہی جس شہر میں داخل ہونا ہے اس کی آبادی میں داخل ہونا مراد ہے، جائے قیام پر پہنچنے کا اعتبار نہیں۔“ (فیصلہ جات شرعی کونسل، صفحہ 260، مرکز الدرسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا، بریلی)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1367ھ/1948ء) لکھتے ہیں: ”شرعاً مسافر وہ شخص ہے جو تین دن کی راہ تک جانے کے ارادہ سے بستی سے باہر ہوا۔ ...مسافر کا حکم اس وقت سے ہے کہ بستی کی آبادی سے باہر ہو جائے، شہر میں ہے تو شہر سے، گاؤں میں ہے تو گاؤں سے اور شہر والے کے لیے یہ بھی ضرور ہے کہ شہر کے آس پاس جو آبادی شہر سے متصل ہے اس سے بھی باہر ہو جائے۔ ...مسافر پر واجب ہے کہ نماز میں قصر کرے یعنی چار رکعت والے فرض کو دو پڑھے، اس کے حق میں دو ہی رکعتیں پوری نماز ہے۔ “ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 4، صفحہ 740 -744 ملتقطاً، مکتبة المدینہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتوی نمبر: FAM-1036
تاریخ اجراء: 5 رجب المرجب 1447ھ/26 دسمبر 2025ء