logo logo
AI Search

تہجد کے نوافل فجر کی سنت کے برابر ہوسکتے ہیں؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

تہجد پڑھتے ہوئے فجر کا ٹائم شروع ہوجائے تو سنتیں ادا ہوجائیں گی؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کوئی نمازِ تہجد ادا کر رہا ہو اور اِسی دوران فجر کا وقت شروع ہو جائے تو کیا وہ دو نفل تہجد، سنتِ فجر کے قائم مقام ہو جائیں گے؟

سائل: محمد شہباز عطاری

جواب

اگر کسی شخص نے فجر کا وقت داخل ہونے کے بالکل قریب تہجد کی نماز شروع کی اور دورانِ نماز فجر کا وقت شروع ہو گیا، تو وہ دو رکعتیں تہجد ہی قرار پائیں گی، سنتِ فجر کے قائم مقام نہیں ہوں گی، لہذا جب تہجد کا سلام پھیر لے، تو دو ررکعت سنت الگ سے ادا کرے۔

خزانۃ المفتین، تبیین الحقائق، الجوھرۃ النیرۃ، البنایۃ، حاشیۃ ابن عابدین اور الفتاوٰی الھندیۃ میں ہے:

النظم للھندیۃ؛ من صلى تطوعا في آخر الليل فلما صلى ركعة طلع الفجر كان الإتمام أفضل؛ لأن وقوعه في التطوع بعد الفجر لا عن قصد و لا تنوبان عن سنة الفجر۔

ترجمہ: جس شخص نے رات کے آخری حصے میں نفل نماز پڑھی اور جب ایک رکعت پڑھ لی تو فجر طلوع ہوگئی تو اس کے لیے نماز مکمل کرنا افضل ہے؛ کیونکہ فجر کے بعد نفل کا پایا جانا قصداً نہیں تھا اور یہ دو رکعتیں فجر کی سنتوں کے قائم مقام نہیں ہوں گی۔ (الفتاوى الھندیۃ، جلد 01، صفحہ 52،مطبوعہ کوئٹہ)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال: 1367ھ / 1947ء) لکھتے ہیں: اگر کوئی شخص طلوع فجر سے پیشتر نماز نفل پڑھ رہا تھا، ایک رکعت پڑھ چکا تھا کہ فجر طلوع کر آئی تو دوسری بھی پڑھ کر پوری کرلے اور یہ دونوں رکعتیں سنت فجر کے قائم مقام نہیں ہو سکتیں۔ (بھار شریعت، جلد 1، صفحہ 455، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)

جب وقتِ فجر شروع ہو جائے تو اب وہ وقت صرف سنتِ فجر کےلیے ہی متعین ہے، اُس وقت کسی نفل کی اجازت نہیں، حتی کہ اگر وقتِ فجر شروع ہونے کے بعد نفل کی نیت سے دو رکعتیں پڑھی، تو وہ خودبخود سنتِ فجر قرار پائیں گی، چنانچہ علامہ زَیْلَعی حنفی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال: 743ھ / 1342ء) لکھتے ہیں:

لأن الوقت متعين لها حتى لو نوى تطوعا كان عن سنة الفجر من غير تعيين منه۔

ترجمہ: کیونکہ یہ وقت سنتِ فجر کے لیے ہی متعین ہے، یہاں تک کہ اگر کسی نے اِس وقت میں نفل کی نیت بھی کی تو اُس کی تعیین کے بغیر ہی وہ دو رکعتیں فجر کی سنتیں قرار پائیں گی۔ (تبیین الحقائق، جلد 1، کتاب الصلاۃ، صفحہ 87، مطبوعہ مصر)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-9669
تاریخ اجراء: 20 جمادی الاخری 1447ھ / 12 دسمبر 2025ء